• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فارسی کا ایک شعر بہت مشہور ہوا ہے ملتان کے بارے میں

چہار چیزست تحفہ ملتان

گرد، گرما، گدا و گورستان

عام طور پر یہ امیر خسرو سے منسوب کیا جاتا ہے، اسلم انصاری مرحوم فارسی سے تخلیقی لگاؤ رکھتے تھے کئی مرتبہ ان سے اس حوالے سے بات ہوئی ،قیاس یہی رہا کہ امیر خسرو کے ساتھ ملتان میں جو سلوک ہوا،اس وجہ سے یہ انکی کسی ہجو کا حصہ ہے۔اب ماجرا یہ ہے کہ امیر خسرو کے کلیات میں یہ شعر نہیں تاہم ان کے ہزارہا شعر ہیں جو ان سے منسوب ہیں مگر وہ لوگوں کی یادداشت میں رہےشاید یہ بھی انہی میں سے ہو۔امیر خسرو جس شہزادہ محمد کی دعوت پر ملتان آئے اسے تاتاریوں نے تہہ تیغ کیا تب نیم تاریخی روایات کے مطابق اہل شہر سے تو حضرت بہا ؤالدین زکریا نےچندہ لے کر تاتاریوں کو تاوان پیش کر دیا مگرامیر خسرو کو تاتاریوں نے پکڑ لیا وہ ہفت زبان تھے مگر مشکل میں تاتاریوں کے دل کو موم کرنے والا منتر بھول گئے ،عبدالحلیم شرر نے فردوسِ بریں میں تاتاری شہزادی بلغان خاتون کے ہاتھوں شرپسند خوارج کی جنت ارضی تباہ کرائی ہے وہی خاتون اگر امیر خسرو کو ملتان میں ملتی تو عورتوں کو رجھانے والے امیر خسرو کوئی کہہ مکرنی اسے سناتے تو شاید اس اذیت سے بچ جاتے کہ ان کو قیدی بنا کے مشقت کرائی گئی مگر اس مشقت کا بدلہ انہوں نے ملتانیوں کی ہجو لکھ کے لیا چلئے وہ ترک تھے محبوبِ نظام الدین اولیا تھے اور ملتانی کالے رنگ کے، بہر حال جب امیر خسرو نے ہجو لکھی تواس میں ملتانی یا سرائیکی کا ایک لفظ جُل آیا اور اسے اردو سے ملتانی اور دیگر زبانوں کے تعلق پر پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے مہر عبدالحق نے ایک شعر لکھا تھا

من کہ برسر نمی نہادم گل

بار(توبرہ) بر سرنہاد و گفتا ’جُل‘

بہر طور ملتانیوں پر یہ چار تحفے بطور تاوان امیر خسرو نے مسلط کئے۔ جب انتظار حسین روزنامہ مشرق میںلاہور نامہ لکھتے تھے انہوں نے شاید جشنِ فرید میں علامہ عتیق فکری کی گفتگو سنی تو ان پر ایک طنزیہ کالم لکھا ’’ملتان کا پانچواں تحفہ عتیق فکری‘‘۔ بہر طور زردوزی کو ذریعہ معاش بنانے والے عبدالحمید عتیق فکری ہم طالب علموں کے محبوب تھے کہ وہ موسیقی کے بھید بھی جانتے تھے،تصوف کے بھی اور ہم ایسےبد لحاظوں کی چہلیں بھی برداشت کر لیتے تھے۔ تب ملتان کے مخدوم وغیرہ بھی اعظم گڑھ اور حیدر آباد دکن سے کتابیں منگواتے ہوں گے مگر وہ ہاتھ سے سوئی کی مشقت یا دیدہ ریزی نہیں کیا کرتے تھے۔ (اصغر ندیم سید کے ایک ناول کا ہیرو جو ملتان کا مورخ ہے وہ عتیق فکری ہے )۔ یہ سب باتیں اس لئے یاد آئیں کہ کل ہمارے ملتان کی ایک بڑی پہچان ثریا ملتانیکر کے گھر کے باہر بھی وہ لوحِ اعزاز نصب ہوئی جو کمشنر ملتان(عامر کریم ) نے کچھ احباب کی بیرونی دیوار پر نصب کی اور پہلے ڈاکٹراسلم انصاری ، ڈاکٹراسد اریب ، ڈاکٹر حنیف چوہدری، ڈاکٹر سید شمیم حیدر ترمذی، ڈاکٹر مختار ظفر، قمر رضا شہزاد،محمد علی واسطی (اور دیگر) کی علمی و ادبی اور ثقافتی خدمات کا ایک طرح سے اعتراف ہے۔

