• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلثوم پارس

؎ دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہے… تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سَراب۔ مَیں اکثر پھپھو کے کمرے میں جاتی تو وہ اپنی آرام کرسی پر آنکھیں موندے پرانے ٹیپ ریکارڈر پر یہ غزل سُن رہی ہوتیں۔ مجھے اِس غزل کی کبھی سمجھ ہی نہیں آئی۔ مَیں منہ بسورتی اور پھوپھو کی آنکھوں پر چُپکے سے ہاتھ رکھ دیتی۔ وہ ہمیشہ ہی مجھے میرے ہاتھوں کے لمس سے پہچان لیتی تھیں۔ پھپھو کو یہ غزل بہت ہی پسند تھی۔ 

ہوتی بھی کیوں ناں؟ پھوپھا کے گزر جانے کے بعد وہ خُود کو بہت تنہا محسوس کرتی تھیں۔ پسند کی شادی… چھوٹی عُمر میں اچانک اُن کا بیوہ ہو جانا…گھر پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ پھپھو کو بیوگی کی چادر اوڑھے دس سال کا عرصہ گزرگیا تھا، مگر پھوپھا تو جیسے آج بھی اُن کے اِردگرد موجود تھے۔ وہ کبھی ان کو بھولتی ہی نہیں تھیں۔ محض تین سال کے مختصر ساتھ کے بعد پھوپھا اُنہیں داغِ مفارقت دےگئے۔ 

جب تک دادا، دادی زندہ رہے، پھوپھو کو شادی کے لیے قائل کرتے رہے، مگر وہ تھیں کہ پھوپھا کی محبّت کو متاعِ جاں بنانے کا پکا عزم کر چُکی تھیں۔ اس دوران اچھے اچھے رشتے بھی آئے، مگر انہوں نے مان کے ہی نہ دیا۔ ابّا، امّاں نے بھی ایک حد تک اصرار کیا۔ ایک عجیب سی اداسی اُن کے چہرے سے جھلکتی تھی، جو گویا اُن کی پہچان بن گئی تھی۔ وہ سب کے سامنے ہنستی مسکراتی رہتیں۔ امّی کے ساتھ اُن کی اچھی بنتی تھی۔ 

اور یوں پھر آہستہ آہستہ دادا، دادی کے رخصت ہونے کے بعد ابّا، امّاں نے پھپھو کو دوسری شادی کے لیے قائل کرنا چھوڑ دیا۔ کبھی کبھار باتوں باتوں میں بات چل نکلتی تو ہمیشہ اِسی بات پر مُصر رہتیں کہ اگر دوبارہ کسی نے اُنہیں دوسری شادی کے لیے مجبور کیا، تو وہ گھر چھوڑ کر چلی جائیں گی۔ یوں پھرکسی کی جرأت ہی نہ ہوئی کہ وہ پھپھو کو قائل کر سکیں۔

وقت کا دھارا بہتا رہا اور ہم سب بڑے ہوگئے۔ ایک ایک کر کے سب بہن بھائیوں کی شادیاں ہوتی گئیں۔ مَیں صائم کے ساتھ بہت خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی۔ صائم کے گھر والے بہت سلجھے ہوئے تھے۔ گھر کا ماحول بہت ہی خوش گوار تھا۔ میرے ساس، سُسر ہمیشہ آپ جناب کر کے آپس میں بات کرتے تھے۔ مجھے اُس گھر میں اپنی جگہ بنانے میں زیادہ وقت نہیں لگا، کیوں کہ میری ساس نے ہمیشہ ہی میری کم عُمری اور نادانیوں پراپنی سمجھ داری سے پردہ ڈال دیا۔ 

صائم اور میرا رشتہ بھی مثالی رہا۔ ہر طرف خوشیوں کے پھول کِھلے تھے اور پھر اِن خوشیوں پر کسی بلا کاسایہ پڑ گیا۔ صائم، جو ہمیشہ ہی سے کار ریسنگ کا شیدائی تھا، ایک کار مقابلے میں اُس کا بہت خطرناک ایکسیڈنٹ ہوا اوروہ دارِعدم سدھار گیا۔ یوں محض دوسال کا ساتھ ایک خواب بن کر رہ گیا۔ بظاہر تو صائم اِس دنیا سے چلا گیا، مگر وہ میری روم روم میں بس گیا تھا۔ اب اس کی محبّت سے جان چھڑانا ناممکن ہوگیا تھا۔

میری ساس، سسر کے بہت اصرار کے باوجود عدّت کےبعد امّاں، ابّا مجھے اپنے گھر لے آئے۔ پھپھو کے ساتھ میرا وقت اچھا گزر جاتا تھا، کیوں کہ وہ میرے بات کرنے سے پہلے ہی میری ہر بات سمجھ لیتی تھیں۔ سب یہی کہتے تھے۔ پھوپھی، بھتیجی ایک جیسی قسمت لے کر پیدا ہوئی ہیں۔‘‘ مَیں اکثر کہتی۔ ’’میری زندگی بھی صائم کی یادوں کے سہارے گزر جائے گی، پھپھو کی بھی تو گزر رہی ہے ناں۔‘‘

مگر میری اِس خوش فہمی کا بُت اُس وقت پاش پاش ہوگیا، جب ابّا کو میری دوسری شادی کرنے کا مشورہ سب سے پہلے پھپھو جان نے ہی دیا۔ میں بِلبلا اُٹھی۔ ’’کوئی اتنا دورُخا کیسے ہو سکتا ہے؟؟ جو بات آپ اپنے لیے پسند نہیں کرتیں، وہ میرے لیے کیسے سوچ سکتی ہیں۔ اتنی محبّت دینے والے شوہر کو کھونے کے بعد کسی دوسرے کی گنجائش بچتی ہے کیا پھپھو!!‘‘ ’’ہاں!!!! بچتی ہے۔ 

مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا میری جان!! کیوں کہ یادیں ایک عُمر تک آپ کے گرد محبت کاحصار باندھے رکھتی ہیں، مگر ایک وقت آتا ہے، اِنہی یادوں پر فراق کی کائی جم جاتی ہے اور یہ باس مارنے لگتی ہیں۔ اُس کےبعد آپ کواِس بدبو سے باہر نکالنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔ 

آپ ہوتے ہیں اور آپ کی تنہائی… اور یہ تنہائی آپ کو اندر سے کھاجاتی ہے، گھُن کی طرح۔ میری جان! یہ زندگی اتنی بھی چھوٹی نہیں، جتنی ہم نے سمجھ لی ہے۔‘‘ اُس وقت وہ نہیں، اُن کا اکیلا پن چیخ چیخ کر بول رہا تھا۔ جو بھی تھا، آج پہلی بار مجھے ان کی باتیں زہر لگ رہی تھیں۔

ابّا، اماں اور پھپھو کے ووٹ ایک طرف تھے اور مَیں بےچاری ایک طرف۔ آخرکار، میری شادی مجھ سے عُمر میں دس سال بڑے شخص کے ساتھ کردی گئی۔ مَیں بیس کی تھی اور مرتضٰی تیس کے۔ اوپر سے صاحبِ اولاد بھی تھے۔ ہزار واہمے، خدشے مجھے ہر آن گھیرے رکھتے۔ 

مجھے ڈراتے رہتے کہ پتا نہیں، آئندہ آنے والا دن کیسا ہوگا؟ میرے سامنے ایک بہت بڑی مہم تھی، جس میں مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کام یاب ہونا تھا۔ مگر… مرتضیٰ کے پیار نے میرے سارے ڈربُھلا دیئے۔ اُن کا پیار میرے لیے گھنی چھاؤں ثابت ہوا۔ اُنہوں نے مجھے توجّہ، پیار اورعزت دی، جس سے میرے لیے زندگی میں آگے بڑھنا آسان ہوگیا اور پھر دو سالہ شہیر کے ساتھ زندگی کا لطف دوبالا ہوگیا۔ 

ایک سال ہی بعد اللہ نے مجھے بھی صاحبِ اولاد کردیا۔ یوں میرے پاس غم گین رہنے کے لیے وقت ہی کہاں بچا۔ صائم کی یادیں بھی اُس کی طرح منوں مٹی تلے جا سوئیں اور مَیں ماضی سے نکل کر حال میں جینے لگی۔ بلکہ میرے بچوں نے مجھےحال و بےحال کر دیا۔ رات کو سونے لیٹتی تو کوئی ہوش ہی کہاں رہتا تھا۔ صُبح اٹھتی، تو کہتی۔ ہائیں! ابھی تو سوئی تھی اور صبح بھی ہو گئی؟؟؟

شب و روز سہج سہج گزرتے رہے۔ مجھے رہ رہ رہ کر پھپھو کا خیال آتا تھا کہ کیسے اُنہوں نے پوری زندگی تنہا گزار دی۔ بہت بوڑھی ہو گئی تھیں۔ ان کی بیماریوں نے ان کےگرد حصار بنا لیا تھا۔ میرے پاس اپنے جھمیلوں سے نکلنے کا وقت نہیں تھا۔ شوہرِ نام دار نے ملازمت کو خیرباد کہنے کے بعد ہمیں مزید پُرآسائش زندگی دینے کے لیے نیا کاروبار شروع کیا تھا، تو اب وہ گھر میں کم اور باہر زیادہ رہتے تھے۔ 

بڑا بیٹا سی ایس ایس کر رہا تھا۔ چھوٹا کالج جاتا تھا اور ساتھ آن لائن کام کرتا تھا۔ سارا دن اپنے ساتھ لیپ ٹاپ چپکائے رکھتا۔ نہ کھانے کا ہوش، نہ پینے کی فکر…بیٹی بھی کالج سے آ کر اپنے کمرے میں دُبک کر بیٹھ جاتی۔ جب بھی اسے آواز دیتی کہتی۔’’امّی! اسائنمینٹ تیار کررہی ہوں، کل جمع کروانا ہے۔‘‘ ایسا نہیں تھا کہ بچّے میراخیال نہیں رکھتے تھے۔ بس، آج کل کی آسائشوں نےاُنہیں اپنا غلام بنالیا تھا۔

آج جب اکیلے گروسری کر کے مَیں واپس آئی ، تو گھر میں ہُو کا عالم تھا۔ تینوں بچّے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کوئی لیپ ٹاپ پر تو کوئی موبائل پر…اُن کو میرے آنے کی بالکل بھی خبر نہ ہوئی۔ مَیں اسی افسوس میں تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ پھپھو تھیں، اپنی لرزتی ہوئی آواز میں گویا ہوئیں۔ ’’بہت دن ہوئے ملنے نہیں آئی ہادیہ! کہاں رہتی ہو آج کل۔‘‘ مَیں نے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے بچّوں پر ایک نظر ڈالی اور پھپھو کو جواب دیا۔ ’’دشتِ تنہائی میں…‘‘

سنڈے میگزین سے مزید