• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کا سب سے نازک اور فیصلہ کُن موڑ وہ ہوتا ہے، جب ایک نوجوان یہ طے کرتا ہے کہ اُسے مستقبل میں کیا بننا ہے، کون سا راستہ اختیار کرنا ہے اور زندگی کے کس میدان میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں زندگی کا یہ اہم ترین فیصلہ زیادہ تر شعور وفہم کی بجائے جذبات، دوسروں کی آراء یا معاشرتی دباؤ کے تحت کیا جاتا ہے۔

ہم نے کیریئر کو صرف نوکری حاصل کرنے یا پیسا کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی پیشہ صرف ذریعۂ معاش ہی نہیں، زندگی کے مقصد سے جُڑا ایک راستہ ہوتا ہے اور اگر انسان کسی غلط راستے پر چل پڑتا ہے، تو وہ خواہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن تھکن اور مایوسی اُسے آ لیتی ہے۔

ہمارے مُلک میں لاکھوں نوجوان ایسے ہیں، جو تعلیم توحاصل کرلیتے ہیں، مگر اپنی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں سےناواقف رہتے ہیں۔ وہ ڈگری یافتہ تو بن جاتے ہیں، مگر اپنی پہچان کھو بیٹھتے ہیں اور ’’کیریئر کاؤنسلنگ‘‘ دراصل اس کھوئی ہوئی پہچان کو تلاش کرنے کے عمل ہی کا نام ہے۔ یہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی دل چسپیوں اور رُجحانات کو سمجھنے اور ان کی بنیاد پر زندگی کی سمت طےکرنےکا موقع فراہم کرتی ہے۔

جب ایک طالبِ علم میٹرک یا انٹر میڈیٹ کر لیتاہے، تو اس کے سامنے درجنوں راستے ہوتے ہیں، جن میں میڈیکل، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، بزنس، فنونِ لطیفہ، زراعت، درس وتدریس اور سول سروس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں، مگر تب اُسے کوئی یہ بتانے والا نہیں ہوتا کہ اُسے کس شُعبے کا انتخاب کرنا چاہیے، تاکہ وہ اپنی اصل صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لاسکے۔

ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو رٹا لگانے، امتحان پاس کرنے اور نمبر لینےکا فن تو سکھاتے ہیں، مگر خُود کو سمجھنے کی تربیت نہیں دیتے اور یہی وہ خلا ہے، جو ’’کیریئر کاؤنسلنگ‘‘ پُر کرتی ہے۔ ایک اچھا کیریئر کاؤنسلرو ہی ہوتا ہے، جو محض مشورے نہ دے، بلکہ خُود کو ایک اچھا رہنما ثابت کرے اور طالبِ علم کو یہ بتائے کہ ہر آدمی ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا، بلکہ وہ مصوّر، پروگرامر، محقّق یا کوئی کاروباری شخصیت بھی بن سکتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔

یاد رہے، اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو یہ شعور دے دیا کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، بلکہ نیّت اور مہارت اہمیت رکھتی ہے، تو شاید ہم بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی کے گرداب سے نکلنے میں بھی کام یاب ہو جائیں۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ والدین اب بھی اپنی خواہشات کو بچّوں کے خوابوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ کوئی باپ یہ چاہتا ہےکہ اُس کی بیٹی ڈاکٹر بنے، کوئی ماں یہ چاہتی ہے کہ اُس کا بیٹا انجینئر بنے اورکہیں والدین اپنے بچّوں کو وکیل یا فوجی افسر کے رُوپ میں دیکھنا چاہتے ہیں، مگر کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی کہ شاید اُن کا بچّہ فنونِ لطیفہ، صحافت، درس و تدریس، آئی ٹی یا کسی اور تخلیقی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دوسری جانب ہمارے معاشرےمیں رشتےداروں اور برادریوں کا دباؤ، مسابقت کی فضا اور معاشی عدم تحفّظ مل کر نوجوانوں کو اس قدر اُلجھا دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصل سمت ہی فراموش کر بیٹھتے ہیں۔

وہ اپنی زندگی گزارتے ضرورہیں، مگر جی نہیں پاتے۔ وہ صُبح دفتر تو جاتے ہیں، مگر دِل کے کسی گوشے میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ وہ اس دُنیا کےباسی نہیں۔ اور…کیریئر کاؤنسلنگ کا بنیادی مقصد اسی احساسِ محرومی کو ختم کرنا ہے۔ اگر ایک نوجوان کو وقت پر یہ سمجھا دیا جائے کہ اُس کی فطری صلاحیتیں، میلانِ طبع رجحانات کیا ہیں، اُس کے خواب حقیقت میں کیسےبدل سکتے ہیں، توشاید ہمارامعاشرہ بہت متوازن اور خوش حال نظر آئے۔

دُنیا کے ترقّی یافتہ ممالک میں کیریئر گائیڈینس تعلیمی نظام کالازمی حصّہ ہوتی ہے اور اسکول کے زمانے ہی میں طلبہ کے ٹیسٹ، انٹرویوز اور مشاہدے کےذریعے ان کے فطری رُجحانات کا پتا لگا لیا جاتا ہے اور اُنہیں اُسی کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع بھی فراہم جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں صورتِ حال بالکل برعکس ہے۔ یہاں کیریئر کا مطلب صرف ’’اچّھی نوکری‘‘ سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ کام یابی صرف تن خواہ یا عُہدے سے نہیں ناپی جا سکتی۔ درحقیقت، کام یاب اور خوش قسمت وہ ہے، جس کا شوق ہی اُس کا کیریئر ہو۔ جو اپنی محنت اور کارکردگی سے مطمئن ہو اور جو اپنی صلاحیتوں کی بدولت دوسروں کو نفع پہنچائے۔

آج دُنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور ریموٹ ورک کےدورمَیں نوجوانوں کی نئے میدانوں کے حوالے سے رہنمائی کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ اب ہمیں پُرانے اور فرسودہ تصوّرات سے نکل کر نئی حقیقتوں کو قبول کرنا ہوگا۔ 

اب محض ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی کام یابی نہیں، بلکہ ایک ہُنرمند یوٹیوبر، سافٹ ویئرڈیولپر، ڈیجیٹل مارکیٹر یا ڈیٹا اینالسٹ بھی وہ مقام حاصل کر سکتا ہے، جس کا چند دہائیوں قبل تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یاد رہے، کیریئر کاؤنسلنگ صرف مستقبل کے فیصلوں ہی میں مدد نہیں دیتی بلکہ یہ سوچ کا زاویہ تک بدل دیتی ہے۔

یہ نوجوان کو یہ سمجھاتی ہے کہ ناکامی دراصل سمت کی غلطی ہے، صلاحیت کی کمی نہیں۔ ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی غیرمعمولی خُوبی یا جوہر موجود ہوتا ہے، بس صرف ایک جوہر شناس کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ صُورتِ حال پیشِ نظر رکھتے ہوئے اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ’’کیریئر گائیڈینس سیلز‘‘قائم کر لیے، تربیت یافتہ مشیر مقرّر اور نصاب میں شخصیت شناسی کے مضامین شامل کر لیے، تو یقیناً آنے والی نسلیں خُودمختار، بااعتماد اور مقصد شناس ہوں گی۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وہ دوسروں کی کام یابی کو اپنی ناکامی نہ سمجھیں، کیوں کہ ہر راستہ الگ ہے اور ہر منزل اپنی جگہ معتبر۔ جو خُود کو پہچان لیتا ہے، وہ دُنیا کو بھی بدلنےکی صلاحیت رکھتا ہے، مگر جو دوسروں کی تقلید کرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے، وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ ’’کوّا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بُھول گیا۔‘‘

کیریئر کاؤنسلنگ درحقیقت خُود شناسی کا سفر ہے اور یہ سفر جتنا جلد شروع ہوجائے، اُتنا ہی بہتر ہے۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، متعلقہ حُکام اور میڈیا سب کو مل کر اس پیغام کو عام کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کی رہنمائی محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک اہم ذمّے داری ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچّوں کو یہ موقع دے دیا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق زندگی کا راستہ منتخب کریں، تو یقین مانیں کہ پھر معاشرہ بھی خوش حال ہو گا اور فرد بھی مطمئن۔ لیکن اگر ہم نے اپنی نئی نسل کومحض نمبرز، ڈگریز اور نوکریوں ہی کی دوڑ میں جھونک دیا، تو اس کا نتیجہ موجودہ حالات سے مختلف نہیں رہےگا۔

یعنی ڈگری یافتہ بے روزگاراور ذہنی دباؤ کے شکار نوجوان۔ کیریئر کاؤنسلنگ اس اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے، جس میں نوجوان اپنا اصل عکس دیکھ سکتا ہے۔ ہمیں اس آئینے کو ہر گھر، ہراسکول اور ہر دل میں جگہ دینی ہوگی تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں کہ کسی نے اُن کی دُرست سمت رہنمائی نہیں کی۔

سنڈے میگزین سے مزید