مصنّف: کرنل (ر) اشفاق حسین
صفحات: 368، قیمت: درج نہیں
ناشر: ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی، لاہور۔
فون نمبر: 5056178 - 0322
پاک فوج نے ہمیں کئی اہم قلم کار عطا کیے، جن کی تفصیلات بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں گے اور اختصار، ہماری مجبوری ہے۔ فی الحال ہمارے پیشِ نظر کرنل(ر) اشفاق حسین کی خود نوشت ہے۔ اگر اُردو کے اہم طنزو مزاح نگاروں کی فہرست مرتّب کی جائے، تو اس میں کرنل اشفاق حسین کا نام بھی نمایاں ہوگا۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے روزنامہ جنگ، کراچی کے لیے اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا۔ اُن کی کتب کے نام بھی اُن کے اختراعی ذہن کی پیداوار ہیں۔
جیسے ’’جنٹل مین بسم اللہ‘‘،’’جنٹل مین الحمدللہ‘‘،’’جنٹل مین اللہ اللہ‘‘،’’جنٹل مین سبحان اللہ‘‘،’’جنٹل مین استغفراللہ‘‘،’’جنٹل مین فی ارض اللہ‘‘،’’برف کے قیدی‘‘،’’امریکا سے ہجرت‘‘،’’فاتحِ سبونہ‘‘،’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘،’’عربی کے سولہ سبق‘‘اور’’تھینک یو، اللہ میاں۔‘‘ ان میں سے ہر نام جُداگانہ رنگ لیے ہوئے ہے۔
کرنل اشفاق حسین کی زیرِ نظر خود نوشت، دیگر خود نوشتوں سے مختلف ہے۔ اُنہوں نے یہ کتاب مرتّب کرنے سے پہلے تمام بڑے سوانح نگاروں کی کتابوں کا مطالعہ کیا، اس کے بعد نیا طرزِ سخن ایجاد کیا۔ اُنہوں نے نہایت سنجیدہ موضوعات کو بھی اپنی شگفتہ نگاری سے قابلِ توجّہ بنادیا۔ یہ خود نوشت 25عنوانات پر مشتمل ہے اور اسے دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلے حصّے میں اُنہوں نے اپنی غربت کی کہانی بیان کی ہے، جب کہ دوسرا حصّہ غربتوں میں کی گئی محبّت کے ثمرات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا دیباچہ، کرنل صاحب نے خود لکھا ہے، کسی اور کو زحمت نہیں دی ہے۔ یہ دیباچہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ کتاب کا انتساب اُن شہدا کے نام کیا ہے، جن کی قربانیوں سے مُلک سلامت ہے۔ کرنل (ر) اشفاق حسین کی آنے والی کتابیں’’بنیانِ مرصوص‘‘ اور ’’مَیں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘ بھی یقیناً اہمیت کی حامل ہوں گی۔