• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر نور الفاطمہ

جس طرح زندگی کے ابتدائی مراحل میں کسی بچّے کی نشوونما، صحت کے مختلف پہلوؤں کی سمت متعیّن کرتی ہے، اُسی طرح شیر خوارگی یا ابتدائے بچپن میں منہ اور دانتوں کی صحت بھی آئندہ زندگی میں بہتر اور مستحکم منہ کی صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بچّوں کے منہ کی صحت، اُن کی مجموعی صحت اور نشوونما کا ایک نہایت اہم حصّہ ہے۔ 

صحت مند دانت اور مسوڑھے نہ صرف چبانے اور بولنے میں مدد دیتے ہیں، بلکہ بچّے کے اعتماد اور سماجی رویّوں پر بھی مثبت اثرات مرتّب کرتے ہیں۔ بچپن میں دانتوں کی بیماریوں، بالخصوص دانتوں میں کیڑا لگنے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صُورت میں درد، انفیکشن، غذائی کمی اور تعلیمی کارکردگی میں کمی جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

بچّوں میں پائے جانے والے عمومی مسائل

دانتوں میں کیڑا لگنا: بچّوں کے دانت خراب ہونے کی چند اہم وجوہ ہیں۔ 

جیسے(1) میٹھی چیزوں کا زیادہ استعمال: چاکلیٹ، ٹافیاں، بسکٹ، کیک، کولڈ ڈرنکس اور پیک جوسز دانتوں پر چپک کر بیکٹیریا کو خوراک فراہم کرتے ہیں، جو تیزاب بنا کر دانت کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔

(2) دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنا: روزانہ دو مرتبہ برش نہ کرنا یا غلط طریقے سے برش کرنا دانتوں پر میل (Plaque) جمع ہونے دیتا ہے۔ اکثر بچّے رات کو دودھ پینے یا میٹھی اشیاء استعمال کرنے کے بعد بغیر دانت صاف کیے سو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دانت سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اِسی لیے والدین کی یہ ذمّے داری ہے کہ وہ بچّوں کو سونے سے قبل دانت برش کرنے کی عادت ڈالیں۔

(3) دودھ یا جوس کے ساتھ سوتے رہنا: بوتل/فیڈر یا دودھ پیتے پیتے سونا (خصوصاً رات کو) بچّوں میں دانتوں کے کیڑے کی ایک بڑی وجہ ہے، جسے’’ Baby Bottle Tooth Decay ‘‘کہتے ہیں۔

(4) فلورائیڈ کی کمی: فلورائیڈ دانتوں کو مضبوط بناتا ہے، جب کہ اِس کی کمی دانتوں کو جلد خراب کردیتی ہے۔ 

(5) دانتوں کی ساخت: کچھ بچّوں کے دانت قدرتی طور پر کم زور یا گہرے شگاف (deep grooves) والے ہوتے ہیں، جن میں کیڑا جَلد لگتا ہے۔ کیڑا لگنے کی صُورت میں بچّے کو بلا تاخیر ڈینٹسٹ کے پاس لے جائیں، کیوں کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صُورت میں شدید درد، انفیکشن اور دانت کے ضائع ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

دانتوں کی غلط ترتیب: کچھ بچّوں میں دانت ٹیڑھے یا ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے نکلتے ہیں۔ بچّوں میں دانت ٹیڑھے میڑھے ہونا یا جبڑوں کا صحیح طرح نہ ملنا، عموماً کسی ایک وجہ سے نہیں، بلکہ کئی عوامل کے یک جا ہونے سے ہوتا ہے۔ جیسے٭موروثی اثرات (والدین میں دانت/جبڑے کا مسئلہ)٭ انگوٹھا چوسنا (3سے4سال کے بعد) ٭لمبے عرصے تک فیڈر / پَیسیفائر کا استعمال٭منہ سے سانس لینا(ناک بند، الرجی، ایڈینوئڈز)٭زبان، دانتوں کے درمیان رکھنا(Tongue thrusting)٭دودھ کے دانتوں کا وقت سے پہلے گر جانا ٭دانتوں میں کیڑا یا انفیکشن ٭نرم غذا کی زیادتی(جبڑے کی کم نشوونما)٭مستقل دانتوں کا غلط یا دیر سے نکلنا٭اضافی دانت(Extra teeth)

