ترتیب و تدوین: ڈاکٹر سیّد جعفر احمد
صفحات: 190
قیمت: 2000روپے
ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ، کراچی۔
ڈاکٹر سیّد جعفر احمد کا شمار پاکستان کے اُن دانش وَروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ادب، تاریخ اور تعلیم کو ہم آمیز کیا ہوا ہے۔ وہ ’’انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ،کراچی‘‘ کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ڈاکٹر طارق سہیل کے تجربات و مشاہدات پر مشتمل زیرِ نظر کتاب، ڈاکٹر جعفر احمد کے اُس سلسلۂ مضامین کا ایک حصّہ ہے، جو انسٹی ٹیوٹ’’زبانی تاریخ‘‘ کے عنوان سے جاری کیے ہوئے ہے۔’’آئی ایچ ایس آر‘‘ سماجی علوم، بالخصوص تاریخ کے موضوعات پر تحقیقی کام کرنے والا ایک ادارہ ہے، جو 2019ء میں قائم ہوا۔
ڈاکٹر سیّد جعفر احمد اِس سے پہلے ممتاز شاعر، صحافی اور دانش وَر حسن عابدی، محنت کشوں اور ٹریڈ یونین کے لیڈر، جنوبی ایشیا میں عوامی سطح پر امن کی کوششوں میں سرگرداں، کرامت علی، انقلابی اور سماجی کارکن، رشّاد محمود اور پاکستان کے سینئر ترین صحافی، حسین نقی کی یادداشتیں مرتّب کرکے کتابی صُورت میں شائع کرچُکے ہیں۔
زیرِ نظر کتاب کے مرکزِ نگاہ، ڈاکٹر طارق سہیل، ایک ڈاکٹر اور سائیکیٹرسٹ ہیں، جنہوں نے پاکستان میں میڈیسن کے شعبے کو ترقّی کرتے دیکھا اور اس ارتقائی عمل میں اپنا حصّہ بھی ڈالا۔ ڈاکٹر طارق سہیل نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور اپنی زندگی کا کچھ حصّہ طلبہ سیاست کی بھی نذر کیا۔
زیرِ نظر کتاب کے پہلے13ابواب ڈاکٹر طارق سہیل کی زندگی کے سوانحی، پیشہ ورانہ اور سیاسی سنگِ میل کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ آخری دو ابواب اُن کی زندگی اور کیریئر پر مبنی ہیں۔ کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر طارق سہیل نے تحریر کیا ہے، جب کہ ڈاکٹر سیّد جعفر احمد اور ڈاکٹر چارلس امجد علی کے مضامین شامل ہیں۔ انہوں نے کتاب کا انتساب اُن سب ہستیوں کے نام کیا ہے، جنہوں نے اُن کی زندگی کو معنویت اور کام کو اعتبار سے ہم کنار کیا۔ کتاب کا آخری حصّہ یادگار تصاویر سے آراستہ ہے۔