دنیا تیز رفتار تبدیلیوں کی زد میں ہے،اس کے اسباب پر ہی نہیں نتائج کے حوالے سے بھی ’آگاہ کر نے کے اہل ،ہمارے پاس ہیں مگر یہ وہ پاکستانی ہیں جو امریکہ چلے گئے،ناروے میں مقیم ہو گئے،ڈنمارک میں بیٹھے ہیں یا انگلستان میں ہیں۔ میں سید مجاہد علی،حسین حقانی،قیس انور،صفدر عباس ترمذی،مبشر زیدی،ظہور انور ندیم اور کامریڈ عاصم علی شاہ کے وینز ویلا کے صدراور ان کی اہلیہ کے اغوا پر تبصرے پڑھ چکا ہوں مگر پہلی بات ہے کہ میں باخبر نہیں اور غالب کی طرح دونے التفات کی آرزو میں بہرا ہو گیا ہوں کسی بااختیار کی پہلی سرگوشی تو مجھے سنائی ہی نہیں دیتی بس اتنا اندازہ ہو رہا ہے کہ وینزویلا کی نئی قیادت نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا چادو کو سونپی جا سکتی ہے امریکہ کی تائید سے، بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس پہلے ہی چیف ایگزیکٹو ہیں،ایران اورافغانستان کو بھی اپنے نوبل یافتگان کے بارے میں اپنے دل کو نرم کرنا ہوگا،ہمارا ملک تو قابل فخر بیٹی ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے اپنا دل کشادہ نہیں کر سکا (مجھے بتا تو سہی کافری کیا ہے ؟)مرزا غالب کو فخر تھا کہ ان کے آبا سات پشت سے سپاہی یا تیغ زن تھے میرے والد اور دادا ڈاک بابو تھے یوں پریم چند اور راجندر سنگھ بیدی کو میں اپنا رشتہ دار سمجھتا ہوں اس لئے وینز ویلا کے صدر کے اغوا سے مجھے زیادہ پریشانی نہیں ہوئی جتنی اس بات سے کہ ان کی اہلیہ کو’لیڈی میکبتھ‘ کیوں کہا جا رہا ہے؟ یا پھرڈنمارک کی اس خبر سے کہ انہوں نے چار سو برس سے قائم اپنے ڈاکخانے نئے برس کی پہلی صبح کے ساتھ بند کر دئیے ہیں البتہ آخری خط دسمبر کی آخری شام کو پہنچانے کے بعد اعلان کیا ہے اس طرح پندرہ سو ملازمین فارغ اور اتنے ہی سرخ ڈاکخانے بند!
٭٭٭
گزشتہ ہفتے کراچی گیا تو انجمن ترقی اردو کی معتمد محترمہ زاہدہ حنا اپنی علالت کے سبب کی میٹنگ میں نہ آ سکیں البتہ بنگلہ دیش کے حالیہ دورے سے بہت پر جوش ڈھاکہ یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی سے تعلیم کے مراحل طے کرنے والی ڈاکٹر فاطمہ حسن سے ملاقات ہوئی اور انجمن کے صدر سید واجد جواد ہم سب کو وفاقی اردو سائنس کالج لے گئے جہاں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی ابدی آرام گاہ ہے اس کے ساتھ ہی عمارت میں موجود کتاب خانے،ہال اور دیگر کمروں کی تزئین ہو رہی ہے وہاں پاکستان، بھارت، اردو،بنگلہ دیش یا ایسے معاملات سے زیادہ تقسیم ِ ہند سے افسردہ ہو جانے والے کروڑوں لوگوں کی دلچسپی کا محور ہندی؍ دیوناگری رسم الخط میں ایک کتبہ ہے معلوم ہوا یہ یادگار ہے گاندھی عبدالحق ملاقات کی۔ مہاتما گاندھی نے کراچی میں آ کے مولوی عبدالحق کو منانے کی کوشش کی کہ اردو کا نام بدل کے’ہندوستانی‘ کر دیا جائے اور اس کا رسم الخط بدل کے دیوناگری کر دیا جائے۔ مولوی عبدالحق کو زمانہ ضدی کہتا ہے مگر پہلی بات ایسی ہے جس پر بہت سے مولوی جاں بحق ہو سکتے ہیں کہ بابائے اردو لیفٹسٹ تھے گویا اپنے زمانے کے لوگوں سے آگے بڑھ کے سوچتے تھے انہوں نے زبان کا نام بدلنے کی بات مان لی البتہ رسم الخط یا لیپی کے حوالے سے وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور تاریخ کی نظروں میں یہ ملاقات ناکام ہو گئی۔
