• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرا ارادہ تھا کہ میں آج بچوں کے بارے میں فکر مند والدین اور استادوں یا ان کے لئےکہانیاں لکھ کر انکی اخلاقی تربیت کرنے والوں کے بارے میں لکھوں مگر کراچی کے ایک پلازے میں آگ لگ گئی جو بجھ بھی جائے گی تو کوئی چینل آگ کو بجھاتے ہوئے فائر بریگیڈ کے کارکن کی ماں اور افرادِ خانہ کو نہیں دکھائے گا جب تک صدر مملکت سول ایوارڈ کا اعلان نہیں کرتے یا ان کی شہادت کا خوں بہا پیش نہیں کرتے ۔

مبشر زیدی نے امریکہ سے ہم سب کو ایک آئینہ دکھایا ہے کہ ہماری مارکیٹوں میں حفاطتی انتظامات تو ہوتے نہیں، اسکولوں کالجوں میں بھی ہنگامی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لئے کوئی ڈرل نہیں کرائی جاتی۔ایک دور میں بچوں کے رسالوں کے نام ہی تعلیم و تربیت اور نونہالوں کی تربیت رکھے جاتے تھے پھر ضیا الحق دور میں تربیت کا منظور شدہ نصاب صدر معلموں اور وائس چانسلروں پر اترا اور ذرائعِ ابلاغ پراسی پر زور دیا جانے لگا اس پر ایک مذاکرے میں فلسفے کے استاد ڈاکٹر منظور احمد نے بآوازِ بلند کہا ’’ خدا کے لئے بچوں کو تعلیم تو دیجئے،تربیت ان کی یہ معاشرہ خود ہی کر دے گا۔‘‘ پر ہوا یہ کہ میری نظر ایک خبر پر پڑ گئی کہ عمر ریاض نے ضیا محی الدین پر ایک فلم بنائی ہے جسے جنوری کے آخری دن ریلیز کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ’ رنگ ہے میرے دل کا‘کو بنانے میں پندرہ برس لگے۔ جب ضیا محی الدین شو شروع ہوا تھا تو سبھی ان کے مداح نہیں تھے مگر جب انہوں نے اردو کے بڑے شاعروں اور نثر نگاروں کے اقتباسات اس طرح سے پڑھنے شروع کئے کہ ان کی ڈرامائیت،آہنگ،تلفظ عام طالب علم تک بھی پہنچنے لگے تو کئی استادشرمندہ شرمندہ دکھائی دینے لگے۔ آپ جانتے ہوں گےکہ ضیا کے والداور دادا بھی قصور کے تھے اور اگر آپ نے ضیا محی الدین کی آپ بیتی ’اے کیرٹ ازاے کیرٹ‘پڑھی ہے تو ان کے والد پروفیسر خادم محی الدین کی موسیقی،انسان دوستی اور اپنے مزارعین سے حسنِ سلوک کا نقش گہرا ہوجاتا ہے مگر ضیا کی والدہ ان کے روئیے کی شاکی تھیں کہ وہ جانتی تھیں کہ پانچ بیٹیوں کا جہیز بنانے اور مناسب رشتے ڈھونڈ نے کے لئے انہیں زمین کا بڑا حصہ فروخت کرنا ہو گا یا موسیقی اور آرٹ کے شغف کو چھوڑنا ہوگا۔

سات برس کو یہ یاد رہا کہ پروفیسر صاحب اسے پٹیالہ لے کر گئے اور استاد عبدالعزیز بین کار سے ملوایا جنہوں نے ضیا کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا مگر وقت کے ساتھ ضیا کی باغیانہ طبیعت یا جوانی کے مشاغل اسے کچھ دور لے گئے جس پر پروفیسر صاحب نے ضیا کے استاد پروفیسر سراج سے شاید مدد مانگی ہو گی جنہوں نے ضیا کو چائے پر بلا کے کہا یاد رکھو والدین اپنے بچوں کے لئے جو کرتے ہیں اسے فطرت یا نیچر کہتے ہیں اور بچے اس کا جو جواب دیتے ہیں اسے کلچر کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیںکہ جنرل مشرف کے زمانے میں ضیا کو نیشنل اکیڈمی فار دی پروموشن آف آرٹس(ناپا) کا ڈائریکٹر بنایا گیا اور وہاں موسیقی رقص اور اداکاری کی تربیت دی جاتی رہی مگرضیا کی نیچر میں اکلاپا لکھا گیا ،شادیاں ہونے کے باوجود۔ امید ہے کہ یہ فلم ہمارے بہت سے سوالوں کا جواب دے گی اور کئی سوالوں کو جنم دے گی۔تاہم رپورٹ کے مطابق اس فلم میں ڈاکٹر عارفہ سید کی گفتگو کے کچھ ٹکڑے بھی ہیں۔

کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ ضیا کے والد قیام پاکستان سے پہلے چاہ رہے تھے کہ موسیقی اور رقص کسی طرح یونیورسٹی میں ڈگری سطح کے نصاب کا حصہ ہو جائے اور ان کی مخالفت ہوتی تھی اب جامعات میں ادبیات کے شعبوں پر پیغمبری وقت آیا ہوا ہے اسلئےوقت کے تقاضےفنون کی ساری شکلوں کیساتھ ڈاکیومنٹری بنانا،اسکرپٹ رائٹنگ اور دیگرامور کوہنر مندی کے ضمن میں ماننے لگی ہیں،کیونکہ اے آئی یا توسیع شدہ میکانکی ذہانت چکا چوند روشنی لے کرآ رہی ہے ۔ اسی لئے اب صدر ٹرمپ غزہ کا نظم و نسق سنبھالنے کے لئے جیسی مرضی آئے احتیاط کر لیں یا ایرانی قیادت کو تبدیل بھی کر لیں تبریز کے قصبے میں پیدا ہونے والےصمد بہرنگی کی کہانی ننھی سیاہ مچھلی کاترجمہ دنیا کی ہر زبان میں ہو چکا ہے۔ممکن ہے شاہ ایران یا ساواک کی خفگی کا سبب اس کہانی کار کے اور’گناہ‘ بھی ہوں جیسے تین جلدوں میں آذری تاریخ لکھی یاجدید شاعروں کا کلام اس زبان میں منتقل کر ڈالا جو شہنشاہ کو بری لگتی تھی اور یوں باغی صمد بہرنگی کو قتل کرکے اس کی لاش کے ٹکڑے دریائے ارس میں بہا دئیے گئے اس کہانی کو اردو میں نسترن شہیدی نے منتقل کیا ہے۔

اس کا ایک اقتباس دیکھئے’’ننھی سیاہ مچھلی نے اپنے سے بھی چھوٹی مچھلی کو روتے دیکھ کرخنجر نکالا اور ایک ضرب سے دیوار کو پھاڑا اور فرار ہوگئی پھر اس کا واسطہ ایک اور ماہی خور سے پڑا اسے بھی اس نے ٹھکانے لگایا اورپھر اس کی کہانی بوڑھی مچھلی تک پہنچی جس نے اپنے بارہ ہزار بچوں اور پوتے پوتیوں سے کہا اب سونے کا وقت ہے بچو سو جاؤ۔سب نے پوچھا کہ آخر اس مچھلی کا کیا ہوا؟ بوڑھی مچھلی نے کہا اس بات کو کل رات کےلئے چھوڑوشب بخیر، گیارہ ہزار نو سو ننانوےمچھلیوں نے بھی شب بخیر کہا ،دادی اماں کو بھی نیند آ گئی لیکن ننھی سرخ مچھلی نے جتنی بھی کوشش کی اسے نیند نہیں آئی اور وہ رات سے صبح تک تمام وقت سمندر کی سوچ میں غرق تھی‘‘ پھر قتل ہونے والوں کے لئے سعیدہ گزدر نے اپنی نظموں کے مجموعے ’زنجیرِ روزو شب‘ میں لکھا:

’’ان شوخ حسین جوانوں کو

چنچل ہنستی عمروں کو

وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں

کوڑوں کی مار میں

ڈسپلن سکھانے

سیدھے رستے پہ چلانے

تابع اور فرماں بردار بنانےآئے

تم نے میرے ارمانوں کوخوں ہوتے دیکھا

اور نظروں کو جھکائے رکھا‘‘

تازہ ترین