’’جمال! چل، کیفے چلتے ہیں، تھک گئے، چائے پئیں گے۔‘‘ ’’چلتا ہوں، بس یہ اسائنمینٹ مکمل کرلوں۔‘‘ ’’بعد میں کرلینا۔‘‘ ’’پانچ منٹ کا کام ہے، چلتا ہوں۔ جلدی ہے، تو یہ کیٹل رکھی ہے، پانی، ٹی بیگ ڈال اور پی لے چائے۔‘‘ ’’نہیں یار! صرف چائے تھوڑی پینی ہے، ری لیکس کرنا ہے۔ اور… کیفے آنے والی ’’تتلیوں‘‘ کو دیکھنا ہے۔ رنگ برنگی، شوخ و چنچل شور مچاتی۔
دل رُبا، دل نشیں…‘‘ ’’اب تُو شروع ہوگیا، واہیاتیاں بکنے…‘‘ ’’ہاہاہا… واہیاتیاں؟ تُو کیا سمجھے گا جمال۔ تیرے تو جینز ہی الگ ہیں۔‘‘ ’’جینز… تُو کیسی باتیں کرتا ہے ساجد…‘‘ ’’چل چھوڑجمال! یہ بتا فون آیا؟‘‘ ’’ہاں، روز ہی آتا ہے۔‘‘ ’’کس کا، امّاں، کا ابّا کا؟ ابے! مَیں کسی اور کے فون کا پوچھ رہا ہوں۔ تیرے ہونٹ کیوں بِھنچ جاتے ہیں، اس سوال پر۔ دو سال ہو گئے اِدھر آئے، تیری منگیتر فون ہی نہیں کرتی؟‘‘ ’’کرتی بھی ہے، تو تجھے کیا؟‘‘ ’’ہمیں کیا؟ یہ کیا بات ہوئی۔ ہم تیرے دوست ہیں۔ دوستوں کو سب معلوم ہونا چاہیے۔‘‘ ’’کیوں معلوم ہونا چاہیے۔
ہر ایک کی پرائیویسی ہے، اور منگنی، شادی تو بالکل پرسنل میٹر ہے۔‘‘ ’’تُو کس مٹّی کا بنا ہے یار! ہر بات میں سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ یہاں لوگ بیویوں کی ہربات محفل میں بتا رہے ہوتے ہیں، مذاق اُڑاتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں اور تُوپچھلی صدی کی لڑکیوں کی طرح منگیتر کی باتیں چُھپاتا ہے۔‘‘ ’’ساجد دیکھو! ہم ایک جگہ، ایک محلے سے یہاں آئے ہیں۔ ہماری کچھ ویلیوز تھیں۔ ہم شریف مڈل کلاس لوگ تھے۔ ہمارےگھروں میں کچھ باتیں سکھائی جاتی تھیں۔ باہر آنے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ اپنی روایات ہی بھول جائیں۔‘‘ ’’صحیح کہا تُونے۔
پر اب اتنا سیریس مت ہو۔ اور یہ جو تُو باہر آنے کا کہہ رہا ہے، تجھے نہیں پتا، اپنے پیارے وطن میں بھی بھائی لوگ کتنے پانی میں ہیں۔ وہ زبیر ہے ناں، ایک وقت میں دو لڑکیوں سے چکر چلا رہا ہے۔ دونوں سے باتیں بناتا ہے، انجوائے کرتا ہے۔ تجھے نہیں پتا، لوگوں کی بیویاں پاکستان میں ہوتی ہیں، اُنہیں فون پر ٹہلاتے ہیں اور یہاں…‘‘ ’’اچھا، بس کر۔ کرنے والے جو بھی کرتے ہیں۔ تُو یہ بتا، کیا یہ صحیح ہے، اچھی بات ہے؟‘‘ ’’تُو غلط، صحیح پر کیوں آجاتا ہے فوراً۔‘‘ ’’اس لیے کہ زندگی میں صحیح، غلط ہی تو سب کچھ ہے۔ کیا غلط ہے، کیا صحیح، ٹرین پکڑتے وقت تو بہت دھیان رہتا ہے۔
کون سی ٹرین پکڑنی ہے، کون سا نمبرصحیح ہے، کون سا غلط۔ غلط ٹرین پر بیٹھ بھی جائو، تو اگلے اسٹاپ پر اُتر کر جلدی سے صحیح ٹرین پکڑتے ہیں۔ اور زندگی میں صحیح، غلط سوچے بغیر، جو چاہیں کرتے پھریں۔ جس راستے پر چاہیں، چلتے رہیں۔‘‘ ’’کیفے چلے گا یا یہیں نصیحتیں کرتا رہے گا۔‘‘ ’’چلتا ہوں۔ کمرا تو سمیٹ لوں۔‘‘ ’’یار! ایک تو مَیں تجھ سے بڑا عاجز ہوں۔
پتا نہیں کیوں، تیرے پاس آجاتا ہوں۔ بچپن کی دوستی جان نہیں چھوڑتی۔ ورنہ تیری اتنی سنجیدہ باتیں ہضم نہیں ہوتیں مجھے۔‘‘ ’’اچھے کھانے کا ٹیسٹ بنانا پڑتا ہے پیارے۔‘‘ ’’اچھا کھانا، کون سا اچھا کھانا؟ جو تُو صبح شام کِھلاتا ہے؟‘‘ ’’نہ بابا۔ اچھا چل، آج مَیں تجھے سچ مُچ کھانا کھلاتا ہوں۔‘‘ ’’واقعی …؟‘‘ ’’ہاں یار! کچھ ایکسٹرا پیسے کما لیے ہیں۔ ریسرچ پیپر لکھا تھا۔‘‘ ’’گُڈ…اور جمال بتا، آگے کا کیا سوچا ہے۔‘‘
’’بس، اگلا سیمسٹر رہتا ہے، پھر فیلڈ کی جاب مل جائے گی۔ میرا سپروائزر خوش ہے۔ اچھے ریمارکس دئیے ہیں، اس بار بھی۔ اور تم سناؤ۔‘‘ ’’ہاں یار!اللہ کا شُکر ہے۔ میری بھی جاب پکی ہی ہے۔ سوچ رہا ہوں چکر لگالوں گھر کا عید پر۔ رمضان تو گزرجاتا ہے کسی بھی طرح۔ عید کا دن نہیں گزرتا۔ امّاں بھی بہت بُلارہی ہیں۔ تین سال ہوجائیں گے گھر سے نکلے ہوئے۔ بھائی بہن بھی یاد آرہے ہیں۔‘‘
’’اور شادی؟ اُس کا کیا ہوا؟‘‘ ’’اپنی تو منگنی کا نہیں بتاتا۔ میری شادی کا پوچھتا ہے۔‘‘ ’’مَیں تو یہ پوچھ رہا ہوں، کب ہو رہی ہے شادی۔ تُو ہی بتا رہا تھا کہ تیرے گھر والےکب سے کہہ رہے ہیں۔‘‘ ’’کرلوں گا شادی بھی مگر…‘‘ ’’مگر کیا…؟؟‘‘ ’’بلانا بہت مشکل ہے۔‘‘ ’’کیوں مشکل ہے، جاب کررہا ہے۔ چھوٹا سا اپارٹمنٹ لے لینا۔ وہ بھی کچھ کر لے گی۔ ‘‘’’وہ کون؟ کوئی وہ نہیں، میری لائف میں۔ اور یار! اتنی جلدی مَیں تیار بھی نہیں۔
بس، آزاد رہو، مزے کرو۔‘‘ ’’کب تک آزاد رہے گا۔ اور یہ مزے کیا ہوتے ہیں۔ رنگ برنگی تتلیاں پکڑنا، ٹائم پاس کرنا؟‘‘ ’’تُو ٹھیک کہہ رہا ہے جمال! سوچ رہا ہوں شادی کرلیتا ہوں۔ امّاں، ابّا بھی خوش ہوجائیں گے۔ کب سے کہہ رہے ہیں۔ ویسے یہ بھی سوچ رہا ہوں جمال کہ فرق کیا پڑے گا شادی سے۔ شادی کوئی مجھے باندھ تھوڑی دے گی۔‘‘ ’’کیا مطلب؟‘‘ ’’بھئی، اب شادی وادی سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سب چلتا ہے۔‘‘ ’’سب چلتا ہے…؟‘‘ ’’تُو اِتنا بھولا کیوں بنتا ہے۔‘‘ ’’بھولا نہیں بنتا۔ ایک بات یاد آ رہی ہے۔ تم عرفان بھائی کو جانتے ہو؟‘‘ ’’وہی جو اپنی کمیونٹی کے لڑکوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔‘‘ ’’ساجد! تم جو بھی کہو عرفان بھائی بہت اچھے،مخلص آدمی ہیں۔
بہت مدد کرتے ہیں، نئے لڑکوں کی۔‘‘ ’’جمال! بس کر دے۔ بہت عجیب آدمی ہیں وہ۔‘‘ ’’عجیب کیا ہیں، اتنے اچھے آدمی ہیں۔ سب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ جاب کا بتاتے ہیں۔‘‘ ’’لیکن یار! کڑوی گولیاں بھی کھلاتے ہیں۔ ایسا چیک رکھتے ہیں، جیسے اُنہیں پیسے مِل رہے ہوں، اس کام کے۔ کوئی اِدھر اُدھر ہوا اور عرفان بھائی نے پکڑا۔‘‘ ’’تجھے تو نہیں پکڑا ناں کبھی…‘‘ ’’مجھے…؟‘‘ ’’مجھے پکڑنے کی کوشش تو بہت کی، مگر مَیں ہاتھ نہیں آیا اُن کے؟‘‘ ’’اچھا سُن۔ مَیں شروع میں عرفان بھائی کوبالکل نہیں جانتا تھا۔ بس، یہ پتا تھا، بہت پہلے آئے تھے۔
یہیں سے پڑھا ہے۔ اکثر یونی میں پائےجاتے ہیں۔ لڑکوں کےمسائل حل کرتے ہیں۔ میرا پہلا رمضان تھا یہاں۔ بغیر سحری کا روزہ۔ شدید پیاس لگ رہی تھی۔ بھوک سے بھی بُرا حال۔ سوچ رہا تھا کیا کروں۔ عرفان بھائی مجھے اپنے گھر لے گئے۔‘‘ ’’گھر… ؟ اپنے گھر لے گئے؟‘‘ ’’ہاں یار! اُنہوں نے مجھے افطار کی دعوت دی۔ اور اُس شام عرصے بعد مَیں نے گھر جیسی افطار کی۔ ٹھنڈا ٹھار شربت، گرما گرم پکوڑے، چھولے اور گھر کی بنی بریانی۔ وہ جو اُن کے گھر کے کچن سے اُٹھتی خوشبو تھی۔ بس، کیا بتاؤں۔
اپنا گھر یاد آگیا۔ امّاں، باجی سب گھر والے اور رمضان کی شام۔ پھر اُنہوں نے مجھے افطار ٹیبل پرایک بات کہی۔ ’’کیا بات؟‘‘ ’’انہوں نےکہا، جمال! بہت اچھی بات ہے، تم یہاں کے اتنے مختلف ماحول میں اتنی مشکل میں بھی روزے رکھ رہے ہو۔ اِس کا مطلب ہے، تمہاری تربیت بہت اچھی ہوئی ہے۔ ایک بات یاد رکھنا جمال۔ روزہ آنکھوں کا بھی ہوتا ہے، کانوں کا بھی ہوتا ہے اور زبان کا بھی۔ اور مرد ہو یا عورت، اُسے زندگی بھر یہ روزہ بھی رکھنا ہے۔ اِس بات کا ہمیشہ خیال رہے۔‘‘
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘
٭ انتخابِ غزل، زوالِ گفتگو (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭ تشکر (خالد نذیر خالد، سیٹلائٹ ٹاؤن، راول پنڈی) ٭ قبول ہے (مبشرہ خالد، کراچی) تہذیب کا ٹکراؤ، جو رسوا ہوا، سوشل بائیکاٹ (جاوید جواد حسین، گلشنِ اقبال، کراچی) ٭ بار (نعمان اسحق) ٭ نیا سال (راشدہ صدیق عباسی، چاہِ سلطان، راول پنڈی) ٭ مقدر، مَیں واقعی منٹو نہیں (رانا محمّد شاہد، بورے والا) ٭ جامنی جوڑا (قراۃ العین فاروق، حیدرآباد)۔
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’پیارا گھر‘‘
٭ چند بابرکت پودے، سفید زہر، خواہشات اور ضروریات، کھائو من بھاتا، گفتگو، ہرمسئلے کی چابی، آدابِ تحفہ، اصلاحی آداب، زیادہ بولنا، رحمت و ثروت، بچّوں میں کتب بینی، صدقہ، مہمان نوازی، کتب کی اقسام، کیفیتِ مومن، حاصل نعمتوں کا شُکر، عباداتِ الہٰی، کوکونٹ لڈو، تراکیب (راشدہ صدیق عباسی، چاہِ سلطان، راول پنڈی) ٭ سالِ نو کا آغاز (نمرہ نعیم) تربیتِ اطفال (نرجس مختار، خیرپور میرس)٭سردیوں کی سوغات (مبشرہ خالد، کراچی) ٭ معدوم ہوتا جوائنٹ فیملی سسٹم (فیصل کانپوری) ٭ خُود شناسی (ڈاکٹر محمّد افضل کمیانہ) ٭قصّہ انوکھی ڈائٹنگ کا (زہرا یاسمین)۔