السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
کتابیں شائع ہونا بند ہوگئیں
’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں سیدہ تحسین عابدی کا تحریر کردہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو پر لکھا مضمون بہت پسند آیا۔ خاصی متوازن تحریر تھی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا تجزیاتی مضمون پڑھا، ہمیشہ کی طرح اچھا لگا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’آسیہ‘‘ کی پہلی قسط اچھی تھی۔ منور راجپوت صرف ایک کتاب پر تبصرہ لائے۔
کیا کتابیں شائع ہونا بند ہوگئی ہیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں عندلیب زہرہ کا دسمبر پر لکھا مضمون پسند آیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ بھی بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔ اختر سعیدی اور ڈاکٹر قمر عباس کی نظموں کا جواب نہ تھا اور محمّد سلیم راجا تو ’’اِس ہفتے کی چِٹھی‘‘ پانے کا ریکارڈ توڑ رہے ہیں، مبارک ہو جناب۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: غالباً پہلے بھی وضاحت کی تھی کہ کم کتب پر تبصرے کی وجہ عموماً جریدے میں جگہ کی کمی ہوتی ہے، نہ کہ کتب کی کمی۔ تبصرے کےلیےوصول پانے والی کُتب کےتو انبار لگے ہیں۔
منہگائی کے ہاتھوں مُرغے
’’آپ کا صفحہ‘‘ میں صدیق فنکار نے فن کاری دکھائی، تو آپ نے اُن کی سرزنش فرمادی۔ براہِ مہربانی قارئین پر ہاتھ ذرا ہولا ہی رکھا کریں۔ ہمارے خطوط معیار کی کسوٹی پرنہ پرکھا کریں۔ بےچارے عوام پہلے ہی منہگائی کے ہاتھوں مُرغے بنے ہوئے ہیں۔ حکومت سے چِھتّروں پر چِھتّر کھارہے ہیں۔ عوام کا ایساحال کردیاگیا ہے کہ وہ چوریاں، ڈاکے نہ ڈالیں، تو کیا کریں۔
جب کہ حُکم ران خود 78 سال سے چوریاں کررہے ہیں، پھر عوام بھی تو اُن ہی کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ اور یہ عابدی صاحبہ کو کیا مستقل ٹیم ممبر بنا لیا گیا ہے، جوہر ہفتے موجود ہوتی ہیں۔ اُن کی تحریروں میں سوائے حکومت کی تعریف و توصیف کے کچھ نہیں ہوتا، مگر آپ لوگوں کو بھی تو خیال رکھنا چاہیے۔
ہمیں تو اُن کی نگارشات پڑھ کربیربل کا مشہورِ زمانہ قصّہ یاد آجاتا ہے کہ ’’مَیں آپ کا ملازم ہوں، کدّو/ بینگن کا نہیں۔‘‘ ہاں، وہ اگر ہمیں کسی ضلعے کا ڈپٹی کمشنر لگوا دیں، تو پھر آپ اُن کی جتنی مرضی تحریریں چھاپ لیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ( نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: منہگائی کے ہاتھوں مُرغا بننے والے کا چرغہ تو بن سکتا ہے، ڈپٹی کمشنر لگنا تھوڑا مشکل ہے۔ شاید اِسی لیے تحسین نے خُود ہی آج کل مضامین لکھنا ترک کیا ہوا ہے۔
مسوّدات کی بیرنگ واپسی
