السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
’’ آہ‘‘ بہت پسند آئی
’’ اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیر احمد خلیلی اور طیّبہ فاروقی کے معلوماتی مضامین بہت ہی پسند آئے، مطالعے کا لُطف دوبالا ہوگیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا یوکرین جنگ پر بہترین تجزیے کے ساتھ موجود تھے، سیر حاصل معلومات حاصل ہوئیں۔ سرِورق کی ماڈل حنا خان اچھا انتخاب تھا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی دوسری قسط پڑھ لی، اب تیسری کا انتظار ہے۔
’’ڈائجسٹ‘‘ میں عشرت زاہد کی ’’ آہ‘‘ بہت پسند آئی۔ آذربائیجان سے عفّت مسعود کی غزل بھی پڑھنے کو ملی۔ پرنس افضل شاہین کے ’’اَن مول موتی‘‘ واقعی اَن مول تھے اور ناقابلِ اشاعت کی فہرستیں بھی مستقلاً شایع کی جارہی ہیں۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
شہرت کی بلندیاں!!
سالِ نو کا پہلا شمارہ’’ سیاست زدہ‘‘ رہا، لیکن سال گزشتہ کا احاطہ خُوب کیا گیا۔ جس سے گزشتہ سال کے حالات و واقعات دوبارہ ذہنوں میں تازہ ہوگئے۔ اور ہم عوام کو اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق بھی حاصل کرنا چاہیے، مگر جو قارئین عرفان جاوید کے چُنے ہوئے افسانے شوق سے پڑھتے ہیں، جو’’ڈائجسٹ‘‘ کے گرویدہ ہیں، اُن کےلیے تو سال کے اِن ابتدائی جرائد میں مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ صفحات میں کچھ اضافہ ہی کر دیتے، تو کیا تھا؟
پھر مایوسی مزید بڑھ گئی،جب پہلے صفحے پرلکھا دیکھا، ’’سالِ نوایڈیشن، حصّہ اوّل‘‘ لو بھئی، گئی بھینس پانی میں…! اگلے ہفتے کی بھی چُھٹی۔ ہاں’’آپ کا صفحہ‘‘ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، آپ نے فرداً فرداً ہم قارئین کا ذکر کیا، اس دریا دلی کا شکریہ۔ بہرحال، میگزین تو آپ واقعی بہترین چلا رہی ہیں۔
منور مرزا، اختر سعیدی اور منور راجپوت کو ہم بہت غوروخوض وشوق سے پڑھتے ہیں۔ اور ہاں، اب مَیں نے یہ طے کرلیا ہے کہ صرف جنگ اور اخبارِجہاں ہی کو نگارشات بھیجوں گا، باقی سب کو چھوڑدوں گا۔ کیوں کہ مجھے یقین ہے، مَیں اِن ہی پلیٹ فارمز سے شہرت کی بلندیاں پالوں گا۔ ( جاوید جوّاد حسین، گلشنِ اقبال، کراچی)
ج: آپ کا یقین بلکہ’’ خوش فہمی ‘‘سلامت رہے۔ آپ نے جو بھی فیصلہ کیا ہو، جنگ اخبار اور اخبارِ جہاں نے آپ کی ہر تحریر کی اشاعت کا ہرگز کوئی فیصلہ نہیں کیا۔اور کون سی شہرت کی بلندیاں؟ یہاں پوری زندگی خاک ہوگئی، چار لوگ نہیں جانتے پہچانتے، سالانہ چند تحریروں کی اشاعت سے آپ بامِ عروج پا لیں، توعجوبۂ روزگار ہی ہوگا۔
سونے پر سہاگا
ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی دو شماروں پر تبصرہ حاضر ہے۔ دونوں میں متبرک صفحاتِ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ شامل نہیں تھے۔ پلیز! کوئی بھی سلسلہ ڈراپ کردیا کریں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہرگز نہیں۔ ’’الجزائر: غلامی سے آزادی تک‘‘ معلوماتی مضمون تھا۔ شہید بی بی محترمہ بےنظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی پر بھی ایک شان دار مضمون پڑھنے کو ملا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘میں ’’آسیہ‘‘ کی پہلی اور دوسری دونوں اقساط شان دار تھیں۔
’’بھٹّا مزدور، دورِ جدید کے غلام‘‘ درد مندی سے لکھی گئی تحریر تھی۔ واقعتاً یہ انتہائی پُرمشقّت کام ہے۔ مراکش، مسلم دنیا کی قدیم ترین بادشاہت رکھنے والا مُلک ہے، پڑھ کرحیرانی ہوئی۔ ’’نیویارک اور مسلمان میئر‘‘ بھی معلومات افزا رپورٹ تھی۔ جنوری کے عالمی ایام سے متعلق پڑھ کر اچھا لگا۔ ثانیہ انور نے سال بھر کے اہم واقعات، عالمی ایام کا یہ سلسلہ بخوبی نبھایا۔
بلوچستان کے نام ور گلوکار، عارف بگٹی کی کھٹی میٹھی باتیں مزہ دے گئیں۔ بےکار ملک کے خط کا پہلا حصّہ پڑھ کر ایک بار تو آپ کی طرح میں بھی خوش ہوگیا۔
مگر پھر… ’’اس ہفتے کی چٹھی‘‘ کی حق دار، ڈاکٹر تبسّم سلیم نے مستقل تبصرہ نگاروں میں مجھ ناچیز کو بھی شامل کیا، سونے پہ سہاگا آپ نے بھی تائید کردی۔ بہت ہی خوشی ہوئی۔ دلی دُعا ہے کہ یہ محفل ہمیشہ ہمیشہ یوں ہی سجی رہے، آمین۔ (پرنس افضل شاہین، نادرشاہ بازار، بہاول نگر)
ج: ہمیشہ، ہمیشہ… ؟ یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے، یہاں کسی شے کو دوام نہیں اور آپ ایک مستقل نامہ نگار ہیں، تو بھلا اس بات کو ماننے یا تائید کرنے میں ’’سونے پہ سہاگے‘‘ والی کیا بات ہوگئی۔
خُوشبو، جھڈو تک محسوس ہوئی
تعلیماتِ نبویؐ اور اسوۂ رسول اکرمؐ ساری انسانیت کے لیے نشانِ امتیاز ہے۔ درود اُن کے لیے، سلام اُن کے لیے… خدا کے بعد سب احترام اُن کے لیے۔ بلاشبہ ضیائے محمدؐ کی تابانی نے ہر ہر شعبۂ زندگی کو نکھارا اور منزلِ رفعت پر پہنچایا۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کے قلم سےنکلے الفاظ دِلوں میں پیوست ہوگئے۔
دنیائے سیاست پر گہری نظر رکھنے والے اپنی ہی طرز کے منفرد لکھاری، منور مرزا اِس بار ’’اسلحے کی ریکارڈ فروخت اور عالمی امن کے لیے خطرہ‘‘ کے عنوان تلے آئے اور یہ باور کروایا کہ امن سے جو کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے، وہ جنگوں سے کبھی ممکن نہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی اینٹی بائیوٹکس کے صحیح استعمال کے ضمن میں مفید ہدایت نامہ لائے۔
ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی نے بھی ایک اہم موضوع پر قلم اٹھایا کہ ’’ڈگری مل گئی، اب ثابت کرو، اصلی ہے یا نقلی‘‘ کس قدر افسوس کی بات ہے، اس دورِ جدید میں بھی ہم کیسے کیسے لایعنی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ نصرت عباس داسو ہمیشہ اچھوتے موضوعات کی سوغات لاتے ہیں۔ واقعی اگر آج ہم نے پودوں کی صحت کو ترجیح نہ بنایا تو کل ہمیں خُود اپنی بقا کی جنگ لڑنی پڑے گی۔ خدیجہ طیّب ’’بحث یا بصیرت‘‘ پر قلم طراز تھیں۔
’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں مخرن کی سب سے اچھی لکھاری شائستہ اظہر صدیقی نے اپنے نپے تُلے شائستہ الفاظ سے ماڈل مہک کو کچھ اور بھی مہکا دیا۔ خُوشبوجھڈو تک محسوس کی گئی۔ عرفان جاوید کا منتخب کردہ افسانہ ’’دھول بن‘‘ زبردست تھا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کے ذریعے جو تین کردار سامنے آئے، تینوں ہی محبّت، خوشبو اور انسانیت سے لب ریز تھے۔
’’پیارا گھر‘‘ میں افشاں مُراد کی مراد پوری ہوئی اور ایک منفرد آرٹیکل ’’منفی سوچ‘‘ جریدے کی زینت بنا۔ ثناء توفیق کا مضمون تو بہت ہی چٹ پٹا تھا۔ ’’ڈائجسٹ‘ میں ’’دو استاد‘‘ کے ذریعے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت بیان کی گئی۔ اختر سعیدی کے تبصرے کا تو کیا ہی کہنا۔ رانا محمّد شاہد کو بہت بہت مبارک کہ اب وہ بھی میگزین کے لکھاریوں کی نظروں میں آرہے ہیں۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپور خاص)
ج: الفاظ کی خُوشبو یا ماڈل کی خُوشبو…؟ یہ جو راہوالی والے صاحب کی دیکھا دیکھی دیگر نے بھی ماڈلز کا دیدہ وَری سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے (کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے) تو یہ کوئی مناسب طرزِ عمل نہیں۔
روشنی ہی روشنی، چراغاں
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمّدثانی نے تعلیماتِ نبویؐ سے متعلق ایک شان دار قسط وار نگارش قارئین کی نذر کی۔ منور مرزا اسلحے کی ریکارڈ فروخت کے ضمن میں چشم کُشا تجزیہ لائے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے اینٹی بائیوٹکس کے صحیح استعمال کے رہنما اصول گوش گزارکیے۔ڈاکٹرعلیمی، نصرت عباس داسو کے مضامین معلومات افزا تھے۔
’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کا اختتام مایوس کُن رہا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں اچھے موضوعات کا انتخاب کیا گیا۔ آفاق اللہ خان نے ’’دو استاد‘‘ کے عنوان سے شان دار افسانہ پیش کیا۔ اگلے شمارے میں منیراحمد خلیلی نے الجزائر کے غلامی سے آزادی تک کے حالات تفصیل سے بیان کیے۔
سیدہ تحسین عابدی بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر شان دارمضمون کے ساتھ آئیں۔ رستم علی خان نے بیٹیوں کی شادی میں تاخیر کی وجوہ کی بالکل درست نشان دہی کی۔
ڈاکٹر سکندر اقبال کا اضافی پروٹین سے متعلق مضمون اچھا تھا۔ بھٹّا مزدوروں کی حالتِ زار پر توجّہ مبذول کروانے کا شکریہ۔ سلیم عشرت کا افسانہ ’’زمین کا درد‘‘ پسند آیا اور آپ کا صفحہ میں تو روشنی ہی روشنی، بلکہ چراغاں تھا کہ خادم ملک اور ہمارا دونوں ہی کا خط جگمگا رہا تھا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: مگر آپ کا شیطان کی آنت جتنا طویل خط ایڈٹ کرتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگتا ہے۔ متعدد بار ہاتھ جوڑے گئے ہیں کہ خدارا جامع، مختصر لکھنے کی عادت اپنائیں، مگر مجال ہے جو آپ ٹس سے مس ہوں۔
ہر رنگ و خوشبو کا پھول
’’سال نامہ‘‘ کسی گل دستے کی مانند تھا۔ کس رنگ و خوشبو کا پھول تھا، جو موجود نہیں تھا۔ ہرعزیز دل شاعر، رحمان فارس نے تو گویا مشاعرہ ہی لوٹ لیا۔ پورے سال کو ایک نظم میں پرونا آسان کام نہیں اور پھر آپ کا سال بھر کی خبریں ذہن میں رکھنا، اُنہیں قلم بند کرنا، نیز ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک مدبرانہ عالمانہ اداریہ لکھنا بھی گویا جان جوکھوں کا کام ہے، مگرآپ گزشتہ کئی برس سے یہ فریضہ بخوبی نبھا رہی ہیں۔ ’’کوئی صُورت نظر نہیں آتی…‘‘ امتِ مسلمہ کے حوالے سے نعیم کھوکھر کی تجزیاتی رپورٹ بہترین تھی۔
منور مرزا، منور راجپوت، رؤف ظفر، بلال غوری، اویس یوسف زئی، ارشد عزیز ملک، اعزاز سید اور امین اللہ فطرت، سب ہی نےلاجواب نگارشات نذرِ قارئین کیں۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی سال بھر کی چِٹھیوں کا جائزہ بھی لاجواب رہا۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفّرگڑھ)
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں مَیں…
متعدّد بار ارادہ استوار کیا کہ آپ کی بزمِ ذی وقار میں حاضری دی جائے، پرکیا ہے کہ بقول منیر نیازی ؎ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں… واہ کیا عالی شان بزم ہے، سامنے ایڈیٹر صاحبہ گویا تخت سلیمانی پرجلوہ افروز ہیں، کبھی رضیہ سلطانہ لگتی ہیں، توکبھی ملکہ نورجہاں، ایک طرف بڑے بڑے محقّق حضرات، عالی مرتبت تجزیہ نگار، نام وَرادیب، ڈاکٹر صاحبان، مضمون نگارفروکش ہیں،تودوسری جانب خلعت پوش نامہ نویس۔
اللہ اللہ، کیا خُوب دربار سجا رکھا ہے، اپنی کم تری و کم مائیگی کا احساس نشتر چبھوتا ہے، تو ساتھ ہی ساتھ جذبۂ شوق بھی اِس خیال سے فزوں ترہےکہ ؎ تیری محفل میں قسمت آزماکر ہم بھی دیکھیں گے۔ سُنا ہے، خلوصِ دل سے کہا اثر رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے، اس جسارت پر کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ویسے اچھے ہی کا گمان ہے، چاہے تو خوش فہمی سمجھیے یاغلط فہمی۔ 2025ء کا آخری شمارہ سامنے ہے۔
ٹائٹل پر ماڈل صاحبہ بہت خوشی، گرم جوشی سے جاڑے کے استقبال کی تیاری میں ہیں۔ جدید مغربی ملبوسات پر روایتی شالز، قدیم وجدید کا خُوب صُورت امتزاج ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘کی تحریربہت بہت خوب، منیر احمد خلیلی کے محقّقانہ مضامین کی تعریف کے لیے تو الفاظ کم پڑ جائیں، طیبہ فاروقی کی تحریر متاثرکُن، منور مرزا بڑے جامع مضامین قلم بند فرماتےہیں۔
عرفان جاوید کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے، سب سے پہلے ان کی منتخب کردہ کہانی ہی پڑھتا ہوں۔ عشرت زاہد کی ’’آہ‘‘ بہت دردناک اور سبق آموز تھی، باقی ساری تحریریں بھی بہت اچھی رہیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ توسب کا اپنا ہی صفحہ ہے گویا۔ بزم کے سب ساتھیوں اور ٹیم ممبرز کی خدمت میں عاجزانہ سلام۔ (محمّد سلیم خان مغل، بہاول پور)
ج: چوں کہ یہ آپ کا پہلا نامہ ہے، تو آپ کو ضرورت سے کچھ زیادہ ہی رعایت، چُھوٹ دی جارہی ہے۔ آئندہ شائستگی و شُستگی مقدّم بلکہ ترجیحِ اوّل ہونی چاہیے۔’’میڈم رانی جی‘‘ جیسے القابات اور بلاوجہ کی Imagination (تخیّل آرائی) سے گریز ہی فرمایے گا۔ آج تو کافی کچھ قلم زد کردیا ہے، مگر اِن ہی باتوں پر خطوط ضایع بھی کردیئے جاتے ہیں۔
فی امان اللہ
واقعتاً بےلگام سوشل میڈیا نے بچّوں، نوجوانوں کو بھی بےلگام کردیا ہے۔ میرے اپنے بچّے اسکول سے آنے کے بعد کھانا نہیں کھاتے، جب تک موبائل پر کچھ نہ کچھ لگا کے نہ دیا جائے۔ ’’پہاڑوں کے عالمی دن‘‘ پر حافظ بلال بشیر اور اکنامکس کے موضوع پر ڈاکٹر معین نواز نے عُمدہ تحریریں رقم کیں۔ ڈاکٹر محمّد عظیم شاہ بخاری سیروسیاحت کے شوقین ہیں کہ اسی موضوع پر زیادہ تحریریں لکھتے ہیں۔
اِس بار لاہورکےتعلیمی اداروں کی پوشیدہ تاریخ کھنگال لائے۔ تحریر معلوماتی بھی تھی اور دل چسپ بھی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں دونوں ڈاکٹر صاحبان کی تحریریں مفید تھیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر نے سردیوں کے مزاج، دسمبر کی اداسی اور بدلتے موسموں کی فطرت پرخُوب خُوب لکھا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں مختلف رشتوں پر اُجلی تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال کی تحریر ’’خوش فہمی سے حقیقت پسندی تک کا سفر‘‘ بھی انسانی نفسیات کی بہت سی گتھیاں سلجھا رہی تھی۔
کچھ جملے لگا، جیسےخاص میرے لیے لکھے گئے ہیں۔ اس بارکتابوں پرتبصرے کے لیے پورا صفحہ مختص تھا۔ اختر سعیدی کے حقیقت پسندانہ تجزیے دل کو بھاتے ہیں۔ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے، انہوں نے کتاب کو محض سرسری طور پر نہیں دیکھا۔ اگلے شمارے کا سرِورق سرد موسم کی آمد اور برف باری کی خبر دے رہا تھا۔ ماڈل کے پیچھے برف سے مکمل طور پر ڈھکے درخت اور غروب ہوتا سورج سردیوں کی اداس شاموں کاایک دل کش منظرلگا۔ ویسے ماڈل اور ملبوسات بھی دل نشین تھے۔ منور مرزا کا موضوع اہم تھا۔
اسلحے کی ریکارڈ فروخت کی وجہ یہی ہےکہ جوممالک فروخت کرتے ہیں، وہ نہیں چاہتے، جنگیں کبھی رُکیں۔ ڈاکٹر ریاض علیمی کا موضوع ’’ڈگری مل گئی، ثابت کریں، اصل ہے۔‘‘ دل چسپ بھی تھا اور ہمارے نظام پر ایک سوالیہ نشان بھی۔ نصرت عباس داسو، خدیجہ طیب کی تحریریں پسند آئیں۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں امّی جان، ابّو جان اور بھائی جان جیسے تین اَن مول رشتوں پر ڈاکٹر اطہر رضا، پروفیسر عمران ریاض اور عالیہ شمیم نے عُمدگی سے لکھا۔
’’پیارا گھر‘‘ میں افشاں مراد اور ثناء توفیق خان کی نگارشات بھی خوب تھیں۔ آفاق اللہ خان کا افسانہ ’’دو استاد‘‘ منفرد موضوع پر تھا۔ ’’برقی خطوط‘‘ میں عارف جاوید نے مختلف شہروں کی داستانیں پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو پہلی فرصت میں ’’بورے والا‘‘ پر تفصیلی تحریر ای میل کردی ہے۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: جی، اور تحریر خط سے قبل شایع بھی کر دی گئی ہے۔
* اکثر سُنتے آئے تھے کہ اخبارات میں وہی تحریریں جگہ پاتی ہیں، جو ادارتی عملے کے رشتےداروں یا جاننے والوں کی لکھی ہوں۔ مگر جب مَیں نے فادرزڈے کےموقعے پر اپنے ابّو کے لیے ایک محبّت بَھری تحریر لکھی اور وہ جریدے میں شائع ہوگئی، تو خوشی اور حیرت کا ٹھکانہ نہ تھا۔ اُس لمحے نہ صرف دل بےحد مسرور ہوا، برسوں پرانی غلط فہمی بھی دور ہو گئی۔ یقین ہوگیا کہ جنگ اخبار واقعتاً کھرا، سچّا ہے۔ (کلیم ناظم، کراچی)
ج: اور اب آج آپ کی ای میل بھی شایع ہو رہی ہے، تو یقیناً رہی سہی غلط فہمی بھی دُور ہوجائے گی۔
* پاکستان میں گریجویٹس کی بےروزگاری کے موضوع پر رابعہ فاطمہ نے ایک عُمدہ مضمون لکھا۔ دواہم پوائنٹس پر تبصرہ کروں گا۔ ’’جامعات کا رجحان بھی صنعتی ضروریات کی بجائے تعلیمی فضیلت پر رہتا ہے۔
ایسے کورسز پڑھانے پر زور دیتی ہیں، جن کی مارکیٹ میں طلب کم یا صفرہے۔ مثلاً ہزاروں ایم اے اُردو، اسلامیات کے گریجویٹس پیدا کیے جارہے ہیں، جن کے لیے روزگار کے مواقع معدوم ہیں۔‘‘ واقعتاً پاکستان میں اِن مضامین کا اسکوپ کافی کم ہو چُکا ہے۔
مگر طلبہ اِن کی آسان تعلیم کے سبب، محض رٹّےلگا کر ڈگریز لیے چلے جا رہے ہیں کہ نام کے ساتھ ماسٹرز ڈگری ہولڈر تو لکھا جائے۔ دوم، ’’خواتین گریجویٹس (بالخصوص انجینئرنگ کی) اکثر ملازمت سے باہر رہ جاتی ہیں۔‘‘اِس معاملے میں کافی حد تک قصورخواتین ہی کا ہےکہ جو اپنے گھر کی پانی کی خراب موٹرٹھیک کرنا بھی پسند نہیں کرتیں، بجلی کا ایک بورڈ نہیں بنا سکتیں، تو انجینئرنگ میں داخلہ کیوں لیتی ہیں۔ کسی کمپنی میں مشین کو صرف اِس وجہ سے ہاتھ نہیں لگاتیں کہ میلے ہوجائیں گے، تو انھیں وکالت یا اکاؤنٹنگ کے شعبوں میں جانا چاہیے۔
سلیم اللہ صدیقی نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے78 سال کا جائزہ لیا۔یہ اسٹاک سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے عمدہ تحریر تھی۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا المیہ یہ ہے کہ ہمیں جب تک بیرونی دنیا، بالخصوص عالمی مالیاتی اداروں سے قرض پر قرض ملتا رہے، اسٹاک مارکیٹ کی چمک دمک برقراررہتی ہے، یعنی مارکیٹ کی ساری تیزی بیرونی قرضوں کی محتاج ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہماری اسٹاک مارکیٹ کی تیزی ملکی اکانومی کی بنیاد پر ہو، نہ کہ بیرونی قرضوں پر۔ (محمّد کاشف، کراچی)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk