• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چاولوں کی بڑی ترسیل پر کیوبا کا چین کا شکریہ، امریکا پر سخت تنقید

---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

کیوبا نے اعلان کیا ہے کہ چین کی جانب سے بھیجے گئے 60,000 ٹن چاول کی امداد میں سے پہلی کھیپ ہوانا کی بندرگاہ پہنچ گئی ہے۔

پہلی کھیپ میں 15,000 ٹن چاول شامل ہیں جس پر کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے چین کا شکریہ ادا کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق کیوبا اس وقت شدید انسانی بحران، ایندھن کی قلت اور ملکی سطح پر بجلی کی بندش کا سامنا کر رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں اور تیل کی ناکہ بندی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے رواں سال سے کیوبا پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور وینزویلا سے تیل کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے۔

کیوبا کے توانائی کے وزیر کے مطابق ملک کے تیل کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹ، اسپتال اور دیگر بنیادی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔

صدر دیاز کانیل نے امریکا پر ’اجتماعی سزا‘ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی دراصل حکومت کی تبدیلی اور ممکنہ فوجی مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق کیوبا نے واضح کیا ہے کہ وہ مشکل حالات کے باوجود چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنائے گا۔

دوسری جانب چین ناصرف خوراک بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی کیوبا کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے جس میں سولر پینلز کی فراہمی بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور کیوبا کے تعلقات مزید کشیدہ اس وقت ہوئے جب واشنگٹن نے کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996ء میں 2 طیارے گرانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید