• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خودمختاری کا دوسرا نام"خواب" ہو چکا، ایسا خواب کہ جس کو تعبیر کے بدلے ایک اور خواب مل جائے، ایسے جیسے زندگی ایک سلسلۂ خواب در خواب ہو ! ہمارے دلبر سیاست دان اور اشرافیہ کے دانشور جب کسی محفل میں جلوہ گر ہوں تو مڈل کلاس کو بڑا دلکش جملہ عنائت کرتے ہیں کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو سوتے میں دیکھے جائیں ، خواب وہ ہوتے ہیں جو سونے نہ دیں۔ "سونے نہ دیں" کے بھاشن سے ان کا مطلب یہ ہے کہ تعبیر کے حصول کیلئے دن رات ایک کردیں۔ لیکن بقول سلیم کوثر "دیکھتے کچھ ہیں دکھاتے ہمیں کچھ ہیں کہ یہاں/کوئی رشتہ ہی نہیں خواب کا تعبیر کے ساتھ" لیکن اپنے خوابوں کا یا پھر خود مختاری کاایک اور "دلکش" تذکرہ کرتے ہوئے دلبروں کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے کہ"کاسۂ خواب سےتعبیر اُٹھا لیتا ہے....پھر بھی آبادی کو جنگل نہیں ہونے دیتا"دوسرے مصرعے میں دلبر ایلیٹ ٹرائی اینگل کا کیا خوب بھرم رکھا ہے گیا "آبادی کو جنگل نہیں ہونے دیتا"ورنہ بات تو اسکے برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دلبروں کی یہ تکون جو اشرافیہ دانشور ، بیوروکریسی اور سیاست دان پر مشتمل ہے اس کے تینوں کونے سفید پوشی کی روح اور بدن کو چھلنی کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ خودمختاری کے مطلب کو جس طرح اس طبقے نے اپنی مختاری میں بدل رکھا ہے اس کےتمام مطالب و معانی بدل چکے ہیں۔ ان کے نزدیک ا گر جمہوریت عوام کی حکومت ، عوام سے اور عوام کیلئے والی صداقت عامہ ہوتی تو لوکل باڈیز الیکشن سے کسی خودمختاری کا کوچہ و بازار میں کوئی اہتمام نہ ہوتا۔ ایلیٹ ٹرائی اینگل کے کسی رکن سے بات کر کے دیکھیں وہ اپنے آپ کو بین الاقوامیت کا ماہر گردانیں گے۔ پھر بتائیے کہ سوئزر لینڈ کی براہ راست جمہوریت کا ماڈل برا ہے یا ناروے کے بلدیاتی اداروں کے پاس ایجوکیشن اور ہیلتھ فنڈز اور اختیارات برے ہیں؟ کیا دلبروں کو یہ معلوم ہے کہ ڈنمارک کے بلدیاتی ادارے جو خود ٹیکس اکٹھا یا خرچ کرتے ہیں وہ برا طریقہ ہے یا سویڈن کی بنیادی جمہوریت سماجی بہبود وہ کام جو خود کرتی ہے اس میں کیڑے ہیں؟ فن لینڈکے بلدیاتی ادارے دنیا کا سب سے بہترین ایجوکیشن سسٹم چلاتےہیںاورجرمنی کا آئین بنیادی جمہوریت کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے! نیدرلینڈ کے بلدیاتی اداروں کے پاس آبی نظام و شہری منصوبہ بندی ہے اور کینیڈا کے مئیرز معاشی ترقی کا ٹارگٹ رکھتے ہیں۔نیوزی لینڈکی مقامی کونسلوں نے ماحولیات اور کمیونٹی کی ترقی کی مکمل ذمہ داری لے رکھی ہے، آسٹریلیا میںسہولت کاری اور انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال مقامی حکومتوں کا فرض ہے۔ ہم نے دنیا کے ٹاپ کلاس ملکوں کو بالترتیب سامنے رکھ دیا۔ لیکن اس رکھنے ،دکھانے سے کیا فرق پڑتا ہے چار سال بیت گئے سپریم کورٹ نے دفعہ 140-اےسامنے رکھی کوئی فرق پڑا ؟ اہل دل نے آئینی عدالت تو بنادی شب بھر میں مگر من جب پرانا پاپی ہو تو کیا ہو۔ سٹیٹس کو کا تحفظ اور نظریاتی الجھنیں بیل منڈھے نہیں چڑھنے دیتیں ورنہ متذکرہ ممالک اور پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے عوام کے خوابوں اور خودمختاری کی سائنس میں کوئی فرق تو نہیں ، فرق ہے تو حکومت ، بیوروکریسی اور اشرافیہ کا۔ جہاں ایک اے سی اور ڈی سی کے پاس اختیارات جمع کروائے گئے ہیں کہ جب اوپر والے چاہیں وہ اختیارات کیش کر لیں اور اشرافیہ کی تکون جب چاہے خودمختاری کو ایک کاسہ بنا دے۔ وزرائے اعلیٰ تو کیا وزرا کا کام بھی نہیں ہے کہ صفائی کنٹرول کریں یا سستے بازاروں میں جاکر سستی شہرت سمیٹیں یہ بنیادی حکومتوں کے کام ہیں جبکہ صوبائی حکومتوں کو تو آئین نے 18 ویں ترمیم سے ایک زبردست خودمختاری مہیا کردی تھی جو راس نہ آئی ۔ بقول اقبال: "تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا/ ورنہ گُلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے"ہاں، اڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزمِ ناز سے کہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت اپر ٹیئر لوکل گورنمنٹس کو غیر معمولی مالی اور انتظامی اختیارات دیئے گئے ہیں، کہا یہ بھی گیا ہے کہ ٹاؤن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز اور تحصیل کونسلز کو ٹیکس، فیس اور جرمانوں کی منظوری اور وصولی کے مکمل اختیارات ملیں گے۔ بلڈنگ ، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نجی اراضی پر دسترس ہوگی ۔ اللّٰہ کرے یہ سب ہو مگر پہلے انتخابات تو ہوں یہ جو دسمبر 2021 سے نچلی سطح پر جمہوریت معطل ہے۔ مسئلہ اس وقت حل ہوگا جب ایم پی ایز اختیارات اور فنڈز کے ارتکاز پر بناؤ والی پالیسی ہوگی، 2019 سے مسلسل قوانین کی تبدیلی والا عمل کہیں رکے اور سیاسی ناکامی کے خوف سےچھٹکارا ہو گا۔ یہی نہیں انتظامی رکاوٹیں بھی جب عبور ہو جائیں گی تو ہم مانیں گے جی بی سرکار کی نیت ٹھیک ہے! عمل سے زندگی بنتی ہے۔ جہاں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے سامنے صوبائی حکومت کئی تاخیری حربے رکھ دے کبھی حلقہ بندیاں تو کبھی امن و امان کا مسئلہ تو پھر اونٹ کسی کروٹ کیسے بیٹھے؟ آخر خودکار کیلنڈر کیوں نہیں؟ دراصل ممبران صوبائی اسمبلی اور بیوروکریسی اپنی چمک دمک چھوڑ کر بلدیاتی اداروں کو اختیارات ہی نہیں دینا چاہتے، بیوروکریسی کی تو چاندی ہو جاتی ہے جب نئی تحصیلیں اور اضلاع بنیں اور کاروبار کے نئے دریچے کھلیں پس یہ "براؤن کیپٹلسٹ" راج دلارے عوام کو راج کیوں دیں گے۔؟وہ برے سہی مگر آمروں نے نظام دئیے: 1959 میں جنرل ایوب کی صورت میں بیسک ڈیموکریسی ( بی ڈی) نظام ملا، جنرل ضیاء سے1979ءمیں لوکل گورنمنٹ کا نظام مع گاؤں اور شہروں کیلئے الگ کونسلیں میسر آئیں اور جنرل مشرف کی شکل میں 2001ءمیں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس سے نچلی سطح تک اختیارات ملے، مشرف کا نظام تاریخ کا بہترین نظام تھا۔ شاہی تکون کی نیت کی خرابی نہ ہوتی تو پنجاب اور دیگر صوبے ان نظاموں کو انجوائے کر رہے ہوتے۔ جہاں مقامی نمائندے ہیں وہ بھی اختیار کے خواب دیکھتے ہیں۔ خیر، آج کراچی اور دیگر مئیرز پر انگلی اٹھانے والے کوئی اپنا ہی سچا جھوٹا مئیر بھی تو دیں؟ ورنہ وہ جمہور پسند آمروں سے کیسے اچھے ہوئے جو خواب کو تعبیر ہونے دیں نہ خودمختاری کی کہانی کو مکمل؟

تازہ ترین