مصنّف: صادق جعفری
صفحات: 352، قیمت: 1800 روپے
ناشر: ریسرچ اینڈ ڈسکوری/SHJپبلشرز، 15 اے، اویسیہ سوسائٹی، ٹاؤن شپ، لاہور۔
برّ ِعظیم کی تقسیم پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن کم ہی کتابیں ہیں، جو برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے عظیم ہنگامے اور قتل وغارت گری کو’’ایک سوچی سمجھی واردات‘‘ کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ صادق جعفری کی زیرِ نظر تحقیقاتی کتاب نہ صرف اِس پیچیدہ سازش کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ تقسیم کے موقعے پر ہونے والا قتلِ عام اور افراتفری ایک ہنگامی واقعہ نہیں، بلکہ ایک گہری سیاسی چال تھی۔
اِس کتاب کی سب سے بنیادی اور حیران کُن دلیل یہ ہے کہ سرحدوں کے تعیّن کا اعلان جان بوجھ کر آزادی کے تین دن بعد، یعنی 17 اگست 1947ء کو کیا گیا۔ آزادی کا جشن منایا جاچُکا تھا، لیکن تین دن تک عوام کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ کس مُلک کے شہری ہیں۔ سرحدوں کے اعلان میں دیئے جانے والے اِس’’خاموش وقفے‘‘ نے برطانوی راج، کانگریس اور دیگر مفاد پرست عناصر کو موقع فراہم کیا، جس میں اُنھوں نے فوج استعمال کرکے علاقوں پر قبضہ کرلیا، اقلیتی علاقوں میں اثر و رسوخ جمالیا اور زمینی حقائق اپنی مرضی کے مطابق بدل دیئے۔
یہ کتاب ایک اور نہایت سنجیدہ انکشاف پر زور دیتی ہے، جو کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس کے مابین خفیہ مفاہمت پر مبنی ہے، جس کے تحت ماؤنٹ بیٹن کو آزاد ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بنایا گیا۔ بدلے میں ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کے عمل کو شفّاف اور غیر جانب دار بنانے کی بجائے اسے کانگریس کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق ڈھال دیا۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم اِس کتاب میں ایک الگ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
قائدِ اعظم محمّد علی جناح کے اس مطالبے کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ دونوں مسلم اکثریتی صوبے متحدہ طور پر پاکستان میں شامل کیے جائیں، برطانوی سام راج نے اِن دونوں صوبوں کی تقسیم کا جواز پیدا کرنے کے لیے اکثریتی مسلم آبادی کے ووٹ کو غیر مسلموں کے اقلیتی ووٹ کے ذریعے شکست دی اور نہ صرف غیر مسلم اضلاع، بلکہ گورداسپور اور فیروز پور جیسے مسلم اضلاع بھی زبردستی بھارت کے حوالے کردیئے گئے۔ کتاب میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ یوپی، بہار، آسام، کیرالہ، بھوپال، حیدرآباد، جونا گڑھ اور کشمیر جیسے علاقوں میں مسلمانوں کو رائے دینے کا کوئی حق ہی نہیں دیا گیا، حالاں کہ ان کی تعداد کروڑوں میں تھی۔
اِس حقیقت پر بھی ریسرچ کی گئی ہے کہ یوپی، بہار اور دوسرے علاقوں کی مسلم آبادی کی پاکستان کی طرف منتقلی کے لیے کسی محفوظ راہ داری کا انتظام نہیں کیا گیا، حالاں کہ برطانوی راج چاہتا تو یہ اقدام بخوبی ممکن تھا، لیکن ہجرت کرنے والوں کو بے آسرا اور بے سہارا کرکے حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اِن علاقوں کے مسلمان نہ صرف فیصلہ سازی سے باہر رکھے گئے، ان کی حفاظت نہیں کی گئی، بلکہ بعدازاں اپنی ہی سرزمین پر مشکوک نگاہوں سے دیکھے گئے۔
کتاب اِس حقیقت کو بھی بےنقاب کرتی ہے کہ 1947ء میں جو فسادات پُھوٹے اُن کی شدّت دوسری عالمی جنگ سمیت کسی بھی انسانی بحران سے کم نہ تھی، لیکن برطانوی حکومت نے باوجود اس کے کہ ماؤنٹ بیٹن نے وائسرائے کی حیثیت سے امن قائم رکھنے کا حلف اُٹھایا تھا، کوئی فوجی یا انتظامی اقدام نہیں کیا۔
مصنّف اِس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں پر حملے محض جذباتی ردّ ِعمل نہ تھے، بلکہ یہ ایک منظّم عمل تھا، جس کا ایک مقصد یہ تھا کہ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی کم کی جاسکے اور مشرقی بنگال میں ہجرت کو بڑھایا جائے تاکہ آبادی کا توازن تبدیل کیا جاسکے۔
کتاب کی خُوبی صرف اِس کے انکشافات میں نہیں، بلکہ اِس کی تحقیقاتی گہرائی میں ہے۔ مصنّف نے سرکاری ریکارڈز، ڈی کلاسیفائیڈ فائلز، عینی شاہدین کے بیانات اور عالمی ذرائع سے استفادہ کرکے ایک ایسا بیانیہ ترتیب دیا ہے، جو ہمیں تاریخ کے اِس باب کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
صادق جعفری کی یہ کتاب صرف ایک تاریخی جائزہ ہی نہیں، بلکہ ایک تحقیقاتی فردِ جرم بھی ہے۔ ایک ایسی واردات کے خلاف، جس کے نتائج آج بھی نسل در نسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ کتاب ہر اُس قاری کے لیے ضروری ہے، جو یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ تقسیمِ ہند کیسے ایک سیاسی سازش میں بدل گئی اور کس طرح خاموشی، تاخیر اور بے حسی نے لاکھوں زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