حکومتِ سندھ نے امریکی محکمہ زراعت کے تعاون سے صوبے کے 1300 سرکاری پرائمری اسکولوں میں زیرِ تعلیم دو لاکھ سے زائد طلبہ کو مفت پکا ہوا کھانا اور گھروں کے لیے راشن فراہم کرنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔
منصوبے کے تحت امریکا میک گورن ڈول پروگرام کے ذریعے 80 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی، جہاں سندھ حکومت کی نمائندگی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کی، جبکہ امریکا کی جانب سے امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمین نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
تقریب میں سیو دی چلڈرن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر محمد خرم گوندل اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کوکو اُشیاما بھی موجود تھیں۔
یہ مفاہمتی یادداشت سندھ حکومت، امریکی محکمہ زراعت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور سیو دی چلڈرن کے مابین طے پائی ہے۔ منصوبے کے تحت سندھ بھر کے منتخب پرائمری اسکولوں میں طلبہ کو روزانہ پکا ہوا کھانا فراہم کیا جائے گا جبکہ گھر کے لیے راشن بھی دیا جائے گا۔ پروگرام پر عملدرآمد سیو دی چلڈرن اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ غذائی قلت سے نمٹنے اور اسکولوں میں حاضری بڑھانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے پسماندہ علاقوں میں بچوں میں غذائی قلت نمایاں ہے، جو نہ صرف صحت بلکہ سیکھنے کے عمل کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ آج ہم سندھ میں تعلیم اور غذائیت کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم نے امید ظاہر کی کہ اسکول میلز پروگرام اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اساتذہ، ہیڈ ٹیچرز اور اسکول منیجمنٹ کمیٹیوں کو فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن سے متعلق تربیت دی جائے گی، جبکہ منصوبے کے تحت اسکولوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (واش) کی سہولتوں کی بحالی بھی شامل ہے۔
پروگرام کے لیے امریکی گندم، دالیں اور پکانے کا تیل فراہم کیے جائیں گے، جبکہ پھل اور سبزیاں مقامی کسانوں سے خریدی جائیں گی، جس سے صوبائی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک جوائنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