بچّوں میں ٹیڑھے میڑھے دانت صرف خُوب صُورتی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس سے کھانا چبانے میں مشکل، بدہضمی، دانتوں کی صفائی میں دِقّت، کیڑا، مسوڑھوں کی سوجن، منہ کی بدبُو اور بولنے میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ، مسکراہٹ اور چہرے کی بناوٹ متاثر ہونے سے بچّے کی خود اعتمادی کم ہو سکتی ہے، نتیجتاً وہ بُلنگ کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ غلط بائٹ کی وجہ سے جبڑے کے جوڑ پر دباؤ پڑتا ہے، جس سے جبڑے، سر یا کان کے پاس درد ہو سکتا ہے، اِس لیے ایسے بچّوں کا بروقت معائنہ ضروری ہے۔

یہ سمجھنا غلط ہے کہ آرتھوڈونٹیسٹ کو12سال کی عُمر کے بعد ہی دِکھایا جائے۔ ماہرین کے مطابق7 سال کی عُمر میں پہلا آرتھوڈونٹک معائنہ ہونا چاہیے تاکہ دانتوں اور جبڑوں کی نشوونما کا جائزہ لیا جا سکے۔7سے9 سال میں ابتدائی علاج سے کئی مسائل آسانی سے درست ہو جاتے ہیں اور بعد میں لمبے یا منہگے بریسز کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ عام طور پر بریسز 11سے13 سال کی عُمر میں لگتے ہیں، جب کہ تاخیر سے علاج مشکل ہو جاتا ہے۔

دانتوں پر پیلے / بھورے داغ ہونے کی وجوہ: اِس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ جیسے: ٭Enamel Hypoplasia : دانت بننے کے دوران Enamel پوری طرح نہ بن پائے، تو دانت کم زور اور داغ دار ہو جاتے ہیں۔٭زیادہ فلورائیڈ: کم عُمری میں فلورائیڈ والی دوا یا ٹوتھ پیسٹ زیادہ مقدار میں نگل لینے سے دانتوں پر سفید، پیلے یا بھورے دھبّے پڑ سکتے ہیں۔ 

اِسی لیے بچّوں کے لیے مخصوص ٹوتھ پیسٹ دست یاب ہیں، جن میں فلورائیڈ کی مقدار محفوظ حد میں ہوتی ہے۔ بچّوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ وہی ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا چاہیے، جو خاص طور پر بچّوں کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔٭حمل یا ابتدائی بچپن میں غذائی کمی: کیلشیم، وٹامن ڈی اور فاسفورس کی کمی دانتوں کی ساخت متاثر کرتی ہے۔٭بار بار بخار یا شدید بیماریاں: ابتدائی عُمر میں تیز بخار، انفیکشن یا لمبی بیماری دانتوں کی نشوونما روک دیتی ہے۔٭اینٹی بایوٹکس کا زیادہ یا غلط استعمال:بعض ادویہ بھی دانتوں کا رنگ بدل سکتی ہیں۔٭دانتوں کی صفائی کا ناقص خیال: میل (Plaque) جمنے سے دانت پیلے نظر آنے لگتے ہیں۔٭میٹھی اور رنگ دار غذائیں/مشروبات:کولڈ ڈرنکس، پیک جوسز، چاکلیٹس وغیرہ داغ بڑھاتے ہیں۔٭دانتوں پر چوٹ لگنا: گرنے یا چوٹ لگنے سے دانت کا اندرونی رنگ متاثر ہو سکتا ہے۔٭منہ سے سانس لینے کی عادت:منہ خشک رہتا ہے، جس سے Enamel کم زور پڑتی ہے۔

بچّوں کے دانتوں پر پیلے یا بھورے داغوں کا علاج ممکن ہے، خاص طور پر اگر بروقت کروالیا جائے۔ ابتدا میں فلورائیڈ وارنش یا جیل سے دانتوں کی اوپری تہہ مضبوط کی جاتی ہے اور ہلکے داغ پالش سے کم ہو جاتے ہیں۔ اگر داغ گہرے ہوں تو microabrasion، سفید فلنگ (composite) یا ضرورت پڑنے پر حفاظتی کور (crown) لگایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی متوازن غذا، میٹھی چیزوں میں کمی، دن میں دو بار برش اور ہر چھے ماہ بعد ڈینٹل چیک اَپ بہت ضروری ہے۔