گل ہائے خلوص وعقیدت کے انبار! روزنامہ جنگ، سنڈے میگزین، خصوصاً ’’آپ کا صفحہ‘‘ نے ایک بار پھر قلم اٹھانے پرمجبور کردیا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں طوالت کی گنجائش نہیں، لیکن اختصار کے ساتھ مدعا ضرور بیان کرسکتے ہیں اور یہ بھی غنیمت ہے کہ اس طور جریدے سے تعلق برقرار رکھ کے اظہارِ خیال تو کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ سینسر زدہ ماحول میں تو یہ حال ہے کہ ؎ بات کوئی ہو پُر اسرار بنادیتے ہیں… پھر اُسے چھاپ کر اخبار بنا دیتے ہیں۔
جب کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ ؎ عہدِ ماضی سے حال تک پہنچے…رفتہ رفتہ زوال تک پہنچے۔ والا معاملہ ہے۔ مگر ایسے میں بھی ادارۂ جنگ کا کردار غنیمت اور قابلِ تحسین ہے۔ سال کے365دنوں کی عمومی معلومات کے علاوہ مختلف اہم عالمی ایام سے متعلق خصوصی ایڈیشنز، مضامین دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہیں۔ ویسے تمام سلسلوں میں سے دو ’’اسٹائل‘‘ اور’’آپ کا صفحہ‘‘ کو مدیرہ کی خصوصی توجّہ حاصل ہے۔
جہاں تک قارئین کے آراء کا تعلق ہے تو کسی کی رائے سوفی صد قابلِ قبول نہیں ہوتی، چہ جائیکہ بےچارہ قاری۔ مگر بقول مدیرہ، قاری کے رائےکو اہمیت دی جاتی ہے تو مَیں اپنی رائے کا اظہار صرف آپ کا صفحہ تک محدود رہ کر کروں گا۔ خط، جو ذریعۂ آدھی ملاقات ہے، ماضی میں کبوتروں کے ذریعے بھی انجام پاتا رہا۔
رفتہ رفتہ مختلف مراحل طے کرکے محکمۂ ڈاک تک جاپہنچا، مگر اب یہ بھی زوال پذیر ہے۔ ناقابلِ اشاعت تحریروں کے ضمن میں ایک تجویز ہے کہ اگر مسوّدات بیرنگ یعنی بغیر ڈاک ٹکٹ کے سادہ لفافے میں واپس بھیج دئیے جائیں، تویہ قارئین کے حق میں ایک اچھا فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ (امین شیدائی، اورنگی ٹاؤن، کراچی)
ج: قارئین کےحق میں تو اچھا فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے، لیکن ہمارے حق میں نہیں۔ یہ جو ’’ناقابلِ اشاعت تحاریر کی فہرست‘‘ شایع کی جا رہی ہے، آج کے اس برق رفتار دَور میں یہ دردِ سری بھی کچھ کم پُرمشقّت نہیں، کجا کہ آپ ’’مسوّدات کی واپسی‘‘ جیسی قطعاً ناقابلِ عمل تجویز لے آئے ہیں۔
جریدے کے بغیر دن گزارنا محال
’’ آپ کا صفحہ‘‘، قارئین کا مَن پسند صفحہ ہے۔ اب تو سنڈے میگزین، خصوصاً اس صفحے کا مطالعہ ایک دیرینہ عادت بن چُکی ہے۔ یوں کہیے، اتوار کا دن، جریدے کے بغیر گزارنا محال ہے۔ دُعا ہے کہ آپ اور آپ کی پوری ٹیم سلامت رہے۔ قارئین کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو۔ (شرلی مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)
آپ جیسے ’’علاماؤں‘‘ کے ہوتے
منیراحمد خلیلی ’’الجزائر‘‘ کی آزادی سے متعلق پُرمغز تحریر لائے۔ معلومات میں اضافے کے ساتھ ذخیرۂ الفاظ میں بھی اضافہ ہوا۔ سیّدہ تحسین عابدی، بی بی شہید بےنظیر بھٹّو کی یادوں سے دل گرما رہی تھیں۔ رستم علی خان نے ’’بیٹیوں کی شادی میں تاخیر‘‘ جیسے اہم معاشرتی موضوع پر فکرانگیز نگارش پیش کی۔ منورمرزا افغانستان سے متعلق تجزیاتی مضمون کےساتھ موجود تھے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کا صفحہ بہترین رہا۔
تحریم فاطمہ نے’’ڈائری کے چند صفحات‘‘ کے ذریعے بہت خُوب صُورت احساسات سے روشناس کروایا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل میں سیّد زاہد علی، نواب زادہ، اور رونق افروز برقی کے ساتھ محمّد سلیم راجا بھی رونق افروز تھے۔
آپ سے ایک بات کہنی تھی کہ آپ جیسے ’’علاماؤں‘‘ کے ہوتے اگر خطوط میں ’’توتے، اش اش اور پرنام، نمستے‘‘ جیسے الفاظ شایع ہوں، تو کیا یہ انتہائی افسوس ناک بات نہیں۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، مظفّر گڑھ)
ج: اِس میں کیا انتہائی افسوس ناک ہے۔ اصل افسوس ناک بات یہ ہے کہ آپ کی ’’سمجھ دانی‘‘ انتہائی چھوٹی سی ہے، مگر آپ اُس پر بلا ضرورت بوجھ ڈالنےکی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ ایک صاحب نے خط میں ’’نمشکار‘‘ کے معنی پوچھے، تووضاحتاً اُنہیں بتایا گیا کہ یہ لفظ نمستے، پرنام کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
رہی ’’ توتے‘‘ اور ’’اش اش‘‘کی بات، تو دونوں الفاظ کی یہی درست املا ہے۔ ’’طوطے‘‘ اور’’عش عش‘‘غلط العام ہیں اور یہ ہم جیسے ’’علاماؤں‘‘ ہی کی بدولت ہے، وگرنہ آپ نے تو خط میں جو جو کچھ لکھ رکھا ہوتا ہے، بعینہ شایع ہوجائے، تو لوگوں کی رہی سہی اُردو کا بھی جنازہ نکل جائے۔ جیساکہ اِسی نامے میں لکھا گیا ’’مضمون نگار خیالات برسا رہے تھے‘‘ اور ’’اپنی تحریر کے موتی دہکا رہے تھے۔‘‘
لیٹ کر لکھنے کی وجہ سے
شمارہ موصول ہوا، سرِورق دیکھ کر صفحہ پلٹ دیا۔ منیر احمد خلیلی ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں مسلم ممالک کی تاریخ و جغرافیے، سیاسی حالات سے آگاہ کررہے تھے، جو ہمارے ہی حالات سے ملتے جُلتے ہیں۔ یہ امتِ مسلمہ کا المیہ ہے کہ اقتدار کی ہوس میں اپنے ہی مُلک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔ طیّبہ فاروقی نے نیویارک کےمسلمان میئر، ظہران ممدانی کی بہترین، منفرد انتخابی مہم کو کام یابی کی وجہ قرار دیا۔
ثانیہ انور ماہِ جنوری کے اہم عالمی واقعات، ایام کا تذکرہ لائیں۔ حافظ بلال بشیر، نابینا افراد کو بریل کے فوائد سے آگاہ کرتے دکھائی دئیے، تو امجد سعید کمالیہ کھدر کا تذکرہ لائے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا بڑی طاقتوں کو بلاک بنانے کے بجائے دنیاکی معیشت ٹھیک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر نے بہت اچھا رائٹ اَپ لکھا۔ ’’انٹرویو‘‘ میں وحید زہیر نے نام وَر گلوکار عارف بگٹی سے بات چیت کی۔ عرفان جاوید بلال حسن منٹو کے افسانے ’’آسیہ‘‘ کی دوسری قسط لائے۔
محمّد کاشف نے بیٹری خراب ہونے کی علامات، تدارک سے آگاہ کیا۔ بیٹری تو اب گھر گھر کی ضرورت ہےکہ بجلی کی آنکھ مچولی جو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ ہمارے صفحے میں ڈاکٹر تبسّم سلیم کی چٹھی اعزازی ٹھہری۔ ہمیں مستقل مزاج قاری کا ایوارڈ دینے کاشکریہ۔
حقیقت یہ ہے، ہم نےجریدے سے کافی کچھ سیکھا، جو ہمارے پروفیشن میں بھی بہت کام آرہا ہے۔ ویسےخوش خط تو ہم بھی ہیں، مگر لیٹ کر لکھنےکی وجہ سے تحریر کچھ زیادہ خوش خط رہ نہیں پاتی۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)
ج: ہیں جی… لیٹ کرلکھنےکی وجہ سے…؟؟ کیا ہم نےیہی پڑھا ہے، پھر تو آفرین، صد آفرین ہے۔ ویسے یہ بھی مقامِ شُکرہی ہے، اگر آپ لیٹ کر، ہاتھوں کی بجائے پیروں سے لکھنا شروع کردیں، تو بھی ہم نے آپ کا کیا ہی بگاڑ لینا ہے۔
ای میل میں نام
میڈم! آداب کے بعد عرض ہے کہ آپ کی خیریت نیک چاہتا ہوں اور دلی دُعا ہے، سنڈے میگزین اسی آب وتاب سے شائع ہوتا رہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے تمام لکھاری خوش وخرّم رہیں۔ میڈم! سنڈے میگزین میں گلوکار عارف بگٹی کا دل چسپ انٹرویو پڑھا۔ منیر احمد خلیلی کا مضمون ’’مسلم دنیا کی قدیم بادشاہت‘‘ معلومات افزا تھا، سب ہی کے علم میں اضافہ ہواہوگا۔ میڈم! سنڈے میگزین کا شُکر گزار ہوں کہ اتنی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
یہ آپ لوگوں کی محنت ولگن ہی کا نتیجہ ہے۔ طیّبہ فاروقی نیویارک سے ظہران ممدانی سے متعلق ’’رپورٹ‘‘ لائیں۔ ایک مسلمان کے میئر بننےکی دلی خوشی ہوئی۔ میڈم! قرأت نقوی ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتی ہیں، جس پر بہت شُکرگزار ہوں۔
واقعتاً ہم سب سنڈے میگزین کے حوالے سے ایک خاندان ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میڈم! قرأت کی ای میل میں جب میرا نام آیا، تو دل بہت خوش ہوا بلکہ سچ کہوں تو یہ خط لکھنے کا سبب بھی یہی ہے۔ (حسن شیرازی، نارتھ کراچی، کراچی)
ج: چلیں، سبب کوئی بھی ہو، ہمیں تو کچھ لمحوں کے لیے بہت ہی ’’میڈم، میڈم‘‘ سا احساس ہوا۔
گل دستہ مہکتا رہے
ہربار کی طرح اِس ہفتے کا سنڈے میگزین بھی لاجواب، شان دار تھا۔ ’’مراکش، مسلم دنیا کی قدیم بادشاہت‘‘، ’’ماہِ جنوری کے اہم ایام، واقعات‘‘، افسانہ ’’آسیہ‘‘ اور ’’ڈائجسٹ‘‘ کی تمام نگارشات بہت زبردست، بے حد معلوماتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ سنڈے میگزین کی پوری ٹیم اور تمام لکھاریوں کو نہ صرف صحت والی زندگی عطا فرمائے بلکہ ان کے زورِقلم میں خاطرخواہ اضافہ کرے۔ دِلی دُعا ہے، یہ گل دستہ اِسی طرح شگفتہ شگفتہ رہے۔ ( بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)
