• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افطار کا وقت قریب تھا۔ باورچی خانے سے برتنوں کی کھنک سُنائی دے رہی تھی۔ پکوڑوں کی مہک سے سارا گھر مہک رہا تھا۔ پسینے میں شرابور، تھکن سے چُور چُور فارینہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے کام سمیٹ رہی تھی۔ اس نے پھلوں کی چاٹ میں خوبانی کی چٹنی ڈال کر مکس کر کے رکھی اور اُس کے اُوپر میوے چھڑکے، دہی بھلوں میں دہی مکس کیا۔ سموسے بازار سے منگوائے تھے۔ ایک طرف بریانی دم پر تھی۔ ایک بجے سےکچن میں مصروف فارینہ کی بس ہوچُکی تھی۔ وہ دُعا کر رہی تھی کہ بچّوں کے جاگنے سے پہلے سارا کام ختم ہوجائے۔ 

اُس کے سات، پانچ اور تین سال کے تین بچّوں کے ساتھ، سال بھر کے دو جُڑواں بچّے بھی تھے۔ مگر شاید قبولیت کی گھڑی نہیں تھی۔ اُس کے دونوں چھوٹے بچّے جاگ کر ایک ساتھ ہی رونے لگے تھے۔ وہ بھاگ کر کمرے میں گئی، اُنھیں فیڈر دیا اور اُٹھا کر اُن کی دادی کے پاس لے آئی۔ ’’امّی! ذرا اِن کو دیکھ لیں پلیز، مَیں باقی کا کام ختم کر لوں۔‘‘ ’’نہیں بھئی، مَیں اس وقت تسبیح کر رہی ہوں۔‘‘ رشیدہ بیگم نے صاف انکار کر دیا۔ فارینہ کا دل تو چاہا کہ سب کام ایسے ہی بکھرے رہنے دے اور بچّوں کو لے کر کمرے میں چلی جائے۔

مگر خُود پر ضبط کر کے نندوں کی طرف بڑھ گئی۔ ’’آمنہ، ثناء! تم لوگ ذرا اِنھیں دیکھ لو۔ مَیں باقی کام ختم کرلوں یا تم لوگ جا کر کام ختم کرلو۔‘‘ آخری جملہ فارینہ نے دل ہی دل میں کہا تھا۔ وہ دونوں اپنے اپنے موبائلز پر مصروف تھیں۔ سخت بدمزہ ہوئیں۔ ’’واکر میں ڈال کرچھوڑ جائیں اِدھر۔ ابھی تو رانیہ کو سُلایا ہے۔‘‘ ثناء نے احسانِ عظیم کرتے ہوئے اُس کی منجھلی بیٹی کو سُلانےکا طعنہ بھی دے دیا۔ فارینہ نے دونوں کو اُن کی واکرز میں بٹھایا اور دوبارہ چولھے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

’’فارینہ! ذرا جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ، اذان میں تھوڑا ہی ٹائم رہ گیا ہے، محلے میں افطاری کب پہنچےگی۔‘‘ رشیدہ بیگم کی آواز پورے گھر میں گونجی۔ ’’جی امّی! بس ہوگیا۔‘‘ فارینہ نے آخری ڈبّا پیک کرتے ہوئےعجلت میں جواب دیا۔ کام مکمل کرکے فارینہ نے سب چیزوں پر ایک نظر ڈالی۔ درجنوں ڈبّے، فروٹ چاٹ، پکوڑے، رول، سموسے، بریانی سب ہی تیار تھے۔ 

رشیدہ بیگم کے چہرے پر بےحد اطمینان تھا۔ ’’ماشاء اللہ، رمضان المبارک ہے، نیکی کا مہینہ۔ اللہ بہت ثواب دیتا ہے فارینہ بیٹا، تمہارے ہاتھوں سے بنی چیزیں سب کو پہنچائیں گے، تو کتنا ثواب ملے گا ہمیں۔‘‘ ریاضت ساری فارینہ کی اور ثواب میں سب شریک۔ کیا تھا، اگر اپنی بیٹیوں کو بھی اس ثواب میں شریک کرنے کے لیے فارینہ کی مدد کروانے کا کہہ دیتیں۔ فارینہ اکڑی کمر کو آرام دینے کے لیے کرسی پر بیٹھی، تو بس سوچ ہی کے رہ گئی۔ دونوں بچّے اُسے دیکھ کر ہمکنے لگے تھے۔ دونوں ہی کے ڈائپرز بدلنے والے تھے۔ وہ اُنھیں اُٹھا کر کمرے میں لے گئی۔

محلے کی خواتین افطار کے ڈبے وصولتے تعریفوں کے پُل باندھ رہی تھیں۔ ’’واہ رشیدہ بہن، آپ تو ہر رمضان ہی سب کو یاد رکھتی ہیں۔ کیا کیا لوازمات نہیں بنا ڈالے، اور ہر آئٹم ایک سےبڑھ کرایک۔‘‘، ’’رشیدہ بہن تو نیکی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ ہر رمضان ایسی شان دار افطاری بھجواتی ہیں کہ ہم تو پوراسال انتظار کرتے ہیں۔‘‘ رشیدہ بیگم تعریفوں کے تمغے سینے پر سجائے خوش خوش گھر واپس آئیں۔ بچّوں کو صاف ستھرا کر کے فارینہ نے دستر خوان لگایا۔ اذان کی آواز گونجی۔ سب نے روزہ کھولا۔ اور افطار کے بعد رشیدہ بیگم نے ایک بار پھر خُود ہی اپنی تعریفوں کے پُل باندھنے شروع کردیے۔

’’الحمدللہ، ہم نے آج پھر بھرپور نیکی کادن گزارا۔ خیرسے پورے محلے میں بھر بھر کے افطار بھیجی گئی ہے ۔‘‘ فارینہ کے سُسر بیوی کی بات پر زور و شور سے سر ہلا رہے تھے اور فارینہ کا شوہر اپنی بیوی کا تھکن زدہ، نڈھال انداز دیکھ کر بھی ہمیشہ کی طرح اَن جان بن گیا تھا۔ فارینہ نے ایک لمحے کو سوچا۔ اگر نیکی بانٹنے کا مطلب کسی پر اُس کی برداشت، ہمّت و استطاعت سے کہیں زیادہ بوجھ ڈال کرتھکا مارنا ہے، تو شاید یہ نیکی نہیں، نمائش ہے۔ نیکی تو وہ ہے، جو انسان اپنے ’’زورِ بازو‘‘ پر کرے۔

افطار کے برتن دھو کر، سارا کچن سمیٹ کے وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ دو بچّوں کو ہوم ورک کرنے بٹھایا، ایک کو سونے لٹایا اور ایک سال کے جُڑواں بچّوں کو سینے سے لگا کے، خُود ہی سے آہستگی سے گویا ہوئی۔ ’’آج مَیں نے کوئی نیکی نہیں، بس برداشت اورحُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا ہے۔ مَیں نے بھی اور میرے بچّوں نے بھی۔ وہی برداشت اور حُسنِ سلوک، جس کا مظاہرہ مَیں اس گھر میں روزِ اول سے کرتی آرہی ہوں۔

ہاں، اِس برداشت، تہذیب و شائستگی کا اجر مجھے ضرورملے گا، وگرنہ ان متموّل، پیٹ بَھرے لوگوں کے گھروں میں محض زبان کے چسکے کے لیے کھانا بھیجنے، اور جواباً جھوٹی سچّی تعریفوں کے ڈھول سُننے سے کہیں بہتر تھا کہ کسی مفلس وغریب روزے دار کا روزہ کُھلوایا جاتا، اُس کے گھر راشن ڈلوا دیا جاتا، تاکہ وہ بھی ڈھنگ سے سحر و افطار کر پاتا، رمضان المبارک کی نعمتوں سے کسی قدر ہی سہی، فیض یاب ہو پاتا۔‘‘ وہ بس خُود ہی سے باتیں کیےجارہی تھی اور باہر صحن میں رشیدہ بیگم بہت مطمئن بیٹھی تسبیح کے دانوں پر دانے گرا رہی تھیں۔

ناقابلِ اشاعت کلام اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘

قطعات، نظم (شگفتہ بانو، لالہ زار، واہ کینٹ) مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے نام، جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس، غزل (زین صدیقی، کراچی) سلام، نعتِ پاکؐ (الویراء) پاکستانی مجاہد، غزل ( معین قریشی بریلوی) سمندرو! تم گواہ رہنا (اسماء صدیقہ، کراچی ) یہ کیسی زندگی ہے، غزلیں (ریطہ فرحت) بچپن کی چُھٹیاں (صبا احمد) غزہ کے آنسو(حرا خان، جہلم) غزل (تحریم فاطمہ)امن کا معاہدہ، امن قائم کریں، قائد کے حضور (صدیق فنکار، راول پنڈی کینٹ) چھے ستمبر، انتخابِ کلام (محمّد صفدر خان ساغر، گوجرانوالہ) بےحس سرکار (محمد رفیق غوری، حیدرآباد) حمدِ باری، یادوں کے جھروکے، انسان کی عظمت، چراغ تلے اندھیرا (نوردین محمّد جہانگیر) معصوم کلیاں (جمیل ادیب سیّد) غزل (ریاض ندیم نیازی، سبّی) غزل (نیّر رضوی، لیاقت آباد، کراچی) منقبت (شبینہ گل انصاری، کراچی) خلاصۂ سورۂ حجرات، حضرت لقمان (ارسلان اللہ خان ارسل، حیدرآباد) مرحبا مصطفٰیؐ (کوثر یوسف زئی) غزل (سیف الاسلام، کراچی) نمبر ون فوج (ظفر محمود انجم راجا، قصور) غزل (کاظم رشید کاظم، کوہاٹ) المیہ (محمّد علی سحر، محمودآباد، کراچی) ماں (سید احمد انور، اسلام آباد) دوست (حسنین احمد،علی پور) غزل ( عائشہ آصف) ماں، باپ، رشتوں کی مالا، سحر کِھلنے کے لیے، باپ کی نصیحت(عاجز ریاض احمد رانا، شادباغ، لاہور)۔