دانتوں پر چوٹ لگنا( Dental Trauma): بچّوں میں ڈینٹل ٹراما سے مُراد دانت یا منہ پر لگنے والی چوٹ ہے، جو عموماً گرنے، کھیل کود، سائیکل/اسکوٹر حادثے یا لڑائی کے دَوران لگ جاتی ہے۔ اِس سے دانت ٹوٹ سکتا ہے، ہل سکتا ہے، اپنی جگہ سے نکل سکتا ہے یا رنگ بدل سکتا ہے۔ 

بعض اوقات مسوڑھوں سے خون آتا ہے اور درد یا سوجن ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں فوراً بچے کو ڈینٹیسٹ کے پاس لے جانا ضروری ہے، کیوں کہ بروقت علاج سے دانت بچایا جا سکتا ہے۔ کھیلوں کے دَوران ماؤتھ گارڈ کا استعمال اور گھر میں احتیاطی تدابیر ڈینٹل ٹراما کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔

والدین کے لیے ضروری یاد دہانی: دانتوں کی صحت کے ضمن میں والدین پر بھی اہم ذمّے داریاں عاید ہوتی ہیں۔ جیسے:٭شیر خوار بچّوں کی منہ کی صفائی:دودھ پینے کے بعد نرم، صاف گیلی ململ/کپڑے سے مسوڑھے اور زبان ہلکے ہاتھ سے صاف کریں۔٭دانت نکلتے ہی صفائی شروع کریں:پہلے دانت کے ساتھ سافٹ بے بی برش استعمال کریں اور چاول کے دانے جتنا ٹوتھ پیسٹ کافی ہے۔٭سوتے وقت بوتل نہ دیں:دودھ یا جوس کے ساتھ سونا، دانت خراب کرتا ہے۔٭دن میں دو بار برش:عُمر کے مطابق فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کروایا جائے مگر اِس عمل کی والدین خود نگرانی کریں۔٭انگوٹھا چوسنے، ناخن چبانے، ہونٹ/پینسل چبانے سے روکیں: اگر بچّے میں ایسی کوئی عادت ہو، تو اُسے پیار سے سمجھائیں، اُس کی توجّہ ہٹائیں، تعریف کریں، انعام دیں، ڈانٹیں یا خوف نہ دلائیں۔٭لمبے عرصے تک فیڈر/پَیسیفائر سے پرہیز:یہ عادت 3سے4سال تک آہستہ آہستہ ختم کروائیں۔٭ناک سے سانس لینے کی عادت ڈالیں: اگر بچّے کا منہ مستقل کُھلا رہتا ہو، تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔٭سخت اور صحت بخش غذا کا استعمال:سیب، گاجر اور کھیرے سے جبڑا مضبوط ہوتا ہے۔٭میٹھی اور چپکنے والی چیزیں کم کریں:میٹھا کھانے کے بعد پانی سے کُلّی کروائیں۔٭دانتوں کی چوٹ: ایسی کسی صُورت میں فوراً ڈینٹیسٹ سے چیک اَپ کروائیں۔٭7سال کی عمر میں آرتھوڈونٹک معائنہ: اِس عُمر میں ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی صُورت میں کئی ابتدائی مسائل کی بروقت تشخیص ممکن بنائی جاسکتی ہے اور پھر ضرورت ہو، تو علاج بھی کروایا جاسکتا ہے۔٭ڈینٹل چیک اَپ: بچّے کا ہر چھے ماہ بعد ڈینٹل چیک اَپ ضرور کروائیں۔

اچھی عادات اور بروقت دیکھ بھال، بچّوں کے دانت سیدھے، مضبوط اور صحت مند رکھنے کی کنجی ہیں۔ بچپن میں دانتوں کے مسائل نظر انداز کرنا، مستقبل میں بڑے اور منہگے علاج کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھ بھال، بروقت علاج معالجے اور آگاہی سے بچّوں کو صحت مند مسکراہٹ دی جا سکتی ہے۔ (مضمون نگار، معروف ڈینٹل سرجن ہونے کے ساتھ، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کی رُکن بھی ہیں اور کراچی میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید