امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والے حملوں میں ابتدائی دھماکوں میں سے ایک خامنہ ای کے دفتر کے قریب بھی رپورٹ کیا گیا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ حملے کے وقت خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے اور اِنہیں پہلے ہی ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا تاہم ان کے مقام یا منتقلی کے وقت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’تروتھ سوشل‘ پر جاری 8 منٹ کی ویڈیو میں کہا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد امریکی عوام اور مفادات کو ’ایرانی حکومت کے فوری خطرات‘ سے بچانا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرم ہے اور اس کی کارروائیاں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے درپیش خطرات کو ختم کرنے کے لیے پیشگی کارروائی کی ہے۔