انجمن اس مقام پر تاریخ کی کئی شہادتیں دینے والی کتابوں،تقریروں اور تصویروں کومحفوظ کرنا چاہتی ہے اور اگر وہ توسیع شدہ میکانکی ذہانت سے مدد لیں گے تو سرسید احمد خان کی تربت سےآواز آئے گی کہ وہ اردو کے حوالے سے اپنے بعض ہندو ساتھیوں کے روئیے سے کیوں دل برداشتہ ہوئے تھے اور پھر مولوی عبدالحق بتائیں گے کہ حیدر آباد دکن میں بیٹھ کر اس زمانے کی دولت مند مسلمان ریاست میں انہوں نے کس قدر مخطوطات جمع کر لئے تھے،جامعہ عثمانیہ کی پیروی میں انہوں نے کیوں یہ خواب دیکھا کہ کہ سائنسی مضامین اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم بھی اردو میں دی جائے۔ اس وقت موجودہ حکومت کے ارسطو پلاننگ ڈویژن کے احسن اقبال ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے جو پاکستانی جامعات کو کہتے ہیں کہ اگر فنڈنگ لینی ہے تو اردو کے شعبے بند کر دو تاہم ان کی باپردہ والدہ آپا نثار فاطمہ پیدا ہو چکی تھیں جنکا شجرہ اور اوصاف چیک کر کے پاکستان کے دوسرے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیا الحق نے انہیں اپنی مجلسِ شوریٰ کا رکن بنایا تھا۔ میں نے مولوی عبدالحق کی تربت پر آرکیٹیکٹ سے پوچھا کہ دیوناگری میں لکھے ان کتبوں کو ہمارے علامہ سید عابد رضوی بھی نہیں پڑھ سکتے تو آپ نے اسے کیسے پڑھا؟ انہوں نے پرجوش اطمینان سے کہا کہ اس کی تصویر میں نے جواہر لال نہرو کے پوتے کو بھیجی تھی انہوں نے ہمیں انگریزی میں اس کا ترجمہ بھیج دیا بہت ادب سے انہیں بتایا گیا کہ جواہر لال نہرو کا پوتا کوئی نہیں البتہ نواسے،نواسیاں ہیں، ان سے یہ بھی کہا گیا کہ اب ہمارے زمانے کا ایک علامہ گوگل ہے جو بہت کچھ بتا دیتا ہے اس لئے بہت باخبر شاگردوں کے سوالات کا سامنا ایک تساہل پسند استاد نہیں کر سکتا۔اب آپ نے اردو ہندی اور ہندوستانی کے حوالے سے ڈاکٹر فرمان فتح پوری ، گیان چند جین، گارساں دتاسی، عتیق صدیقی اور مرزا خلیل بیگ کی کتابیں نہ بھی پڑھ رکھی ہوں تو یہ علامہ آپ کو بہت کچھ بتا دے گا اور اگر آپ کے سرہانے ڈاکٹر مبارک علی کی کتابیں پڑی ہوں تو ان کی ایک کتاب ’ ہجوم کا کلچر‘ بولنے لگے گی ۔کاش ہماری حکومت بدلتی دنیا پبلیکشنزکی کتابیں کم از کم جیل خانوں میں فراہم کردے اور ممکن ہو تو پاکستان اسٹڈیز کے ایک دو اچھے استادوں کو بھی وہاں نظر بند کر دے جہاں کےایک قیدی کو ان کے چاہنے والے دنیا کے سب سے زیادہ پڑھاکو اور مدبر خیال کرتے ہیں۔