• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران ایک مرتبہ پھر آتش فشاں کے دہانے پر دکھائی دیتا ہے۔ ترکیہ، ایران اور پاکستان جنرل ایوب خان کے زمانے سے علاقائی تعاون تنظیم کے رکن تھے، تب ویزے، ڈاک اور ثقافتی میدان میں کافی سہولتیں دکھائی دیتی تھیں، حتیٰ کہ شاہ جب یکے بعد دیگرے خوبصورت خواتین کے بطن سے اپنا ولیعہد چاہ رہے تھے تب پاکستان کے کئی صحافی اور شاعر ادیب بیگانی شادی میں عبداللّٰہ دیوانے بنے ہوئے تھے، پھر ولی عہد پیدا ہو گیا تو ہمارے اخبارات نے ایڈیشن شائع کئے، اسی جوش میں شاہ بانو فرح دیبا کے نام سے پارک موسوم ہوئے، جمہوریت کیلئے تڑپ رکھنے کے باوجود شہنشاہیت کا دو ہزار برس کا جشن بھی منایا۔ فرح دیبا خوبصورت تو تھی ہی داستانوی کردار بننے کی خاطر انکی ہر کوشش بھی ہمیں دلفریب لگتی، البتہ تھوڑی سی بے چینی تب ہوئی جب شاہ بانو نے پاکستان کی کشور ناہید یا انتظار حسین کی بجائے بھارت سے نامور افسانہ نگار قرۃ العین حیدر کو اپنے اوپر ایک بڑی کتاب لکھوانے کیلئے تہران بلایا اور وہ کئی ہفتے ایک شاندار محل میں رہیں، یہ اور بات کہ اس زمانے میں عوام میں بے چینی کے آثار پیدا ہو گئے اور یوں اس عظیم افسانہ نگار نے شہنشاہیت کے عظیم ستونوں کو لرزتے دیکھا انہوں نے اپنے انداز میں بہت کچھ لکھا ادھر شاہ کی سفاک فورس ساواک کے ہاتھوں ہمارے سمیع آہوجہ نےبہت تکلیفیں سہیں، وہ بتاتے تھے ان کے دانت اور ناخن نکال کے کئی دن رات انہیں الٹا لٹکایا گیا،تاہم انہوں نے یہ ماجرا بہت مشکل زبان میں لکھا جب کہ قرۃ العین حیدر نے مرزا دبیر کے مرثیے سے ایک مصرع لیکر ایک رپورتاژ ’’قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے‘‘ لکھا اور کچھ جستہ جستہ اس دور کے بارے میں جب امام خمینی پیرس سے واپس ایران میں لوٹ آئے تھے اور خوش عقیدہ لوگ دیوانے ہو رہے تھے قرۃ العین ملائیت کے ہاتھوں قطب زادہ کو بھی ہلاک ہوتے دیکھ رہی تھی ایک خونخوار قاضی القضاۃ خلخالی کی شعلہ بیانی پر کڑھ رہی تھی ایک طرح سے دہائی دے رہی تھی کہ اپنے نوجوانوں کے منہ میں مرگ بر ...،لعنت پر ... جیسے نعرے دے کے اس مہذب ثقافتی ورثے کو کیوں برباد کر رہے ہو؟

اس سے پہلے اردو میں مفکر انقلاب ایران ڈاکٹر علی شریعتی کی کتابیں اور لیکچر ترجمہ ہوکر پہنچ رہے تھے، سید سبطِ حسن، ڈاکٹر مبارک علی، منو بھائی اوربائیں بازو کے لوگ علی شریعتی کی کتاب’’ ما و اقبال‘‘ کے ترجمے کیساتھ ان ایرانی شاعروں اور افسانہ نگاروں کو بھی سامنے لا رہے تھے جنکا تعاقب ساواک کر رہی تھی ۔ یہاں تک کہ جب صمد بہرنگی نے بظاہر بچوں کیلئے کہانی لکھی،’’ننھی سیاہ مچھلی‘‘ تو اس افسانہ نگار کو پکڑا گیا اور اسے قتل کر کے دریا میں پھینک دیا گیا شہنشاہ کے کسی وفادار افسر نے سوچا ہو گا کہ ایسی کہانی لکھنے والے آذر بائیجانی معلم کی لاش کو دیکھتے ہیں کہ مچھلیاں کیسے کھاتی ہیں؟ ۔

