• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پھر وہی جہدِ مسلسل، پھر وہی فکرِ معاش…

عالمی مالیاتی فورمز، جیسے آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی بینک اور متعدّد نجی اداروں نے 2025ء کو معاشی اعتبار سے ایک معمول کا سال قرار دیا کہ گزشتہ برس معاشی ترقّی کی رفتار عالمی سطح پر تیز رہی اور نہ ہی علاقائی بنیادوں پر۔ تاہم، اگر ترقّی میں تیزی دیکھنے میں نہیں آئی، تو دوسری طرف معیشت کو ایسے جھٹکے بھی نہیں لگے، جیسے عالمی وبا، کورونا کے دَوران دنیا کو سہنے پڑے تھے۔ترقّی کی رفتار3.2 رہی، جب کہ ماہرین نے 3.3 شرحِ نمو کا اندازہ لگایا تھا۔

ترقّی یافتہ معیشتوں کی شرحِ نمو 1.6، جب کہ ترقّی پذیر معیشتوں کی 4فی صد رہی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اِن ممالک میں زیادہ معاشی سرگرمی رہی۔ عمومی طور پر 2025ء کو غیر یقینی یا بدلتے حالات کا سال بتایا گیا، کیوں کہ اِن بارہ مہینوں میں سیاسی تنازعات کی وجہ سے جنگیں بھی ہوئیں اور معاشی مقابلے یا ٹیرف سے بھونچال بھی آیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اپریل کے بعد عالمی معاشی صُورتِ حال میں سُست روی دیکھنے میں آئی۔ دیکھا جائے، تو یہ وہی زمانہ تھا، جب چار جنگیں، ٹرمپ کے ٹیرف اعلانات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرت کے تحت ہونے والی تباہ کاریاں اپنے اثرات دکھا رہی تھیں۔ یہ جنگیں، جن میں پاک/بھارت، یوکرین/روس اور ایران/اسرائیل جنگیں شامل تھیں، گو مختلف علاقوں میں ہوئیں، لیکن ان کے اثرات کئی جہتوں سے دنیا بَھر پر مرتّب ہوئے۔

شاید اِس ضمن میں’’سیاسی عدم استحکام‘‘ کی اصطلاح مناسب رہے گی، جس سے ان جنگوں کے مجموعی اثرات کی بہت حد تک وضاحت ہو سکتی ہے۔گلوبلائزیشن کے بعد سے دنیا آپس میں بہت جُڑ چُکی ہے اور تیز رفتار ٹیکنالوجی کے وجہ سے مثبت اور منفی، دونوں طرح کے معاشی اشاریے فوراً دنیا بَھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

جنگیں بظاہر تو دو ممالک کے باہمی تنازعے سے جنم لیتی ہیں، لیکن جن علاقوں میں یہ ہو رہی ہوتی ہیں، وہاں کے جغرافیائی اثرات فوراً ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ ایران/اسرائیل جنگ کے دوران آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں اور تیل کی سپلائی میں خلل کے خوف نے ہر سمت اپنے اثرات مرتّب کیے۔ اسٹاک مارکیٹس کریش ہوئیں، معاشی ماحول میں خوف کی لہریں اُٹھیں اور سپلائی چین میں بھگدڑ مچی۔

اسی طرح چوتھے سال میں داخل ہوتی یوکرین جنگ بھی، دیکھا جائے، تو صدر پیوٹن کی طرف سے دنیا بَھر، خاص طور پر کم زور معیشتوں کے لیے کسی سزا سے کم نہیں۔ اس کے سبب اگر یورپی ممالک کو تیل یا گیس کے بحران سے نبرد آزما ہونا پڑا، تو کم زور معیشتوں کے حامل ممالک کو گندم، کھانے کے تیل اور دیگر اہم اجناس کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

