بالی ووڈ فلم دھریندر کے پروڈکشن ڈیزائنر سینی ایس جوہرے کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمے میں نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، کمیٹی نے انہیں مجرم قرار دے دیا، جس کے بعد ان سے متعدد پروجیکٹس واپس لے لیے گئے۔
شکایت کے مطابق متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ سینی ایس جوہرے نے انہیں چندی گڑھ کے ایک ہوٹل کے کمرے میں بلایا جہاں مبینہ طور پر جنسی ہراسانی، جسمانی تشدد اور زبردستی روک کر رکھا۔ خاتون نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے مشروب میں نشہ آور شے ملائی گئی تھی جس کے باعث ان کی حالت خراب ہوگئی۔
متاثرہ خاتون نئی دہلی کی رہائشی بتائی جاتی ہے، جس نے 20 اپریل کو سیکٹر 17 پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون نے نہ صرف پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی بلکہ فلم ساز ادیتیا دہر اور پروڈیوسر لوکیش دہر کی ملکیت والی پروڈکشن کمپنی بی 62 اسٹوڈیوز میں بھی باضابطہ شکایت جمع کروائی تھی۔
رپورٹس کے مطابق شکایت اکتوبر 2025 میں موصول ہوئی، جس کے بعد کمپنی کی انسداد جنسی ہراسانی کمیٹی نے تحقیقات شروع کیں۔
ذرائع کے مطابق 6 ماہ تک جاری رہنے والی انکوائری مارچ کے آخر یا اپریل 2026 میں مکمل ہوئی، جس میں سینی جوہرے کو دو الزامات میں قصور وار قرار دیا گیا۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ شکایت کنندہ کو بھی فراہم کردی، سینی جوہرے کو چندی گڑھ پولیس نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا، تاہم بعد ازاں ضلعی عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا۔
رپورٹس کے مطابق معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد مختلف پروجیکٹس سے ان کے کریڈٹس بھی ہٹائے جا رہے ہیں۔ فلم دھریندر کے او ٹی ٹی ورژن میں ان کا نام موجود تھا، لیکن بعد میں جاری کیے گئے ورژن سے ان کا کریڈٹ حذف کردیا گیا۔
اسی دوران یش راج فلمز نے بھی اپنی آنے والی ویب سیریز اکا سے ان کا نام ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