• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: حکیم محمّد الیاس خان منصوری

صفحات: 430، قیمت: 1500روپے

ناشر: الحمد پبلی کیشنز، گلشنِ اقبال، کراچی۔

فون نمبر: 6338065 - 0335

حکیم محمّد الیاس خان منصوری نے یادوں، باتوں اور چاہتوں پر مشتمل زیرِ نظر کتاب، برسوں کی جدوجہد کے بعد، بہت عرق ریزی سے مرتّب کی ہے۔ یہ کتاب اُن واقعات پر مبنی ہے، جو سندھ کی ایک تحصیل، ہالا کے ایک گائوں، ڈیپر(موجودہ ضلع مٹیاری، تحصیل منصورہ) کی ایک درس گاہ کے گرد گھومتے ہیں۔ 60,50ء کی دہائی میں ایک مردِ قلندر، مولانا شفیع محمّد نظامانی نے شہر کی رونقوں سے دُور اپنی زمینوں پر ایک اسکول قائم کیا، پھر اپنی تین سو ایکڑ سے زائد زمین تعلیم و تعلّم کے لیے وقف کردی۔ 

اس مقام پر بعد میں ’’شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج‘‘ (منصورہ) قائم ہوا، جسے پیپلز پارٹی کے پہلے دَورِ حکومت، 1972ء میں نیشنلائز کرلیا گیا۔ اب وہاں ’’جامعتہ العلوم اسلامیہ‘‘ (منصورہ) قائم ہے۔ زیرِ نظر کتاب12 ابواب میں تقسیم کی گئی ہے، جب کہ22صفحات یادگار تصاویر سے مزیّن ہیں۔ حکیم محمّد الیاس خان منصوری نے کتاب میں برسوں کی یادیں یک جا کرکے اسے ایک دستاویز بنادیا ہے۔

مصنّف نے اپنے تعلیمی ادارے سے جس محبّت و عقیدت کا اظہار کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہی نہیں، لائقِ تقلید بھی ہے۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، محمّد حسین محنتی، ابو سعد منصوری، نثار احمد چوہدری، منیر منصوری، ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم، حکیم محمد عثمان اور سہیل اقبال کے مضامین سے بھی اِس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مصنّف نے کتاب کا انتساب مولانا شفیع محمّد نظامانی اور اپنے عظیم اساتذہ کے نام کیا ہے۔