کچھ ممالک نے روس سے سَستا تیل خرید کر فوائد سمیٹے، لیکن باقی دنیا، توانائی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں کے بوجھ تلے پِس گئی اور مشکل یہ ہے کہ صدر پیوٹن روسی مفادات سے آگے کچھ دیکھنے کو تیار ہی نہیں۔ روس کی سیکیوریٹی کے نام پر کسی بھی طور سیز فائر پر آمادہ نہیں۔ غالباً وہ سوویت یونین کے بکھرنے کا انتقام لے کر ہی دنیا کی جان چھوڑیں گے۔ اِسی عدم استحکام، پیداوار، مال اور اشیائے خورو نوش کی کمی نے معاشی طور پر کم زور ممالک کو ایسی ایسی شرائط پر قرضے لینے پر مجبور کیا، جن کا بوجھ اُن کے عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل رہا ہے۔

ان ممالک میں روزگار کے مواقع سکڑے، اثاثہ جات کی قیمتوں اور سرمائے کی منڈیوں میں کمی بھی اپنی جگہ موجود رہی، تاہم اُمید کی کرن بھی سامنے آئی کہ معاشی تعاون اور ترقیات کی تنظیم’’ OECD ‘‘کے مطابق عالمی ترقّی کی رفتار2.9 سے بڑھ کر3.2 ہو رہی ہے، جس میں نئی ٹیکنالوجی کا اہم حصّہ ہے، اِسی لیے اب دنیا بَھر کے ممالک، چھوٹے ہوں یا بڑے، نئی ٹیکنالوجی، خاص طور پر آرٹیفشل انٹیلی جینس کے فروغ کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم، اِس ٹیکنالوجی کے معاشرتی اثرات پر بھی نئی بحث چِھڑ گئی ہے۔ بیش تر ممالک کے زرِمبادلہ کے ذخائر، جس کا براہِ راست تعلق اُن کے محفوظ اور جاری سرمائے سے ہے، دباؤ میں رہے۔ زرِمبادلہ کمانے کا واحد راستہ برآمدات میں اضافہ ہے۔

کنزیومر مارکیٹ کسی مُلک کی معمول کی معیشت کو تو سہارا دے سکتی ہے، مگر ترقّی کی بڑی چھلانگ، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، زرِمبادلہ میں اضافے کے بغیر ناممکن ہے۔ پاکستان کو جو بار بار قرضے لینے پڑتے ہیں اور روزگار کی کمی کا سامنا ہے، وہ اِسی ایکسپورٹ میں گراوٹ کی وجہ سے ہے۔

عالمی معیشت کی سُست رفتاری کے کئی اسباب ہیں۔اِن میں بہت سے ایسے عوامل اور رجحانات شامل ہیں، جو معیشت میں تیزی نہیں آنے دے رہے۔ ایک تو عالمی تجارت میں غیر یقینی کی کیفیت تھی۔ یہ بنیادی طور پر اُن ممالک کی وجہ سے رہی، جنہوں نے کوئی واضح پالیسی اختیار کرنے کی بجائے مبہم پالیسی کو ترجیح دی۔ غالباً وہ دنیا کو تذبذب کی حالت میں رکھنا چاہتے تھے اور اب بھی رکھ رہے ہیں، لیکن اِس پالیسی کے اثرات خُود اِن ممالک کے لیے مفید ثابت ہوں گے اور نہ دوسرے ممالک کے لیے۔ اِس ضمن میں سپلائی چین اور ٹیرف معاملات نہایت اہم ہیں۔

عالمی تجارت کا سپلائی چین پر دارومدار ہے، جس میں ایکسپورٹ اور امپورٹ شامل ہے، جسے ٹیکنالوجی نے مہینوں سے دِنوں میں تبدیل کردیا۔ اب دُور دراز کے ممالک سے مال منگوانا چند منٹس کی بات ہے۔ لیکن اگر یہ مال اندرون یا بیرونِ مُلک کسی ابہام کا شکار ہوجائے، تو پھر اس کی سپلائی بھی سُست پڑ جاتی ہے۔انتظار کرنے سے سرمائے کو نقصان پہنچتا اور منافعے میں کمی آتی ہے، جو کوئی بھی تجارت برداشت نہیں کرسکتی۔

