• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ بہت شریف آدمی تھا لیکن سیانا بھی۔ سیانا اس لئے بطورِ خاص بتانا پڑا کہ عموماً لوگ شریف آدمی کو سیانا نہیں سمجھتے۔ حالانکہ ہم نے شرفاء کے سوا کسی کو دانشمند نہیں پایا۔وقت سیانا کرتا ہے اور دانشمند ’پیدائشی‘ ہوتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے یہاں دانشمند اور دانشور میں بھی ایک معاشی فرق ہوتا ہے۔دانشور کہلانے کیلئے آج انویسٹمنٹ درکار ہے، اور اگرثقہ بند یا حکومتی دانشور بھی کہلانا ہو تو دام اور بڑھانے پڑتے ہیں۔ یہ دام صرف روپے پیسے ہی کی صورت میں نہیں ہوتے۔ اس میں وقت ، نظریہ اور ضمیر کو بھی انویسٹ کرنا پڑتا ہے۔ گویا ایوارڈ یافتہ دانشور ہونے کیلئے تمام قسم کے ان گنت دام مطلوب و مقصود ہوتے ہیں۔ جس شریف آدمی کا تذکرہ آج کے کالم کیلئے واجب تھا ، وہ تمہید ہی میں کہیں کھونے لگے تھے۔پرانے محلے میں ایک شریف آدمی تھا۔ روز کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی سے لڑتا یا دھمکاتا مگر وہ سکون سے زندگی بسر کئے جا رہا تھا۔ ایک دن ہم نے شریف آدمی سے بڑے ادب کے ساتھ پوچھا، ہم نے اکثر یہ دیکھا کہ آپ کا بدمعاش اڑوس پڑوس آپ سے بڑا مہذب ہے، آپ کے گھر بیریاں بھی ہیں مگر وٹہ کبھی نہیں آیا؟اس نے مختصر مگر جامع جواب دیا: گھر میں بندوق جو رکھی ہے!بندوق کا احساس اکابر کو پہلی جنگ عظیم (1914 تا 1918) اور جنگ عظیم دوم(1939 تا 1945) سے ہے۔ پہلی جنگ سامراجی ، قوم پرستی اور اتحادی خطوط پر تھی اور دوسری فاشزم، نازی ازم اور ہٹلر کے تسلط کی خواہش کا شاخسانہ ۔ پہلی جنگ میں ٹینک ، زہریلی گیس اور مشین گن کا استعمال ہوا، ڈیڑھ سے دو کروڑ تک اموات رپورٹ ہوئیں۔ دوسری میں ایٹم بم، میزائل، جیٹ طیاروں اور رِڈار کا استعمال ہوا، کم و بیش 7 کروڑ لوگ مارے گئے۔ دونوں جنگوں میں جرمنی کا مشن یورپ پر قبضہ تھا۔ لیکن دونوں بار برطانیہ، فرانس، امریکہ اور روس کا اتحاد جرمنی، جاپان اور اٹلی گروپ پر فاتح قرار پایا۔ دونوں جنگیں یورپ سے نکل کر ایشیا اور افریقہ تک پھیلیں۔ معیشت نیست و نابود ہوئی اور مہنگائی کے دریچے کھلے۔ پہلی جنگ میں امریکہ اور روس ابھرے۔ دوسری جنگ تک روس سوویت یونین بن گیا اور دونوں ایٹمی طاقت۔ امریکہ یورپ میں لڑنے کو ترجیح دیتا رہا اور اسلحہ سازی اور اسلحہ ڈسٹریبیوشن پر فوکس کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے نے سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کی ابتدا کی جو1991تک سوویت یونین کے ٹوٹنے تک رہی۔ اکتوبر 1962 میں، اس سرد جنگ کے خطرناک ترین 13 دن تھے، ہوا یوں کہ امریکہ نے سوویت یونین کے قریب تر ترکی میں میزائل نصب کردئیے اور سوویت یونین نے امریکی چھاتی پر اس وقت مونگ دلی جب اس کے قریب تر کیوبا میں میزائل نصب کئے۔ ایٹمی جنگ ایک قدم کے فاصلے تک پہنچ گئی تو تباہی و بربادی کا ادراک امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور سوویت صدر نکیتا خروشیف ( بعد از اسٹالن وفات یعنی 1953 تا 1964 صدر) کو ہوا ، یوں جنگ رک گئی۔ لیکن آج امریکہ پوری دنیا کا جنگی اور امتحانی کنٹرولر بنا بیٹھا ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا اور پاش پاش ہوگئی پس دوسری جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی کوئی داستان ہی نہ تھی داستانوں میں۔اتحادیوں کی پہلی ہی فتح میں سائیکوس-پیکو معاہدے کے سبب عرب علاقہ جات یعنی حجاز، شام، عراق اور فلسطین جنہوں نے آپس میں بانٹ لئے وہ برطانیہ اور فرانس تھے۔

لیکن واضح رہے کہ جنگ دوم میں جیت تو بھلے ہی فرانس اور برطانیہ کے اتحادیوں کی ہوئی لیکن ساتھ ہی آزادی کی تحریکوں نے بھی جنم لے لیا ۔ اب فرانس اور برطانیہ اپنی کالونیاں بچانے کے قابل نہ رہے پس اردن، لبنان اور شام تک آزاد ہوگئے۔ ادھر برصغیر سے برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں مدد کے عوض خود مختاری کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا ۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ میں معاشی و انتظامی سکت ہی نہ رہی ، ایک وعدہ خلافی اور اوپر سے جلیانوالہ باغ کا المیہ پھر تحریک خلافت اور علی برادران نے ایسا شعور بیدار کیا کہ پاکستان اور بھارت آزاد ہو گئے! مؤرخین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مذکورہ جنگیں نہ ہوتیں تو برصغیر کی خودمختاری و تقسیم میں مزید کئی دہائیاں لگ جاتیں۔ ایک اور دلچسپ تاریخی پہلو کہ نکیتا خروشیف اور سرد جنگ کے حوالے سے دلچسپ بات یہ کہ اس دور میں پاک روس تعلقات بھی بہت کشیدہ رہے کیونکہ پاک امریکہ قربت میں SEATO اور CENTO دفاعی معاہدوں میں پاکستان کی شمولیت سوویت یونین کو ہضم نہ ہوئی تھی۔سیانوں نے دیکھا کہ فرانس اور برطانیہ دونوں عظیم جنگیں جیت کر بھی اپنا قبضہ اور کالونیاں ہار گیا۔ پولینڈ کو اتحادی سوویت یونین نے جنگ اور جرمنی سے خفیہ معاہدوں پر شدید نقصان پہنچایا۔ فاتح سوویت یونین کا بھی جیت کے باوجود جانی نقصان سب سے زیادہ ہوا۔ کبھی وقت تھا امریکہ اور برطانیہ سمجھتے تھے سوویت یونین کے بغیر ہٹلر اور مسولینی کو شکست نہیں دے سکتے۔ صدر روزویلٹ نے دیوالیہ ہونے کے دہانے پر امریکی معیشت بہتر کی دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی طاقت بنا لیا۔ غلط فیصلے سے سلطنت عثمانیہ نہ رہی۔ جاپان نے شکست سے بہرحال سیکھا۔

سرد جنگ میںروس اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو دیکھ پاکستان مزید سیانا ہوا اور جب یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ خالی معاہدے کچھ نہیں ہوتے اور 1972 کا شملہ معاہدہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ کر سکا، جنگوں میں امریکہ نے دھوکا دیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے اے کیو خان کو جوہری پاکستان بنانے پر لگا دیا کہ شرافت کے سنگ بندوق ضروری ہے! اڑوس پڑوس کوئی روس ہو یا بھارت یا افغانستان و ایران ہی کیوں نہ ہوں، اور اسرائیل سمیت سب کو اپنے مقام اور پاکستان کے احترام کا علم رہے۔ ہم ایٹمی طاقت امن کی چاہت میں بنے تھے، یہی ہمارا اعلان تھا۔ اور ہمیں یہ امن کوئی سستا نہیں پڑا۔امن امن میں امت مسلمہ ہی نہیں ،چین اور امریکہ ہی نہیں، سفارتکاری بھی سنگ لے کر چلے۔ ایران اسرائیل کی حالیہ جنگ اور امریکی اداکاری ، یقیناً ایران کو اب سیانا کر کے دم لے گی!

تازہ ترین