ٹیلی ویژن میزبان اور اداکارہ جویریہ سعود نے سوشل میڈیا پر اس وقت سخت ردعمل کا اظہار کیا جب انہوں نے ٹیلی ویژن کی سینئر اداکارہ فضیلہ قاضی کی رمضان ٹرانسمیشنز پر تنقید کا سخت لہجے میں جواب دیا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اداکارہ فضیلہ قاضی نے اپنے سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک شیطان کو رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا، ’کون سی باتیں ہو رہی ہیں رمضان ٹرانسمیشن میں، ہم ریٹنگز کے لیے تمام حدیں پار کر لیتے ہیں۔‘
اس پوسٹ پر جویریہ سعود خاموش نہ رہیں اور انہوں نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر اس کے بارے میں براہِ راست فضیلہ قاضی کے بیان کو ہدف بنایا اور جواب دیتے ہوئے کہا، ’ان بیچاری کو موقع نہیں ملا کسی ٹرانسمیشن کو ہوسٹ کرنے کا، اس لیے شیطان کی خالہ کہہ رہی ہیں کہ انگور کھٹے ہیں۔‘
جویریہ سعود کا ردعمل تیزی سے وائرل ہوا اور سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔
کئی صارفین نے فضیلہ قاضی کا موقف سراہتے ہوئے جویریہ سعود کے لہجے پر تنقید کی، جبکہ کچھ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فضیلہ نے اپنی اصل پوسٹ میں کسی میزبان کا نام نہیں لیا تھا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’فضیلہ قاضی بالکل درست کہہ رہی ہیں‘۔ ایک اور نے تبصرہ کیا کہ ’ان ساری فضول ٹرانسمیشنز کو بند ہی کر دیں تو بہتر ہے‘۔ تیسرے نے کہا، ’میں فضیلہ قاضی سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔‘
کچھ صارفین نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سینئر فنکارہ کی تنقید کو جس انداز میں ہینڈل کیا گیا وہ مناسب نہیں تھا۔ ایک تبصرے میں لکھا تھا، ’بری بات ہے، سینئرز آج کچھ کہہ دیں تو ان سے برداشت نہیں ہوتا۔‘ جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’فضیلہ قاضی نے کسی کا نام نہیں لیا تھا۔‘