گو، علی بابا اور ایمیزون جیسے عالمی بزنس کے بڑے آن لائن ادارے موجود ہیں، لیکن اگر ممالک کی پالیسیز شفّاف نہ ہوں، تو یہ کس طرح کام کر پائیں گے۔ اِسی طرح ٹیرف میں غیر معمولی اُتار چڑھاؤ نے بھی غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا کی۔ کتنا ٹیکس دینا ہے، اِسی پر منافعے کا انحصار ہوتا ہے، جب کہ صدر ٹرمپ کی روز بدلتی ٹیرف پالیسی نے ٹیکس معاملے میں بحران پیدا کیے رکھا۔

یاد رہے، ٹیرف، درآمدات پر ٹیکس کو کہتے ہیں۔ ٹرمپ کی اِس پالیسی نے دوست دیکھے، نہ مخالف۔ ایک دن کچھ اعلان، اگلے روز ٹیرف کی شرح میں زبانی بیان کے ذریعے کمی بیشی۔ اب ایسی غیر یقینی صُورتِ حال میں کون اور کیوں سرمایہ کاری کرے گا۔ لازمی امر ہے کہ اِس پالیسی سے تجارت میں رکاوٹ آئی۔ مال تیار کرنے والے ممالک ہوں یا اُسے خریدنے والے، سب ہی سودا کرتے ہوئے جھجک کا شکار رہے کہ جانے آنے والے دنوں میں ٹیرف پالیسی ٹیکسز میں کیا ردّو بدل کردے۔

سُست رفتار ترقّی کی ایک بڑی وجہ مُلکی معیشت پر مالیاتی دباؤ بھی قرار پایا۔ یہ دباؤ اُن قرضوں کی وجہ سے ہے، جن میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ کہیں آئی ایم ایف سے قرضے لیے گئے، تو کہیں کسی مُلک سے مالی تعاون حاصل کیا گیا۔ آئی ایم ایف قرضوں کے ساتھ مالیاتی اور معاشرتی اصلاحات بھی تجویز کرتا ہے اور کئی مواقع پر تو کلائنٹ کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتا ہے۔

یہ ادارہ اپنی بات منوانے کے لیے بہت آگے تک چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کئی ممالک میں اپنی مرضی کے وزیرِ خزانہ یا مالیات کے نگران متعیّن کرواتا ہے، جنہیں اپنے مُلکی عوام سے زیادہ، اِس ادارے سے وفاداری نبھانے کا فرض سونپا جاتا ہے۔ یہ حکّام جس طرح عوام پر ٹیکسز کے بوجھ لادتے ہیں، اُس میں بے رحمی کا عُنصر بھی شامل ہوجاتا ہے۔

چوں کہ یہ عوامی نمائندے نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قومی ویژن ہوتا ہے۔ بس آئی ایم ایف اُن کا اَن داتا ہے اور یہ اُس کی نوکری کرتے ہیں، جب کہ کسی بھی مُلک کی ترقّی اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک عوام اس میں شامل نہ ہوں۔ اگر عوام ہی کو پِیس دیا جائے، تو پھر ترقّی کیسے ہوگی۔ مایوسی کے ماحول میں آگے بڑھنا ممکن نہیں رہتا اور آئی ایم ایف کے مقرّر کردہ افراد بار بار عوام کا حوصلہ توڑتے ہیں، بہت سے ممالک میں یہی کچھ گزشتہ برس دیکھا گیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو کسی مُلک کی ساری صُورتِ حال سامنے رکھ کر ہی اپنی اصلاحاتی پالیسیز پر عمل کرنا چاہیے، کیوں کہ ٹیکسٹ بُک فارمولے انسانی معیشت میں مشکل ہی سے کام یاب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرامز، اصلاحات سے بنیادی خرابی تو دُور کردیتے ہیں، لیکن پائے دار ترقّی کا قومی ویژن نہیں دے پاتے۔ 2025ء میں بھی آئی ایم ایف پروگرامز لینے والے ممالک کا یہی حال رہا۔ اگر دو طرفہ قرضوں کی بات کریں، تو اس میں سود کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے اور بجٹ کا بڑا حصّہ ان کی ادائی میں خرچ ہوجاتا ہے، جب کہ ترقیاتی کاموں اور روزگار فراہمی کے لیے بہت کم سرمایہ بچ پاتا ہے۔

2025ء غریب اور کم زور معیشت کے حامل ممالک کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں رہا۔ پیداوار میں سُست رفتاری دیکھی گئی اور اگر اسٹرکچرل اصلاحات نہ کی گئیں، تو یہ معمول کی صُورتِ حال بن جائے گی۔ مختلف جنگوں کے اثرات، سیاسی عدم استحکام اور ٹیرف اعلانات نے مارکیٹ میں مسلسل غیریقینی کی صُورت رکھی۔اِس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بالعموم اور اجناس کی قیمتوں میں بالخصوص اُتار چڑھاؤ رہا۔یہ صورتِ حال عوام کے لیے منہگائی کی شکل میں سامنے آتی رہی۔

مِڈل کلاس اور نچلے طبقے کے لیے گھریلو بجٹ بنانا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔ اُدھر حکومتوں کے پاس بھی مالیاتی دباؤ کے سبب اِتنا سرمایہ نہیں تھا، جس سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جاسکتا۔ اِس ضمن میں سروس سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا، بلکہ تن خواہ دار طبقہ تو پِس کر رہ گیا اور حکومتیں ریلیف دینے میں بے بس رہیں۔ عوام میں مایوسی کی کیفیت رہی، جس کی جھلک پاکستان میں بھی دیکھی گئی اور مُلک چھوڑنے کے رجحان میں مزید اضافہ ہوا۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریاں معمول بن چُکی ہیں۔ گلیشیئرز کا پگھلنا، دریاؤں میں غیر معمولی طغیانی، سمندری طوفان اور سردی، گرمی میں شدّت کا سلسلہ گزشتہ برس بھی جاری رہا، جس نے معیشت کو بھی بُری طرح متاثر کیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر سال میں تین، چار عالمی کانفرنسز ہوئیں، جن میں’’قطر ڈائیلاگ‘‘ جیسا فورم بھی شامل تھا۔ کم زور معیشتوں کے حامل ممالک کی طرف سے بار بار فریاد کی گئی کہ اُنہیں وہ فنڈز فراہم کیے جائیں، جن کا وعدہ پیرس کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

نیز، بڑے ممالک کی جانب سے وہ اقدامات اُٹھائے جائیں، جن سے درجۂ حرارت کنٹرول میں رہے، لیکن یہ بھاگ دوڑ صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے امریکا کو اِس فورم ہی سے نکال لیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کو بچانے کے جن زرّیں خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے، وہ عمل سے خالی ہیں۔ ظاہر ہے، اِس کی قیمت مختلف ممالک کو مزید تباہی اور غربت کی شکل میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

ایک اہم اور بنیادی بات یہ بھی ہے کہ غریب ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق شعور و آگاہی اجاگر کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا۔ دراصل، یہ ممالک عدم استحکام اور معاشی دباؤ کی وجہ سے کچھ کرنے اور سوچنے کے قابل ہی نہیں۔ جب کوئی مصیبت یا مشکل درپیش آتی ہے، تب اِنہیں ہوش آتا ہے۔مثال کے طور میں پاکستان میں دریائے راوی کی خشک تہہ میں کالونیاں بنائی گئیں اور جب پانی آیا، تو یہ آبادیاں ڈوب گئیں۔

