افغانستان کہنے کو ہمسایہ اسلامی ملک ہے لیکن شاید ہی کبھی وہاں سے ٹھندی ہوا آئی ہو۔ پاکستان نے اُنہیں پناہ دی انہوں نے منشیات کا تحفہ دیا۔ پاکستان نے افغانوں کو تعلیم دی انہوں نے ہمارے نوجوانوں کو اسلحہ کلچر دیا۔ پاکستان نے افغان راہنماؤں کی کعبہ کے سائے میں ایک دوسرے کے ساتھ صلح کرائی انہوں نے یہاں باہمی منافرت کے بیج بو دیے اب تو حد ہی ہوگئی،افغان قیادت بھارت اور اسرائیل کی زبان میں بات کرنے لگی اورپاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔اب تو ریاست کو چاہئےتھا کہ وہ راست اقدام اٹھاتی۔چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر جو اس وقت عالمی سطح پراپنی پہچان بنا چکے ہیں،گزشتہ سال مئی میں معرکہ بنیان مرصوص میں بھارت کے دانت کھٹے کر چکے ہیں انہوں نے اس فتنے کی سرکوبی کا فیصلہ کر لیا۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل پرویز سدھو ایک دلیر اور باخبر سولجر ہیں انہوں نے اس فتنے سے پروفیشنل جنگی مہارت کے ساتھ نمٹنے کا فیصلہ کیا۔آخر اسکی نوبت کیوں آئی۔۔اس کا جواب ذرا پیچیدہ ہے۔حالیہ برسوں میں افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر ایسی عالمی اور علاقائی سازشوں کا مرکز بنتی دکھائی دے رہی ہے جس کا ہدف براہِ راست پاکستان کی سلامتی اور استحکام ہے۔یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بھارت طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف غیر علانیہ جنگ میں مصروف ہے۔ معرکہ بنیان مرصوص میں عبرتناک شکست کے بعد، اسکا اب جنگ کا طریقہ روایتی فوجی محاذ آرائی کے بجائے خفیہ کارروائیوں، دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ بھارت نے افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی پاکستان کے خلاف اسٹرٹیجک گھیرا تنگ کرنا تھا۔ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں اور خفیہ نیٹ ورکس کی موجودگی کوئی راز نہیں۔اس تناظر میں بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی خطے کی سیاست میں ایک اہم عنصر بن چکے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ، اسرائیلی قیادت کے ساتھ غیر معمولی قربت، اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم پر خاموشی یا حمایت، یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو بھارت کی خارجہ پالیسی کے نئے رخ کو ظاہر کرتے ہیں۔ غزہ میں جاری مظالم پر بھارت کی خاموشی اور بعض مواقع پر اسرائیل کی حمایت نے امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران پاکستان کے حوالے سے بھارت کے منفی بیانات نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا کہ بھارت پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔افغانستان کی موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کی سرزمین ایک بار پھر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ایسے عناصر جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں، انہیں سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں میسر آ رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس شبے کو تقویت دیتی ہے کہ افغانستان میں موجود بعض قوتیں دانستہ یا نادانستہ طور پر ان طاقتوں کے مفادات کو تقویت دے رہی ہیں جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے اسٹرٹیجک مفادات کا بنیادی مقصد خطے میں ایسے حالات پیدا کرنا ہے جس سے پاکستان اندرونی طور پر غیر مستحکم ہو اور اس کی دفاعی اور معاشی صلاحیت متاثر ہو۔پاکستان کی مسلح افواج نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر جو زمینی اور فضائی کارروائیاں شروع کی ہیں، وہ کسی ملک یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف ہیں جو پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں پاکستان کے دفاع اور قومی سلامتی کیلئے ناگزیر ہو چکی تھیں۔ ریاست کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، اور جب کوئی بیرونی یا اندرونی خطرہ اس سلامتی کو چیلنج کرے تو اس کا مؤثر جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ان آپریشنز کا ایک اہم مقصد یہ پیغام دینا بھی ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی یہی جذبہ اور عزم پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کی بنیاد ہے۔پاکستان نے کبھی کسی ملک کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ ہمیشہ امن، استحکام اور باہمی احترام کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اگر پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا تو پاکستان ہر ممکن اقدام کرے گا۔اب وقت آ گیا ہے فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے،انکے سہولت کاروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے اور دہشت گردوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔خطے کے امن کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کے اسٹرٹیجک عزائم وقتی فوائدتو دے سکتے ہیں لیکن طویل مدت میں وہ خطے کیلئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔افغانستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔اگر افغانستان بھارت اور اسرائیل کا آلہ کار بن کر خطے میں ایک مرتبہ پھر بدامنی کی بنیاد رکھے گا یا پھر بلیک میلنگ کے ذریعے ریاست پاکستان سے مفادات کے حصول کی کوشش کرے گا تو اس مرتبہ شائد ایسا ممکن نہ ہو سکے۔کیونکہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی سمت بھی واضح ہو چکی ہے یہ ادارے ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں جس کیلئے علاقائی امن سب سے بنیادی ضرورت ہے اگر افغانستان خوشحالی کی طرف سفر چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی بنیاد رکھنا ہوگی ورنہ بھوک اور بدحالی سے خانہ جنگی تو ہو سکتی ہے خوشحالی نہیں آ سکتی۔