میں قیام پاکستان سے چند ہفتے پہلے پیدا ہوا اس لئے کہیں کسی کا سال ولادت انیس سو چالیس پڑھوں تو میں محفل میں ذکر کر دیتا ہوں کہ کشور ناہید مجھ سےسات برس بڑی ہیں یا نوشابہ نرگس ایم اے کرتے ہوئے مجھ سے چار کلاس سینئر تھیں اس پر ایک تقریب میں کشور ناہید ایسے خفا ہوئیں کہ مجھے ’’ننھے میاں‘‘ کہہ کر مخاطب رہیں،اس لئے اس مرتبہ میں نے یہ حماقت نہیں کی البتہ یہ ضرور کہا کہ سفید داڑھی والے بزرگ جو ان کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ ان کے بھانجے ڈاکٹر محمد اشفاق بخاری ہیں وہ کوئی پچاس برس پہلے ملتان یونیورسٹی میں میرے رفیق کار تھے وہ ریاضی کے استاد تھے اور میں اپنی دانست میں اردو پڑھاتا تھا اس لئے اتنے ہی برس سے میں اس گھرانے کو جانتا ہوں یہ سب سریلے اور رسیلے ہیں۔اس یونیورسٹی میں ڈاکٹر نصیر خان مرحوم وائس چانسلر ہوئے تو انہوں نے ثریا ملتانیکر کو پروفیسر آف میوزیکالوجی بنایا اور ویمن کالج ملتان میں انگریزی ادبیات کی استاد ان کی بیٹی راحت بانو کو ان کا معاون مقرر کیا۔ شعبہ شماریات کاایک پروفیسر ڈاکٹر اصغر علی مرحوم بہت سریلا تھا،نعت پڑھتا یا ماہیا سناتا ایک سماں باندھ دیتا تھا ،وہ ثریا کا بہت لاڈلا شاگرد تھا۔تاہم اس محفل میں رانا محبوب اختر اپنی اردو، فارسی ،سرائیکی اور انگریزی کے جاننے والے کے طور پر نہیں محبت کی زبان بول کر سب سے بازی لے گیا۔اس نے محترمہ ثریا کی شخصیت پر ایک کتاب لکھنے کا اعلان کر رکھا ہے اب معلوم ہوا کہ وہ اپنے خاندان کا البم ہی نہیں ،اپنی یادوں میں بھی انہیں شریک کر رہی ہیں اور رانا محبوب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ جتنے لوگوں سے وہ مل سکتے ہیں اور جن مقامات پر جا سکتے ہیں یا جن گھروں میں وہ جھانک سکتے ہیں اس کتاب کو سچ مچ ملتان کا پانچواں تحفہ بنا دیں۔ہمارےخطے کے بڑے شاعر رفعت عباس نے کہا کہ ثریا کا الاپ اورگائیکی ہمارے خطے کے ذروں کی سنگت میں بتاتی ہے کہ ہم گونگے نہیں،ہمیں جتنا دبانے کی کوشش کی گئی اتنا ہماری آواز بلند ہوئی ۔مسعود اشعر اورشبیر حسن اختر اس حوالے سے یک زبان نہیں تھے مگر کہا کرتے تھے کہ خواجہ فرید کی کافی ’’پیلھوں پکیاں نی‘‘کے مقابلے پر’’رتھ دِھمی دِھمی ٹور‘‘ کو زیادہ موثر گایا ہے ثریا ملتانیکر نے۔ خواجہ فرید کی اس کافی کے کچھ مصرعے دیکھئے۔

’’رتھ دِھمی دِھمی ٹور

میڈا دستہ ہے نرم کرور دا

متاں ونگیں لگئم ٹکور

رتھ تے بہندی دڑگ نہ سہندی

ہِم طبع کمزور؍ روز ازل دی پاتم گل دی

برہوں تیڈے دی ڈور

شالا مولھ سلامت نیواں

راہ وچ لڑدے چور‘‘

(اس کا جیسا بھی ترجمہ کروں اس گائیکی اور نمرتا کا تاثر نہیں آئے گا،یوٹیوب پر یہ کافی ثریا کی آواز میں ہوگی کوشش کرکے وہ سنئے اور اسے لوری سمجھ کے پڑھئے)۔

تازہ ترین