آپ شہر قصور کے بابا بلھے شاہ کو جانتے ہیں، ملکہ ترنم نور جہاں کو بھی،میاں محمود علی قصوری کو بھی مگر یاد کیجئے اس شہر میں سیاسیات کے ایک استاد تھے جن کی ایک کتاب’’ اشتراکی چین ‘‘ مجھے انعام میں ملی تھی جب میں فرسٹ ایر کا طالب علم تھا تب وہ کتاب میرے لئے بے معنی تھی کہ چین کے حوالے سے جو رومانس پیدا ہو رہا تھا یہ کتاب اس پر ٹھنڈے پانی کا ایک جگ تھی مگر دو عشرے کے بعد ارشاد احمد حقانی ہمارے پسندیدہ کالم نگار ہو گئے یہاں تک کہ وہ سردار فاروق خان لغاری کے بھی مشیر بن گئے شیروانی پہن کر بہت کچھ گنوایا مگر انقلابِ ایران کے بارے میں انہوں نے کئی قسطوں میں لکھا اور انہیں ایرانی امور کے ماہر کا درجہ بھی حاصل ہو گیا اور انہوں نے ایرانی عمائدین کی دعوت پر وہاں کے چھ سات دورے بھی کئے مجھے یاد ہے کہ انہوں نے لکھا تھا کہ چلئے امام خمینی کا تو ایک مقام تھا مگر ان کے جانشینوں کو مجتہدِ عصر مان کر پورے نظام کا محافظ خیال کرنا اس سیاسی نظام کی کمزوری ثابت ہو گا۔ بے شک ایرانی عوام کی قوتِ برداشت قابلِ رشک ہے تاہم وقفے وقفے سے وہاں مہنگائی،بے روزگاری اورعورتوں پر حجاب کی پابندی کے حوالے سے جو مظاہرے ہوئے انہوں نے اب کم و بیش مزاحمتی تحریک کا روپ اختیار کر لیا ہے اب بھی امریکہ وہاں ایک ’’ابلیسی کردار‘‘ہے جسکے اشارے پر عراق نے ایران پر حملہ کیا اور کئی برس یہ جنگ رہی تاہم اس مرتبہ آثار کچھ اور ہیں،وینز ویلا ایران کا ایک طرح سے اتحادی تھا اسکے وسائل پر قبضے کے بعد امریکی صدر کا دھمکانا کچھ اور نتائج بھی پیدا کر سکتا ہے اور اس پر حملے کے بعد پاکستان بھی متاثر ہو سکتا ہے تاہم اب ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایران کافی پیچھے رہ گیا ہےمحض مظاہرین کو کچلنا یا انہیں امریکی یا اسرائیلی ایجنٹ کہنا شاید زیادہ موثر نہ ہو،میں ایک مرتبہ ایران گیا اور وہاں فرہنگستانِ زبان و ادبِ فارسی کے ناظْم اعلیٰ ڈاکٹر غلام علی حداد عادل زادہ جیسے مشفق اور منکسر المزاج سے ملاقات ہوئی، مشہد کے کچھ عالموں اور طالب علموں سے بھی ملا پھر مجھے تہران یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بھی جانے کا موقع ملا وہاں کے استادوں اور طالب علموں سے میری ملاقات کو شاید ایک عشرہ بیت گیا مگر مجھے وہ طالب علم نہیں بھولتا جس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں جنوب میں رہتا ہوں ،وہاں تہران کے مقابلے میں بیروزگاری اور غربت زیادہ ہے وہاں بھی علما کی ایسی ہی بڑی تصویریں ہیں مگر آہستہ آہستہ لوگوں کیلئے ان تصویروں کا سحر کم ہوتا جارہا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں بھی پنجاب کے جنوب میں رہتا ہوں اور میرے ایک استاد فرخ درانی مرحوم نے ایک نظم لکھی تھی’’ جنوب کی ہوا‘‘ کاش میں اس کا فارسی میں ترجمہ کر سکتا۔یہ اور بات کہ علامہ اقبال یونیورسٹی کے شعبہ ترجمہ کے ڈاکٹر غلام علی نے دعویٰ کیا ہے اپنی تازہ کتاب ’’ انسائیکلو پیڈیا آف ٹرانسلیشن سٹڈیز‘‘ میں کہ دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ممکن ہے میکانکی توسیع شدہ ذہانت سے ۔

تازہ ترین