ج: آمین، ثم آمین۔
فی امان اللہ
اس ہفتے کی چٹھی
اکیسویں صدی کے سلور جوبلی ایئر 2025ء کے لاسٹ منتھ کا فرسٹ میگزین، فرسٹ کلاس ٹائٹل کے ساتھ نظر نواز ہوا۔ ٹائٹل پرایک ایکشن فل ماڈل دیکھ کر خیالِ خام آیا کہ کدرے بھائی پھیرو (ہاکر) فیشنی’’MAG‘‘ تاں نیئں پھڑا گیا؟ مگر ’’رات سی آنکھیں‘‘ اور ’’دھوپ سا مُکھ‘‘ دیکھ کر سانسِ سُکھ آگیا، شُکر اے! ہم سب کا ’’سنڈے میگزین‘‘سوشل میڈیائی دَورمیں بھی بجا طوراِک سرمایۂ ادب ہے، جس کا مقصود محض ’’ادب برائے ادب‘‘ نہیں،’ ’ادب برائے زندگی‘‘ ہے۔
ہر سلسلہ اپنی جگہ اِک ادب پارہ ہے اور ادب العالیہ کے ذریعے قاری کو بھی ادب، لحاظ سکھاتا ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سے زندگی، بمطابق دین گزارنے کے گُر سکھائے جاتے ہیں۔ اِس ہفتے قرآنی حوالے سے برادرانِ اسلام کو نصیحت کی گئی۔ ’’تم ایسی بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں۔‘‘ بابرکت صفحہ ادب سے پلٹ کر آگے بڑھے تو سردارِ ادباء، منور مرزا کو شُترِ بے مہارسوشل میڈیا کے معصوم اذہان کچلنے پر دل گیر پایا۔
سبھی ذمّے داران کو ہوش کے ناخن لینےچاہئیں کہ بعدازاں ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سےکھولنی پڑیں گی۔’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں پہاڑوں کے عالمی دن کے حوالے سے ہم وطنوں سے استدعا کی گئی کہ پہاڑوں کی قدر کریں۔ بجا لکھا، وگرنہ گلوبل وارمنگ میں حضرتِ انسان کی پہاڑسی زندگی، پہاڑ ہوجائے گی۔’’اشاعتِ خصوصی ٹو‘‘ سے جانا کہ پاکستانی کرنسی کا رشتہ، برطانوی پاؤنڈ سے توڑ کر، امریکی ڈالر کے ساتھ طے کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ہم آئی ایم ایف کے بندے اور ورلڈ بینک کی باندی بن گئے۔ ’’ہمارا وَرثہ‘‘ کے ورق سے، شہرِ زندہ دلان کے لگ بھگ دس قدیم نام اور تعلیمی اداروں کا بخوبی تاریخی عرق کشید کرکے، تشنگانِ تاریخ کو تحفتاً پیش کیا گیا۔ ’’ہیلتھ اینڈفٹنس‘‘ نےاس بار ٹیڑھے میڑھے دانتوں کو ’’مسکراہٹ کا دشمن‘‘ قرار دے دیا۔
اب ہمیں ’’تم اتنا جو مُسکرا رہے ہو… کیا غم ہے، جس کو چُھپا رہے ہو۔‘‘ گاتے عاشق کی الجھن سمجھ آگئی۔ ہاہاہا… صاحبِ گیان، عرفان جاوید کی پیش کش ’’دھول بَن‘‘ نے ریگ زاروں میں آندھیوں سے لڑتے بِھڑتے مکینوں کے مسائل کماحقہ اجاگر کیے، جب کہ رشتہ شناس سلسلے ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ نے انسانی رشتوں کا خُوب صُورت ٹرائیکا (دوست، ساس، چچا) سجایا۔ ’’نئی کتابیں‘‘ ڈیسک پر پوری نو کتابیں دھری تھیں، اختر سعیدی نے شاعرومصنف منیر راہی سے متعلق بجا فرمایا۔
’’منیر راہی کو لفظ ’’محبّت‘‘ سے بہت محبّت ہے۔‘‘ ڈائجسٹ پگڈنڈی پر ’’رسیلی خوبانیوں تلے‘‘ قلبِ سلیم گرما کر آخر ’’ہائیڈ پارک‘‘ پہنچ ہی گئے۔ جہاں صدیق فنکار و قائم خانی قلم کار اور حافظ عُمر ڈار و ساغر شاعرِ نام دار، میرِ محفل سے ہم کلامی پر نازاں تھے، جب کہ گدڑی کا لال ’’اِک چُپ، سو سُکھ‘‘ ہی پہ تھا نہال۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
ج: آج مزید نہال ہو لیجیے۔
گوشہ برقی خطوط
* محمّد کاشف ’’ڈے ٹریڈنگ‘‘کے فوائد و نقصانات بتارہے تھے۔ پروفیسر عمران فیاض نے’’کدّو‘‘ کےفوائد سے آگاہ کیا۔ ارسلان اللہ خان کی، تاریخ کی اہم شخصیات کی اپنی بیٹوں کو پندو نصائح ایک اَن مول تحریر تھی۔ پڑھ کے امّی جان کی بچپن میں کی گئی کئی نصیحتیں یاد کر کے آنکھیں بھیگ گئیں۔
ڈاکٹر معین نے مستقبل کے طرزِ زندگی کی جھلکیاں دکھائیں۔ اپنا پرانا دور جو گُزرگیا، بس وہی اچھا تھا۔ میرا پسندیدہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کا صفحہ بھی شامل ہوا۔ دونوں واقعات بہت درد انگیز تھے۔ ’’اسٹائل‘‘کی تحریر تو دل اداس کر گئی، پہناوے البتہ بہت پیارے پیارے تھے۔
افسانہ اچھوتے موضوع پر لکھا گیا۔ سید زاہد علی کا خط پڑھ کے ہنسی چھوٹ گئی، کمپاؤنڈر کو ڈاکٹر کی ڈگری…ہاہاہا۔ اہم ایام میں ’’فوٹو گرافی ڈے‘‘ کا پڑھ کے عجب سا احساس جاگا کہ ہمارے بچپن میں تصویروں کی کتنی اہمیت ہوتی تھی۔13 اگست، ہم بائیں ہاتھ والے لوگوں کا دن ہے، واہ بھئی۔ افسانہ’’انکشاف‘‘ سر پہ سے گزر گیا۔ ارسلان خان ’’فرینڈشپ ڈے‘‘ پر تحریر لائے۔
یہاں امریکا میں تو میری کوئی دوست ہی نہیں۔ بس، بچپن کی ایک سہیلی سے ابھی تک رابطہ ہے۔ حمیرا احمد دہی بڑوں کی تاریخ لائیں۔ اِسی طرح سموسوں، پکوڑوں اور پانی پوری وغیرہ کی تاریخ بھی سامنے آنی چاہیے۔ ’’آپ کاصفحہ‘‘ میں اپنی میل دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ تیسرے جریدے میں منیر احمد خلیلی ایک پُراسرار تحریر کے ساتھ آئے۔
ڈاکٹر یاسمین مختلف الرجیز سے متعلق بہترین معلومات فراہم کررہی تھیں۔ اسٹائل کے صفحات پرالیکٹرک بلیوڈریس بہت پسند آیا۔ عمیر محمود کی تحریرکا جواب نہ تھا۔ ثاقب نظامی کی تحریر ’’شخصیت پرستی‘‘ اچھوتے موضوع پرتھی۔ سفر نامے کی آخری قسط کا جواب نہ تھا۔ یہ جملہ تودل لےگیا ’’جیسے وقت، مٹی اور یادیں یہاں خاموشی سے باتیں کرتے ہوں۔‘‘
ایمان علی کا محبت بھرا خط بہت ہی پسند آیا۔ محمّد صفدرخان نے مجھے یاد فرمایا، شکریہ جناب کا۔ ’’یومِ حجاب ایڈیشن‘‘ میں ڈاکٹر سمیحہ کی عورت کے تحفّظ پر تحریر پڑھ کے دل میں غم و خوشی کے مِلے جُلے سے جذبات موجزن تھے۔ اسٹائل کی ماڈل تو جیسے لاکھوں میں ایک تھی۔ افسانہ ’’خاموش جہاد‘‘ایک بڑا سبق لیےہوا تھا۔ نئی کتابوں میں ’’تیری بات، تیری خوشبو‘‘ کا سرِورق خاصادیدہ زیب لگا۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk