• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے..... مغرب اور’’اسلامو فوبیا‘‘

’’اسلامو فوبیا‘‘ سے مراد دینِ اسلام، پیغمبرِ اسلام ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر انتہا پسندانہ سوچ، منافرت، مذہبی و نسلی تعصّبات پر مبنی خُود ساختہ افکار و نظریات اور اسلام اور مسلمانوں کےخلاف بےجا خوف، نفرت اور امتیازی رویّہ ہے۔ مغربی دنیا میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس اصطلاح کے استعمال میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا۔

یہ حقیقت ہے کہ ستمبر 2001ء ’’نائن الیون‘‘ کے بعد عالمی سیاست اور مغربی میڈیا کا رُخ تیزی سے تبدیل ہوا، جس کے نتیجے میں دینِ اسلام اور عام مسلمانوں سے متعلق انتہا پسندانہ سوچ اور منفی تصوّرات نے جنم لیا۔ مغربی دنیا میں بالخصوص مسلمانوں کو امتیازی رویّے، مذہبی و نسلی منافرت اور اَن گنت مسائل و چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

پیغمبرِ اسلام ﷺکی شان میں گستاخی، اسلامی افکار و نظریات کی توہین، مساجد پر حملے، حجاب سے متعلق تنازعات اور منظّم منصوبہ بندی کے ساتھ نفرت انگیز مہم ایسے اسباب و عوامل ہیں، جنہوں نے اس حوالے سے صورتِ حال کو مزید حسّاس اور گمبھیر کردیا۔ 

ان حالات کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15مارچ 2022ء کو ایک قرارداد منظور کی، جس کے تحت ہر سال15مارچ کو ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے خلاف عالمی یوم منایا جاتا ہے، تاکہ عالمی سطح پر اس طرزِ عمل کے خلاف آواز بلند کی جاسکے۔

نیز، اسباب و محرکات پر غور کے ساتھ تدارک و سدّباب کے ممکنہ اقدامات بھی کیے جائیں۔ اس دن کے مقاصد میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نسلی و مذہبی تعصّب، بے بنیاد اعتراضات و شبہات کے خاتمے، غلط فہمیوں کے ازالے عالمی مذاہب میں تحمّل و برداشت، رواداری، بین المذاہب مکالمے کا فروغ اور رکن ممالک کو مذہبی تعصّب، منافرت اور مذہبی و نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف موثر اقدامات کی ترغیب دینا بھی شامل ہیں۔ اور یقیناً یہ اقدام خاصا خوش آئند ہےکہ مغرب نہ صرف ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے بلکہ وہ اسے فروغ دینے میں بھی پیش پیش ہے۔

’’فوبیا‘‘ کے لفظی معنی بےجا خوف اور نفرت کےہیں۔ انگریزی میں اس کے لیے ’’Xenophobia‘‘ (دوسرے ملک کے لوگوں سے نفرت/ خوف) جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، جب کہ مجموعی اعتبار سے ایسی تمام اصطلاحات میں عدم رواداری اور نسل پرستی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح دو الفاظ سے مل کر بنی ہے، یعنی ’’اسلام اور فوبیا‘‘، ان دونوں کے درمیان انگریزی زبان کا "O" بھی استعمال ہوتا ہے، تاکہ نسبت کے معنی پیدا ہو جائیں، اس طرح ’’اسلاموفوبیا‘‘ کے معنی اسلام سے بے جا خوف، نفرت اور مسلمانوں سے متعلق منفی ذہنیت قرار پاتے ہیں۔

اس اصطلاح کاپہلی مرتبہ استعمال ایک رپورٹ بعنوان ’’اسلاموفوبیا،امریکا کے لیے ایک چیلنج‘‘ میں ہوا، یہ رپورٹ برطانیہ میں 1997ء میں شائع ہوئی۔ اس میں ’’اسلاموفوبیا‘‘ اور اسلام کے نظریات کواس انداز میں پیش کیا گیا۔٭ اسلام ایک یک سنگی (پتھر کے دَور کا) مذہب ہے، جس میں جدید خیالات و نظریات قبول کرنے کی گنجائش نہیں۔ ٭ اسلام کو متشدّد، دہشت گرد، دہشت گردی کے حامی مذہب کے طور پر پیش کیا گیا، جو (ان کے تصوّر کے مطابق) تہذیبوں کے تصادم کا بنیادی سبب ہے۔ایک امریکی مصنّف Stephen Schwartz نے ’’اسلامو فوبیا‘‘ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔’’اسلام کی ہر چیز کی مذمّت کرنا، اس کی تاریخ کو پُرتشدد قرار دینا، اسلام کو پوری دنیا کے لیے پُر خطر مسئلے کے طور پرپیش کرنا، مسلمانوں سے اُن کے مذہب میں تبدیلی لانے پر اصرار کرنا اور اُن کے خلاف محاذِ جنگ شروع کرنا۔‘‘

’’اسلاموفوبیا‘‘ آغاز و ارتقاء: اگرچہ ’’اسلاموفوبیا‘‘ ایک جدید اصطلاح ہے، مگر اس کی بنیادیں کافی قدیم ہیں، اس اصطلاح کو 1921ء میں سب سے پہلے فرانسیسی مستشرق "Etienne Diet" نے استعمال کیا، اس کے بعد 1991ء میں ایک امریکی رسالے ’’Insight Magazine‘‘ میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی۔ مگر اس اصطلاح کو شہرت تب ملی، جب 1997ء میں برطانیہ کے ایک مشہور ادارے ’’Runnymede Trust‘‘ نے اسلاموفوبیا کے موضوع پر ایک تفصیلی رپورٹ ’’Islamphobia: A challenge for us all‘‘ کے عنوان سے شائع کی۔

جنوری2001ء میں ’’Stock Holm International Forum‘‘ نے Xenophobia اور Anti-semitism کی طرح اس لفظ کو بھی نسل پرستی اور عدم رواداری کے دائرے میں شامل کرلیا، جب کہ11ستمبر 2001ء کے بعدتو اس لفظ کا کثرت سے استعمال ہونے لگا، یہاں تک کہ 2004ء میں اقوامِ متحدہ نے ’’اسلاموفوبیا‘‘ پر قابو پانے کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی اور اس وقت اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے ’’اسلاموفوبیا‘‘ کو افسوس ناک، تکلیف دہ اور امتیاز پر مبنی رجحان قرار دیا۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہےکہ ہر دَور ہی میں دینِ اسلام پر نت نئے افکار و نظریات سے یلغار کی گئی، لیکن اسلام، اپنے صالح پیغام اور ربِّ ذوالجلال کی جانب سے عطا کردہ نسخۂ کیمیا ’’قرآنِ کریم‘‘ کے ساتھ آج بھی قائم و دائم ہے، بلکہ اسلام کے ماننے والوں کی تعداد روز افزوں سے افزوں تر ہورہی ہے۔

اسلام دشمن عناصر نے دینِ اسلام کی شبیہ پیش کرنے کے لیے، کسی مرض کے موافق اس کے ساتھ ’’فوبیا‘‘ کا لفظ جوڑا اورپھر اسے اپنی تشہیری طاقت، ’’میڈیا‘‘ کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلا کر اسلام کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی اور اس امرمیں مغربی میڈیا پیش پیش رہا۔

بیش تر اوقات مسلمانوں کو متشدّد، گم راہ، جاہل، انتہا پسند اور جنونی قرار دیتے ہوئے انھیں عیسائی اور مغربی دنیا کے لیے خطرے کے طور پر بھی پیش کیا گیا اور اس ضمن میں انتہائی نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی۔

’’اسلامو فوبیا‘‘ کے اہداف و مقاصد، اسباب و محرکات

اہلِ مغرب کا مذہبی تعصّب و عناد اور اسلام دشمنی: مغربی میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کا جس انداز میں ذکرکیا جاتا ہے، اس سے اہلِ مغرب کے مسلمانوں سے عناد اور ’’اسلاموفوبیا‘‘ کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔ برطانیہ میں ’’انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ‘‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، ڈاکٹر نفیس مصدق احمد کہتے ہیں۔

’’گریٹر لندن اتھارٹی کی جانب سے 2007ء میں ایک اسٹڈی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں ایک ہفتے کے دوران ’’مغربی میڈیا‘‘ میں اسلام سے متعلق شائع ہونے والے 352 مضامین کا جائزہ لیا گیا، تو ان میں91فی صد اسلام مخالف نکلے۔‘‘ مغرب میں بہت مہارت سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فضا تیار کی جاتی رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’’انڈیپینڈنٹ‘‘ کے لیے2008ء میں شائع ہونے والے مضمون ’’The Shameful Islamophobia at the Heart of Britian's Press‘‘ میں پیٹر بورن لکھتے ہیں۔ ’’اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پروان چڑھے۔‘‘

مغرب کی تنگ نظری اور اسلام سے متعلق غلط فہمی’’اسلامو فوبیا‘‘ کا اصل سبب یہ ہے کہ مغربی اقوام اسلام سے متعلق کُھلا ذہن نہیں رکھتیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ مغرب میں امتیاز و نسل پرستی کے خلاف آواز اُٹھانے والے ہیں، اُن کی نظر میں بھی ’’اسلاموفوبیا‘‘ کوئی بری بات نہیں۔’’Runnymede Trust‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں مغربی نظریات کو چند شِقوں میں بیان کیا ہے۔

٭یہ ایسا مذہب ہے، جو کسی دوسرے نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتا، کیوں کہ یہ تبدیلیوں کے خلاف ہے۔ ٭ یہ مغربی دنیا سے الگ تھلگ رہنے والا ایک جامد مذہب ہے اورمشترکہ اقدارِ حیات پر یقین نہیں رکھتا۔ ٭ یہ مغربی نظامِ حیات سے کم تر ہے اور اسے غیر مہذّب، قدامت پرست مذہب قرار دیا جاتا ہے۔ ٭یہ تشدّد کا حامی، انتہاپسندی، دہشت گردی کو فروغ دینے اور تہذیبی تصادم بھڑکانے والا مذہب ہے۔

اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کے لیے توہین آمیز رویّہ: مغربی میڈیا دنیا کو مستقبل میں اسلام اور غیر مسلم تہذیبوں کے درمیان ایک تہذیبی معرکہ برپا ہونے کی خبر دے رہا ہے اور آج اسی سوال پر مستقبل کا مدار ہے، جب کہ یہ کش مکش تو ازلی و ابدی ہے۔ بقول اقبال؎ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز.....چراغ ِمصطفویؐ سے شرارِ بولہبی۔ امّتِ مسلمہ کے خلاف اہلِ مغرب اور مغربی میڈیا کی اس دشمنی کے اسباب کیا ہیں؟ 

ان کی نظر میں، اس کا بنیادی سبب مسلمانوں کا رسالتِ محمدیؐ پر ایمان اور حضوراکرمﷺ کی ذاتِ گرامی سے حد درجہ محبت و وارفتگی ہے۔ ان کے تصوّرکے مطابق دنیا کی قیادت کے لیے مغربی تہذیب کا حریف ایک ہی ہے، اور وہ ہے ’’اسلام‘‘۔ اسی لیے اہلِ یورپ اسلام اور مسلمانوں سے خائف ہیں۔ 

انہیں خطرہ ہے کہ ایک نئی سرد جنگ کی دستک ہے، جو غالباً ’’سرد‘‘ نہ رہے گی۔ اسلام، پیغمبر اسلامﷺ، اسلامی شعائر اور اُمّت مسلمہ کے خلاف، اسلام دشمنوں کا جنون کی حد تک تعصّب و عناد پر مبنی یہ توہین آمیز رویّہ صدیوں سے چلا آرہا ہے،اور اس میں آج کے مہذّب دَور تک کوئی کمی نہیں آئی۔ 

اس حوالے سے مغرب کے چند نام وَر مفکّرین اور مستشرقین کے افکار و نظریات ملاحظہ فرمائیں۔ مغربی دنیا کا نام وَر مستشرق، منٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) اپنی کتاب ’’اسلام کیا ہے؟‘‘ (مطبوعہ لندن، 1968ء) میں رقم طراز ہے۔ ’’مشکل یہ ہے کہ ہم اس گہرے تعصّب کے وارث ہیں جس کی جڑیں قرونِ وسطیٰ کے جنگی پراپیگنڈے میں پیوست ہیں۔ اب اس کا وسیع پیمانے پر اعتراف کیا جانا چاہیے۔ تقریباً آٹھویں صدی عیسوی سے عیسائی یورپ نے اسلام کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کیا جو عسکری اور روحانی دونوں حلقۂ اثر میں اس کے لیے خطرہ تھا۔

اِسی خوف کے زیرِ اثر عیسائی دنیا نے اپنے اعتقاد کو سہارا دینے کے لیے اپنے ذہن کو ممکنہ حد تک انتہائی ناپسندیدہ نظروں سے پیش کیا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں تراشاگیا، اسلام کا تصوّر اہلِ یورپ کی فکر اور سوچ پر غالب رہا ہے۔‘‘ ایک امریکی مؤرخ ایس پی اسکاٹ (S.P SCOTT ) اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتا ہے۔’’موروثی تعصّبات کی بِنا پر تمام الٰہیاتی عقیدوں میں سے کسی کو بھی اس قدر جہالت اور ناانصافی کا نشانہ نہیں بننا پڑا، جتنا کہ اسلام کے اصولوں کو۔

صدیوں تک اس مذہب کے بانی کی شان میں توہین اور گستاخی کی جاتی رہی۔ (مفہوم) ان کے کردار سے ہر وہ برائی منسوب کردی گئی، جو انسانیت کے لیے توہین آمیز اور بلا خیز ہو، کلیسائی معاندت اور بدباطنی نے اپنے حریف کے کردار کو داغ دار کرنے میں اپنے تمام وسائل صرف کردیے۔‘‘ مطلب،مغرب میں ولیم میور (William Muir) سے منٹگمری واٹ اور برِصغیر میں بد باطن و کور چشم راج پال سے سلمان رشدی تک، سب ہی اس حوالے سے ذاتِ نبویؐ کو ہدفِ تنقید بناکر شانِ رسالت میں گستاخی اور حد درجہ توہین کے مرتکب ہوتے رہے۔

اہلِ مغرب پر صلیبی جنگوں کے اثرات: دراصل مغربی دنیا کی جانب سے صلیبی جنگوں کے آغاز اور اِن میں اِن کی بھیانک شکست، پسپائی اور زوال نے اہلِ مغرب میں عنادکو جنم دیا، نفرت و تعصّب کو پروان چڑھایا اور اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کے خلاف ان کے دِلوں میں نفرت و عداوت اور تلخی کے بیج بوئے گئے۔بہ الفاظِ دیگر اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کے خلاف اظہارِ عداوت کا نقطۂ عروج، کارزارِ صلیب تھا۔ 

اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لیے صلیبی جنگیں تقریباً پانچ سوسال جاری رہیں اور ان صلیبی جنگوں اور خون آشامیوں کا تعلق مستشرقین سے بہت گہرا ہے، کیوں کہ پانچ صدیوں میں یورپ کے مفکّرین، مولّفین اور شعراءلوگوں میں اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کے خلاف نفرت انگیزجذبات گدگداتے، انھیںاسلام اور مسلمانوں کی تاراجی پر ابھارتے رہے۔ جب کہ ان کے اس تمام تر منفی اور باطل پراپیگنڈے کی تردید قرآن و سنّت، عہدِ نبویؐ، عہدِ خلافتِ راشدہ اور اسلام کی عسکری تاریخ سے ہوتی ہے۔

نیز، ان کا پراپیگنڈا باطل، بے بنیاد ہے، اس کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں، اس کا جواب خوش قسمتی سے خود مستشرقین اور منصف مزاج غیر مسلموں کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ معروف مستشرق T.W.ARNOLDکی کتاب ’’THE PREACHING OF ISLAM‘‘ میں اس منفی پراپیگنڈے کا مُسکت جواب موجود ہے۔ موصوف نے اپنی کتاب میں اس حقیقت کو واضح کیا کہ ’’اسلام ایک تبلیغی اور دعوتی مذہب ہے، اس کی عالم گیر اشاعت میں جبر و تشدّد اور تلوار کا کردار نہیں۔

اس نے اپنی تعلیمات، اثر انگیزی اور تبلیغ کی بدولت قلوب فتح کیے اور یوں دنیا میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی راہیں ہم وار ہوئیں۔‘‘ بے شک، قرآنِ حکیم نے انتہائی واضح الفاظ میں مسلمانوں کو حکم دیا۔’’لا اکراہ فی الدّین قدتبیّن الرُّشدُ من الغیّ‘‘ ترجمہ:دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک، ہدایت کی راہ، گم راہی سے خُوب جدا ہوگئی ہے۔

دینِ اسلام کی عظمت و صداقت، اسلام کی عالم گیر ترویج و اشاعت: اصل مسئلہ دینِ اسلام کی عظمت و صداقت، دنیا اور مغرب میں اس کی سرعت انگیزترویج و اشاعت ہے، جس کی بِنا پر مغرب احساسِ کم تری اور خوف کا شکار ہے۔ دینِ اسلام اپنی عالم گیر صداقت کی بدولت مغرب کے ہر گھر ہی پر نہیں، ہر دَر، ہردل پر دستک دے رہا ہے اور خوش بُو کی طرح پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے۔

تب ہی مغربی دانش وَروں اور ان کے تِھنک ٹینکس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر دینِ اسلام اور مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی، حضرت محمد مصطفیﷺ کی (نعُوذباللہ) توہین کرتے ہوئے اسلامی شعائر اور تعلیمات کا تمسخر اُڑائیں گے۔

قرآنِ مجید کی بے حرمتی کریں گے،شانِ رسالت میں گستاخی کریں گے، توہین آمیز، نازیبا خاکے شائع کریں گے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو تیسرے درجے کا شہری باور کروائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ان گھٹیا حربوں سے دینِ اسلام کی عالم گیر ترویج و اشاعت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، الٹا اُن کا اپنا ہی خُبثِ باطن دنیا کے سامنے آشکار ہوگا۔

تب ہی تو آج اسلام کی عالم گیر ترویج و اشاعت کا سفر مشرق تا مغرب جاری و ساری ہے۔بلاشبہ، اسلام رواداری کا عَلم بردار، امن و سلامتی کا داعی اور ایک تبلیغی مذہب ہے، جس میں حقّانیت و صداقت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس ضمن میںنیویارک سے شائع ہونے والے مقبول جریدے ’’ٹائمز‘‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی برمحل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ’’یورپ میں نئی مساجد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، فضا میں پانچ وقت اذان کی آواز گونج رہی ہے۔ تین دہائی قبل مسلمان یورپ میں اجنبی تھے اور انہیں شک و شبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، لیکن اب یہاں مسلمان اپنی حیثیت منوانے میں کام یاب ہوگئے ہیں۔ مغرب میں اسلامی لٹریچر، قرآنِ مجید کے تراجم کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے، جو منصف مزاج اہلِ مغرب اور لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔‘‘

حقیقتاً موجودہ دَور، فکر و نظر کا دَورہے اور اسلام ایک مکمل نظریۂ فکر رکھتا ہے، جس میں آج بھی اتنی جاذبیت و کشش ہے کہ دنیا کے تمام نظریات و افکار پر غالب آجائے۔ اسلام اپنی ذات میں ایک تسخیری قوت کا حامل ہے۔ تب ہی اب تک اس نظریے کو کاٹنے والی تلوار وجود میں نہیں آسکی۔ اسلام کے نظریۂ فکر کی تلوار کبھی کُند نہیں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ مغرب اسلامی نظریے کی طاقت سے خوف زدہ ہے، وہ اسلام اور مسلمانوں کو ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے نام نہاد، خود ساختہ پراپیگنڈے اور میڈیا کے زور پر گویا ختم کر دینا چاہتا ہے۔ لیکن دنیا میں تہذیبوں کے درمیان تصادم کا نظریہ متعارف کروانے والے دانش وَر، سیموئیل ہنٹنگٹن نے بھی اعتراف کیا کہ ’’مستقبل میں مغربی تہذیب کی برتری کو چیلنج کرنے والی سب سے بڑی ممکنہ طاقت، مسلم تہذیب ہی ہے۔‘‘ اور شاعرِ مشرق، علاّمہ اقبال نے کیا خُوب کہا ؎ دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے.....کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زر ِکم عیار ہوگا.....تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی.....جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا۔

سنڈے میگزین سے مزید