• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران: انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 36 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جاری

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایران میں انٹرنیٹ کی بندش دوسرے روز بھی جاری ہے، انٹرنیٹ کی بندش کے سبب شہریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ تاحال منقطع ہے۔

ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے نافذ کی گئی ملک گیر انٹرنیٹ بندش 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود بدستور جاری ہے۔

انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق مزید ایک رات احتجاج اور اس کے خلاف کارروائی کے بعد، اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ گزشتہ 36 گھنٹوں سے بند ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے معزول بادشاہ کے جلا وطن بیٹے رضا پہلوی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو پیغام میں عوام سے مزید احتجاج کی اپیل کی تھی، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں مظاہرین نے پہلوی خاندان کے حق میں نعرے بلند کیے۔

ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں مشہد اور اصفہان میں جمعرات کے روز مظاہرین سڑکوں پر جمع ہوئے اور نعرے بازی کی تھی۔

بعدازاں ایرانی حکام نے جمعرات کے روز تہران اور دیگر شہروں میں انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی فون لائنیں منقطع کر دی تھیں۔

خیال رہے کہ رضا پہلوی نے آج سے 2 روزہ ہڑتال کی کال بھی دے رکھی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے معیشت کے اہم شعبوں، خصوصاً ٹرانسپورٹ، تیل و گیس اور توانائی سے وابستہ مزدوروں اور ملازمین سے ملک گیر ہڑتال شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید