• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگریزی ،اردو تنازع پیدا کئے بغیر مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ ہر زبان اپنے بولنے والوں کو عزیز ہوتی ہے مگر زبان پر دسترس کا مطلب ہے کہ آپ اسے جانتے ہی نہ ہوں بلکہ اسے محسوس بھی کر سکتے ہوں گویا آپ اس میں معلومات کا اظہار نہ کریں محسوسات کو بھی اپنے مخاطب تک پہنچا سکتے ہوں ۔ میں تو اردو زبان و ادب کا معلم ہوں میں نے ہمیشہ اپنے کوائف میں لکھا اردو میرے لئے وسیلہ رزق ہے اور میری بری بھلی شہرت بھی اسی کے سبب ہے سو میں جو کچھ کہوں گا کچھ لوگوں کو تعصب محسوس ہو گا مگر مجھے تین خوشیاں وہاں سے ملیں جو میں نے کبھی سوچی بھی نہیں تھیں۔ میں نے سردار عطا اللہ مینگل اور عبدالصمد اچکزئی کو کوئٹہ کے ایک چائے خانے میں ( مئی اکہتر) اردو زبان کے خلاف بولتے سنا مگر وہ اردو میں ہی بات کر رہے تھے کہ ایک کو پشتو نہیں آتی تھی دوسرے کو براہوی یا بلوچی ،اس لئے تعجب نہیں ہوا تھا جب اگلے برس بلوچستان اسمبلی نے اتفاق رائے سے اردو کو صوبے کی سرکاری زبان بنا دیا۔

دوسری خوشی آج ملی جب خیبر پختون خوا کے نوجوان وزیراعلیٰ نے اپنے صوبے کی ایک یونیورسٹی کے کانووکیشن میں انگریزی میں سپاس نامہ پیش کرنے والی وائس چانسلر کو بظاہر مسکرا کے یاد دلایا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور کہا کہ میں تیسری مرتبہ کہہ رہا ہوں کہ یونیورسٹیوں کی تقریبات میں قومی زبان کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ جن لوگوں نے یہ وڈیو کلپ دیکھاہے انہوں نے وزیر اعلیٰ کی تعریف میں بجنے والی تالیاں اور بچیوں کی بے ساختہ خوشی بھری آوازیں بھی محسوس کی ہوں گی۔

میرا موقف ہے کہ اردو میڈیم،انگریزی میڈیم کی درسگاہیں،ان کے استاد اور طالب علم دیکھ لیں آپ کو خیال آئے گا کہ یہ لسانی نہیں طبقاتی معاملہ ہے نچلے متوسط طبقے کے والدین نے جائر ناجائز وسائل اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے وقف کر دئیے ۔مجھے یاد ہے کہ جب غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ نے ایک سمسٹر کی فیس ڈھائی لاکھ روپے مقرر کی تو میں نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج شیخ خضر حیات سے ادبی تقریب میں کہا تھا ’’ ایسے اداروں میں بچے پڑھانا ہم سب کا خواب ہو سکتا ہے مگر ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کے پاس بھی وسائل نہیں کہ ایک بچے کو وہاں پڑھا سکے ،وہ کیا کرے گا؟

بھٹو کے وقت سے ممنوعہ ٹیوشن پڑھائے گا، جزوقتی تدریس کے مبالغہ آمیز بل پیش کرے گا،طالب علموں یا انکے والدین سے بھتہ لے گا،پراپرٹی ڈیلر بنے گا ،کسی مافیا کا حصہ بنے گا‘‘شیخ صاحب ستتر کے انتخابات میں قومی اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے پھر ضیا الحق نے انہیں جج بنایا تھا وہ ادبی ذوق رکھتے ہیں سو وہ کتابوں کی رونمائی میں آ جاتے تھے اور ہماری باتیں سن لیتے تھے،انہوں نے کہا ’’انوار احمد زمانہ طالب علمی سے مجھے گھیرنے کی کوشش میں ہے ،میں اسکی ترغیب میں آکے ایسا کوئی اقدام نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے نمبر ایک تعلیمی ادارے کے انتظام میں دخل دوں۔‘‘شیخ صاحب اب لاہور میں مقیم ہیں ان کی یادداشت بھی اچھی ہے ان کی ایک بہو ہماری شاگرد ہے اس نے انکی تصویر بھیجی تو بے اختیار یہ باتیں یاد آ گئیں۔

٭٭٭

جب کچھ احباب میرے کسی کالم کی غلطی سے مجھے آگاہ کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے ابھی میں نے کراچی میں ایک تاریخی لمحے کا ذکر کیا جب کوئٹہ کے آغا ناصر، بنوں پختون خوا کے فصیح الدین خیرپور کے یوسف خشک ،لاہور کے نجیب جمال اور انجمن ترقی اردو کے دیگر افراد کے ساتھ بابائے اردو کی تربت کی تزئینِ نو کےساتھ ایک کتبے کا ذکر کیا کہ مجھے وہاں آرکیٹیکٹ نے بتایا کہ دیوناگری رسم الخط میں ایک کتبہ وہاں لگایا گیا ہے جو بابائے اردو کے ساتھ گاندھی جی کی ملاقات کی نشانی ہے ،اس پر اردو یونیورسٹی کی ایک استاد محترمہ بینش صدیقی نے مجھے کچھ بتایا جس پر میں سمجھا کہ یہ کتبہ ہندی میں نہیں گجراتی میں ہے اس سے کچھ کتابیں یاد آئیں جو ہمارے بابائے قوم اور بھارت کے بابائے قوم کے گجراتی الاصل ہونے کے حوالے سے لکھی گئیں۔پھر مجھے ڈاکٹر مبارک علی کا بھی فون آیا انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ گاندھی جی نے باقاعدہ اردو سیکھی اور اس میں خطوط بھی لکھے۔ ان میں سے ایک خط سید سلیمان ندوی کے نام ہے جس میں ان کی ایک کانفرنس میں شرکت نہ کر سکنے پر معذرت کی ہے اور دوسرا خط انہوں نے علامہ اقبال کی وفات پر چوہدری محمد حسین کے نام لکھا ہے جنہیں علامہ نے اپنے بچوں کا ولی مقرر کیا تھا۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ گوگل سے آپ فرمائش کریں تو وہ گاندھی جی کے ان خطوط کا عکس نکال کے بھی دکھا دےگا کہ تاریخ کے اوراق ہیں اور ان کے عوامل سے اب پاکستان اسٹڈیز کے اچھے اور کم اچھے طالب علم بھی واقف ہیں ۔ڈاکٹر مبارک علی کی ایک کتاب ہے ’’ تاریخ سے محروم لوگ‘‘(نگارشات لاہور) اس میں وہ لکھتے ہیں’’رومی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی پوری توانائی جنگوں میں صرف ہوئی ،مالِ غنیمت نے رومی امرا کو عیاش اور نااہل بنایا،رومی معاشرے میں نہ کوئی اعلیٰ ادب تخلیق ہوا،نہ آرٹ نہ تھیٹر اور نہ موسیقی۔ عوام کی تفریح یا تو سستے قسم کے ڈراموں کے ذریعے ہوتی تھی یا کلوزیم میں گلیڈی ایٹرز کی لڑائی یا خونخوار جانوروں سے قیدیوں کو مروا دیا جاتا تھا ،تماشائی ان مناظر کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے ۔‘‘بے شک اس وقت امریکہ کے صدر کو مہذب دنیا برا بھلا کہہ رہی ہے مگر اس کی بے تکلف گفتگو نریندر مودی کو اچھی نہیں لگتی اس لئے پاکستانیوں میں کافی مقبول ہو رہی ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ برازیل کا صدر نکولس مادورو میری نقل میں رقص کرتا تھا مگر مجھ جیسا ناچنا اسے نہیں آتا تھا گویا یہ معاملہ تیل یا معدنیات کا نہیں رقص کا تھا۔

تازہ ترین