امریکا، چین، برطانیہ، روس اور یورپ کی معیشتیں سُست رہیں، جب کہ ترقّی پذیر معیشتوں کی کارکردگی بہتر رہی۔ ایشیا پیسیفک کی معاشی کارکردگی سب سے بہتر رہی۔یہ خطّے ویسے بھی اِس صدی کے اوائل ہی سے اپنی ترقّی کی رفتار اور شرحِ نمو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ لیکن انہیں برآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ کم آبادیاں ہونے کی وجہ سے اِن ممالک کی کنزیومر مارکیٹ بہت چھوٹی ہے۔

اِسی لیے پالیسی تبدیلیاں اِن ممالک کے لیے ہمیشہ ایک رسک رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں دو جنگوں کے باوجود معاشی صُورتِ حال بہتر رہی اور اس کی بنیادی وجہ تیل ہے۔ اِس کے علاوہ، سعودی عرب جیسے ممالک نے معاشی اصلاحات کی طرف بھرپور توجّہ دی اور اپنی معیشت میں دوسرے شعبے شامل کرنے شروع کیے۔

لاطینی امریکا اور کریبین میں ترقّی کی رفتار تو کم رہی، تاہم وہاں استحکام دیکھا گیا، جب کہ صحارا اور افریقا میں سیاسی عدم استحکام نے ترقّی کو منجمد کیے رکھا۔ قدرتی وسائل کی وجہ سے وہاں کی معیشتوں میں بڑے ممالک دل چسپی لیتے ہیں کہ یہ ان کی ٹیکنالوجی اور خام مال کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔اجناس کی قیمتوں میں استحکام کی وجہ سے عوام کو کچھ سہارا ملا، لیکن فی کس آمدنی بڑھنے کی رفتار بہت سُست رہی، جس کی وجہ سے معیارِ زندگی پَست ہی رہا۔

جنوبی ایشیا میں بھارت کے علاوہ تمام معیشتوں کی کارکردگی کم زور رہی۔ چوں کہ بھارت کی آبادی بڑی ہے، تو کنزیومر مارکیٹ اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، ٹیکنالوجی میں پیش رفت بھی زرِمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ برآمدات میں کمی سے پاکستان میں معاشی صُورتِ حال مشکل اور دباؤ میں رہی اور اسے زرِمبادلہ کے لیے تارکینِ وطن اور قرضوں پر انحصار کرنا پڑا، اِسی لیے شرحِ نمو بہت سُست رہی۔

تاہم، باقی ایشیائی معیشتوں کی نسبت پاکستان کی کارکردگی بہتر رہی، جس کا اعترف عالمی اداروں نے بھی کیا۔اگر ترقّی پذیر معیشتوں کی شرحِ نمو4 رہی اور پاکستان کی3.6 ، تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے، لیکن اکثر ماہرین اِس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ مُلکی صنعت کو وہ ترقّی نہیں مل رہی، جس سے اندرونی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ، بیرونِ مُلک مال برآمد بھی ہوسکے۔

اس میں ایک عُنصر توانائی کی قیمتوں کا ہے، تو کوالٹی کنٹرول کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی نے بھی درآمدات کو متاثر کیا۔

ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینا چاہتا ہے، تو اسے توانائی پر کنٹرول اور صنعتوں کے لیے خصوصی اصلاحات کرنی پڑیں گی تاکہ پیداواری صلاحیت بہتر ہو۔مُلک میں آرٹیفشل ٹیکنالوجی کا شور تو بہت ہے، تاہم لگتا ہے کہ جو اسے لیڈ کر رہے ہیں، اُنہیں عالمی تقاضوں کا زیادہ علم نہیں، اِسی لیے ٹھوس کام کی نسبت، سیاست زیادہ نظر آتی ہے۔

عالمی معیشت 2026 ء میں اِس اُمید کے ساتھ قدم رکھ رہی ہے کہ اس کی ترقّی کی رفتار بہتر ہو، خاص طور پر کم زور معیشتیں بہتر کارکردگی دِکھا سکیں اور دنیا کے ساتھ قدم ملا پائیں، وگرنہ غریب اور امیر کے درمیان بڑھتی خلیج مشکلات کا باعث ہوگی۔

سنڈے میگزین سے مزید