• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علیمہ خان بانی کی بیماری کیش کرانا چاہتی ہیں: محسن نقوی

محسن نقوی---اسکرین گریب
محسن نقوی---اسکرین گریب

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کی آنکھ سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، اس معاملے میں بھر پور قسم کی سیاست کھیلی گئی ہے، علیمہ خان بانی کی بیماری کیش کرانا چاہتی ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں تھے، علاج کے معاملے میں کوئی بھی قیدی ہو آئین و قانون کے تحت اسے سہولت فراہم کریں گے، ہم نے کہا کہ کسی معروف آئی اسپیشلسٹ کا نام دے دیں چیک اپ کرا دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقل کریں، ہم نے کہا یہ ممکن نہیں، ہم نے سرکاری اور پرائیویٹ بہترین ڈاکٹروں کا انتخاب کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی چیئرمین کو کہا کہ آپ خود ڈاکٹرز کی موجودگی کا جائزہ لے لیں، ہم ایک گھنٹے تک گوہر صاحب کا انتظار کرتے رہے، گوہر صاحب نے کہا کہ پارٹی قیادت سے مشاورت ہوئی وہ نہیں آسکیں گے، ساڑھے 3 بجے ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا، ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں رہے، ہم نے پھر بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سینیٹ آ جائیں، انہیں کہا کہ اپنے ڈاکٹروں کو بھی ساتھ لے آئیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ڈاکٹر تو لاہور میں ہیں، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سینیٹ پمز آ گئے، وہاں پر انہوں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ڈاکٹروں سے ملاقات کی، ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات میں 45 منٹ 2 ڈاکٹرز فون پر ان ڈاکٹرز سے بریفنگ لیتے رہے، تقریباً 45 منٹ ہی سیاسی رہنماؤں نے بریفنگ لی، ان کے ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ بہترین علاج ہو رہا ہے، اگر ہم بھی علاج کرتے تو ایسا ہی کرتے، سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ ہم علاج سے مطمئن ہیں، میں نے کہا کہ آپ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھ لیں اگر کوئی ٹیسٹ رہ گیا ہے تو بھی کرا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے پارٹی کے لوگوں کو کہا کہ یہ ہم مان گئے تو ہمارا ایشو ڈاؤن ہو جائے گا، علیمہ خان کی وجہ سے میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا، اس معاملے میں بھرپور قسم کی سیاست کھیلی گئی ہے، اگر آپ کی نیت ٹھیک ہوتی تو آپ پہلے روز ہی مان جاتے، سیاسی لیڈر آن بورڈ ہوتے تھے لیکن علمیہ خان معاملے پر ویٹو کر دیتی تھیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ اس معاملے کو کیش کرنا چاہتی ہیں، بانئ پی ٹی آئی کو آنکھ میں انجیکشن لگنا تھا، ہم نے احتیاطاً اسپتال جا کر بانئ پی ٹی آئی کو انجیکشن لگوایا۔

ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قیدی ہو، اس کو علاج کی ضرورت ہے تو یہ ہمارا فرض ہے، لیکن ملک میں دیگر قیدی بھی ہیں، بانئ پی ٹی آئی کو جو کھانا ملتا ہے وہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے، پھر یہ روڈ بلاکس، لوگوں کو تنگ کرنا کیوں؟ صحافیوں کو لے جا کر دکھانا چاہیے کہ وہاں جو سہولتیں ہیں وہ دیکھیں، حکومت اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، آپ کے پاس کل میڈیکل رپورٹ بھی آ گئی ہے اور اس میں تمام چیزیں تھیں، بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو غیر مناسب ہیں، جو میں اس وقت شیئر کروں، اس طرح کا تماشہ بنانا بالکل غیر مناسب ہے اور لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل کے معاملے پر پنجاب حکومت سے معلوم کر کے بتائیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ آچکا ہے کہ کے پی میں بند سڑکوں کو بحال کیا جائے، کسی اور کے عزائم میں اپنی سیاست کرنے والے عوام کے دشمن ہیں، ہم عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے، کوشش کی گئی کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کی جائے، ہم نے صورتِ حال کو خوش اسلوبی سے سنبھالا، کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کا حل بات چیت سے ہوتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید