• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہنے کو تو آ ج کے بعض بچے ان سوالوں کا جواب جانتےہیں جن کیلئے ہم جیسے بوڑھے کچھ برس پہلے تک ڈکشنریوں اور استادوں سے رجوع کرتے تھے،اس سے پہلے کہ کوئی جمال دوست مفتی’’رجوع‘‘ کے مطالب اور مواقع کی شرح کریں،میں واضح کر دوں کہ انقرہ یونیورسٹی ترکیہ جانے سے پہلے میں نے ایک قد آدم کمپیوٹر کی زیارت ضرور کی تھی مگرمجھے انٹر نیٹ اور معقول شکل و صورت کے کمپیوٹر سے واسطہ نہیں پڑا تھا اس لئے چوتھی جماعت میں پڑھنے والا بیٹا میرا ’’معلم‘‘ہو گیا۔مجھے یاد ہے میرے بیٹے کو سفارت خانے کی ایک تقریب میں یومِ کشمیر کیلئے ایک تقریر کی ضرورت تھی مگر میں اپنی یونیورسٹی کی کسی مصروفیت میں اپنا وعدہ بھول گیا مقررہ دن میں کچھ شرمندہ شرمندہ پھرا مگر اس نے میرے سامنے ایک تقریر رکھ دی جو اس نے انٹرنیٹ کی مدد سے نہ صرف لکھی تھی بلکہ کمپوز بھی کر لی تھی،یقین کیجئے مجھےاس کی تقریر کے مواد سے اندازہ ہوا کہ کشمیر کے سلسلے میں ایک موقف پاکستان کا ہے ،ایک بھارت کا ہے اور پھر انگریزوں کا بھی مگر احمد تمثال کی تقریر سے اندازہ ہوا کہ چین بھی ایک فریق ہے،یہی وجہ ہے آج جب ایک چینی ترجمان نے سنکیانگ سے متصل کشمیر کی ایک وادی شکسگام کے بارے میں بھارت کو چتاونی دی کہ یہ چین کا حصہ ہے تو مجھے اکتیس برس پرانی یہ بات یاد آگئی۔ان تین عشروں میں دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی مگر نریندر مودی نے اپنے بھارت کی کیسی شکل بنادی کہ فرانس سے مزید رافیل طیاروں کی خریداری کے انکے معاہدے سے ہمارے ہاں پہلے کی طرح تشویش کی لہر نہیں دوڑتی،خلا کی طرف جانے والے ان کے راکٹ کی ناکامی پر ہمیں دلی خوشی ہوتی ہے کہ بھارت کے ساتھ ہماری حالیہ جنگ میں پاکستان کی برتری کی تصدیق امریکی صدرکر چکے ہیں اور اب پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار ہونے والےجے ایف تھنڈرطیاروں کیلئے ہمیں بہت سے ملکوں کے آرڈر مل رہے ہیں کہ ہمارے وزیرِ دفاع نے بیان دیا ہے کہ شاید ہم آئندہ مالی سال میں آئی ایم ایف کے ساتھ کشکول پروگرام سے نکل جائیں گے۔یہی نہیں ترکیہ ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات قریب آ رہے ہیں،تاہم یہ وہ میدان ہے جس میں ایک سے ایک’’باخبر‘‘ مبصر موجود ہے ،مجھے تو اتنا یاد ہے ترکیہ کو جاتے ہوئے مدیر نگار ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے مجھے کہا تھا کہ رومان پرور نیاز فتح پوری نے اپنے جریدے کا نام ’’نگار‘‘ایک ترک شاعرہ نگار بنت عثمان کی تصویر دیکھ کر رکھا تھا کہیں سے اس کا کلام تو تلاش کر دو ۔وہاں جاتے ہی میں نے اپنے شعبے کے دو سکالر آسمان بیلن اور جلال صوئیدان سے مدد ما نگی تو معلوم ہوا کہ انقلاب کے بعد ایسی تمام کتابیں کتاب خانوں کے تہہ خانوں میں پہنچ چکی ہیںجن کا رسم الخط عثمانی تھا۔بہر طور فرمان صاحب بہت خوش ہوئے جب میں نے تفصیلی مضمون انہیں بھیجا۔ اس شاعرہ نے اپنا روزنامچہ بیس جلدوں میں شائع کیا،اسے موسیقی اور مصوری سے بھی لگاو تھا،تاہم بیشتر رومانویوں کی طرح اس نے ناہموار ازدواجی زندگی بسر کی ۔سلطان عبدالحمید نے پندرہ اشرفیوں کا وظیفہ مقرر کیا،غازی انور پاشا کے نام اس کا ایک مکتوب بھی ملتا ہےجس میں کچھ مقدار میں چاول کی فراہمی کی درخواست ہے،اسکی مصوری کا ایک نمونہ توپ کاپی سرائے میوزیم استنبول میں آویزاں ہے اس کے تیسرے بیٹے صالح نگار نے ماں کے آثار کی حفاظت کی۔ ترکیہ میں میں نے ناظم حکمت اور دیگر شاعروں کو پڑھنے کی کوشش کی مگر آپس کی بات ہے مجھے ملانصیرالدین سے دلچسپی تھی جسکے حکمت بھرے لطائف پاکستان میں بھی مقبول تھے۔اس کے یہ لطائف اتنے ہیں کہ ملا کا ایک جواب یاد آتا ہے جب اس سے پوچھا گیا تھا کہ آسمان پر کتنے ستارے ہیں تو اس نے اپنے گدھے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کی دم کے بال گن لو درست تعداد معلوم ہو جائے گی۔ پھر آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ ملا اور اس کا گدھا ترک ذرائع ابلاغ اور ادبیات میں اب تک کیوں مقبول ہے؟ ایک حکائت کے مطابق ملا کو ایک مرتبہ روٹی چوری کرنی پڑی تو اس نے فورا اللّٰہ سے فرمائش کی کہ مالک! کسی وسیلے سے اس روٹی کی قیمت نان بائی تک پہنچا دے۔ یا پھر اخروٹوں کی ملکیت پر لڑنے والوں نے اسے ثالث بنایا تو اس نے کہا خدائی تقسیم کے مطابق بانٹ دوں؟ اور پھر سب نے کہا جی جی ضرور تو اس نے کسی کو زیادہ دئیے کسی کو بہت کم اور کسی کو بالکل ہی محروم رکھا۔ پھر وہ جو ہمسائے نے دعویٰ کیا کہ ملا نے مجھ سے صراحی لی تھی مگر اب واپس کی ہے تو وہ شکستہ ہے ملا نے جواب دعویٰ میں کہامیں نے اسے واپس کی تو وہ ثابت و سالم تھی ،دوسری بات یہ کہ میں نے جب لی تھی تو وہ ٹوٹی ہوئی تھی اور تیسری بات یہ ہے کہ میں نے سرے سے یہ صراحی لی ہی نہیں۔ لومڑ کے ستائے لوگ ملا سے طالب امداد ہوئے تو ملا نے کہا بہت آسان حل ہے اسے میرا چغہ پہنا دو اس کے بعد یہ جس دروازے پر جائے گا ،میری طرح دھتکارا جائے گا۔جلال صوئیدان کے ساتھ میں حوجہ یا ملا کی ولادت کے گاوں حوطو بھی گیا اور آق شہر میں اس کے مزار پر بھی۔

آخر میں نگار بنت عثمان کی ایک طویل نظم کے تین چار شعر وں کا ترجمہ دیکھئے

جس نگر میں عقل نے انسان کو ظلم سکھلایا

اور آدمیت کے خلاف نفرت ایجاد کی

میری سمجھ تو ایسے نگر سے فرار کا حکم دیتی ہے

اور میرا جذب ایسے تنفر کی اطاعت کا مخالف ہے

میرے اقربا کی رائے کبھی میری رائے کے موافق نہیں رہی

پر جب وہ کہتے ہیں تم نے اپنی عمر رائیگاں ہی گزاری

تو میں اس تذلیل پر اک زہر خند سے تالی بجاتی ہوں

تازہ ترین