رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں انسانی طبیعت نرم اور نیکی کی طرف مائل ہوتی ہے۔گناہ کے مواقع نسبتاََ کم اور نیکی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا سمندر پورے جوبن پر ہوتا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسے امر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا جائے جو تمام انسانی افعال و اعمال کا محور و مرکز ہے۔تزکیہ نفس ایک ایسا اہم اور شاندار عمل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ایک حصہ ہے جس کی قبولیت کے طور پر رحمت عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی۔تزکیہ نفس ایک نبوی فریضہ ہے جس طرح کہ سورہ بقرہ اور سورہ جمعہ میں فرائض نبوت کے ضمن میں صراحت کے ساتھ اللّٰہ کریم نے بیان فرمایا۔
تزکیہ نفس دراصل انسان کی باطنی تطہیر اور اخلاقی تعمیر کا وہ عمل ہے جس کے بغیر نہ فرد کی انفرادی زندگی سنور سکتی ہے اور نہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے انسانی کامیابی کو اسی حقیقت سے وابستہ کرتے ہوئے اعلان فرمایا یقیناً وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہی نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کر دیا۔ یہ آیت انسانی جدوجہد کا مرکز و محور متعین کرتی ہے کہ اصل معرکہ باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے باطن میں برپا ہے۔ انسان کے اندر خیر اور شر دونوں رجحانات ودیعت کیے گئے ہیں۔ قرآن نے نفسِ امارہ کا ذکر کیا جو برائی پر اکساتا ہے، اور نفسِ مطمئنہ کا بھی جو سکون و اطمینان کی منزل پر فائز ہوتا ہے۔ یہ سفر امارہ سے مطمئنہ تک کا سفر ہی تزکیہ نفس کا سفر ہے۔ یہ کوئی وقتی کیفیت نہیں بلکہ مسلسل مجاہدہ ہے۔ خواہشات کی بے لگام آزادی، غصہ، حسد، تکبر، بخل اور ریا جیسے باطنی امراض انسان کی روح کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جب تک ان امراض کا علاج نہ کیا جائے، ظاہری عبادات بھی اپنا مطلوب اثر پیدا نہیں کرتیں۔
رسول اکرم ﷺ نے باطن کی اصلاح کو بڑی اہمیت دی۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:‘‘خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو وہ دل ہے(صحیح بخاری)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اصل مرکز دل ہے۔ دل کی صفائی، نیت کی درستگی اوراخلاص کی پختگی ہی تزکیہ کی بنیاد ہے۔ جب نیت میں کھوٹ ہو تو بڑے بڑے اعمال بھی بے وزن ہو جاتے ہیں، اور جب اخلاص ہو تو معمولی عمل بھی مقبولیت پا لیتا ہے۔
تزکیہ نفس کا پہلا مرحلہ خود احتسابی ہے۔ انسان اپنے اعمال، افکار اور ارادوں کا جائزہ لے۔ وہ یہ دیکھے کہ اس کے اندر کون سی کمزوریاں سر اٹھا رہی ہیں۔ کیا اس کی زبان دوسروں کی عزت محفوظ رکھتی ہے؟ کیا اس کا دل کینہ اور بغض سے پاک ہے؟ کیا اس کے معاملات میں دیانت ہے؟ جب تک یہ سوالات سنجیدگی سے نہ پوچھے جائیں، اصلاح کا دروازہ نہیں کھلتا۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ‘‘اپنا محاسبہ خود کرو قبل اسکے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔’’یہی احتساب تزکیہ کی شاہراہ ہے۔تزکیہ نفس کا دوسرا مرحلہ مجاہدہ ہے۔ محض خواہش کر لینا کافی نہیں، نفس کے خلاف جدوجہد بھی ضروری ہے۔ جب انسان کو غصہ آئے تو خود کو روکے، جب حسد ابھرے تو اس کے بجائے خیر خواہی کو جگہ دے، جب تکبر سر اٹھائے تو عاجزی اختیار کرے۔ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں رفتہ رفتہ کردار کو نکھار دیتی ہیں۔
تزکیہ نفس کا ایک اہم پہلو ذکرِ الٰہی ہے۔ دل جب غفلت میں ڈوب جاتا ہے تو اس پر زنگ چڑھ جاتا ہے۔ ذکر اس زنگ کو صاف کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے’ یادِ الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے‘۔ یہ اطمینان دراصل نفس کی طہارت کا ثمر ہے۔ جو دل خدا کی یاد سے آباد ہو جائے، وہاں نفرت اور اندھی خواہشات زیادہ دیر قیام نہیں کر سکتیں۔معاشرتی زندگی میں بھی تزکیہ کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے۔ اگر عبادت گزار شخص کے اخلاق میں سختی، معاملات میں بددیانتی اور گفتگو میں تلخی ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ تزکیہ کا عمل ادھورا ہے۔ حقیقی پاکیزگی وہ ہے جو انسان کو دوسروں کیلئے رحمت بنا دے۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت اسی باطنی پاکیزگی کا عملی نمونہ ہے کہ دشمن بھی آپ کے اخلاق کے معترف تھے۔ یہی وہ معیار ہے جس تک پہنچنا تزکیہ نفس کا مقصد ہے۔
آج جبکہ مادیت غالب ہے اور مقابلہ بازی نے انسان کو بے چین کر رکھا ہے، تزکیہ نفس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔آج کے زمانے میں تزکیہ نفس کا فریضہ وہ خانقاہیں سرانجام دے رہی ہیں جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق سالک کی تربیت کی جاتی ہے۔ایک مرید اپنے شیخ کے ہاتھ پر جب بیعت کرتا ہے تو دراصل یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی شریعت مطہرہ کے مطابق گزارے گا۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ صرف وہی خانقاہ تزکیہ کا فریضہ انجام دے سکتی ہے جو خود پابند شریعت ہو۔ایسی خانقاہ جہاں سنت رسول کی دھجیاں اڑائی جائیں،شریعت کا مذاق اڑایا جائے وہ تزکیہ کے بجائے گمراہی کا سبب بنتی ہے۔
تزکیہ نفس ایک ہمہ گیر انسانی ضرورت ہے۔ یہ انسان کو توازن عطا کرتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کا غلام نہیں بنتا۔ یہی اعتدال انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔اور یہی اصل تزکیہ ہے جسکی طرف قرآن بلاتا ہے۔آئیے اس ماہ مقدس میں قرآن کے ساتھ جڑ جائیں اور تزکیہ کی عملی مشق کیلئے ان خانقاہوں کی طرف رجوع کریں جو اللّٰہ اور اسکے رسول کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