• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یادش بخیر، سن دو ہزار چار کی بات ہے۔ہم نئے نئے سول سروس میں آئے تھے اور سول سروسز اکیڈمی، والٹن، لاہور میں زیرِتربیت تھے۔ اکیڈمی کی روایت ہے کہ ہر صوبے کی ثقافت کو تہوار کی مانند منانے کے لیے ایک شام برپا کی جاتی ہے۔ اِسی سلسلے میں ’’شامِ پنجاب‘‘ کے نام سے موسیقی کی ایک محفل منعقد ہوئی۔ وہیں ہم پہلی بار سُرتال سے نہال کردینے والے اُستاد حامد علی خان سے مِلے۔ 

ہم اکیڈمی کےلان میں پنجابی پلنگڑیاں، ماچیاں اور پیڑھیاں بچھائے پنجاب ہی کی پگ باندھے بیٹھے تھے کہ دُور سے ہمارے برادرِ عزیز اور بیچ میٹ ساجد ظفر ڈال آتے دکھائی دیے۔ اُستاد حامد ’’دل کی بستی عجیب بستی ہے…لُوٹنے والے کو ترستی ہے‘‘ گا رہے تھے۔ ساجد کے دونوں ہاتھوں میں گرما گرم چائے کا ایک ایک کپ تھا اور اُن کے پاؤں غزل کی تال پر اُٹھ رہے تھے۔

ہم نے اُن سے ایک کپ اُچک لیا اور چائے کی چُسکیوں کے ساتھ ہم دونوں اُستاد حامد کے بکھیرے سُروں کے مدُھر پُھول اپنی سماعتوں کی ٹوکریوں میں سمیٹنے لگے۔ ساجد آج کل چیف منسٹر پنجاب، محترمہ مریم نواز کے پرنسپل سیکرٹری ہیں اور صُوبے کی تعمیرو ترقی کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اُس شام اُستاد حامد علی خان نے سُروں کے وہ کمالات دکھائے کہ سُروں کے شناسا و نا شناسا یک ساں جُھوم رہے تھے۔

اُنیس سو تریپن میں لاہور میں پیدا ہونے والے پٹیالہ گھرانے کے سپوت، حامد علی خان کئی دہائیوں سے پاکستانی موسیقی کے منظرنامے کی مرکزی نشست پر براجمان ہیں۔ ایک بار ٹیلی ویژن کے لیے انٹرویو کرتے ہوئے ہم نے اُن سے پوچھا کہ ’’آخر یہ کیا راز ہے کہ پٹیالہ والے جب اُوپر کے سُروں پر جاتے ہیں تو ایک خاص دل موہ لینے والی پُراسرار سی فریکوینسی چُھوتے ہیں۔ چاہے وہ اُستاد سلامت ہوں یا اُستاد امانت، یا اسد امانت، جوبےچارے جوانی ہی میں اللہ کو پیارے ہوئے، یا آج کل آپ خُود ہوں یا آپ کےصاحب زادے ولی، انعام اور نایاب… کھرج الگ ہی سُنتا ہے۔‘‘کہنےلگے۔ یہ گھرانے پر رب کا خاص کرم ہے۔

یاد پڑتا ہے، ہمارے گھرانے میں دو تین سال کی عُمر ہی سے بچّوں کو تہجّد سے بھی قبل اُٹھا کر بٹھال دیا جاتا کہ ’’سا‘‘ لگائیں یعنی کھرج کا سیدھا الاپ کریں۔ اِس بات کی پروا ہرگز نہ کی جاتی کہ شدید گرمی ہے یا سخت سردی۔ گھنٹوں یہ ریاضت جاری رہتی۔ سانس کی مشقیں، میوزک تھیوری کی تعلیم، مختلف سازوں کے راز، مختلف راگوں کے انداز، مُرکیاں، پلٹے، تانیں، سب سکھائے جاتے۔ اور یہ تربیت زبردستی ہوا کرتی، کیوں کہ گھرانے کی ’’عظمت کا ایک بوجھ‘‘ تھا، جو ہر آئندہ نسل کو ڈھونا پڑتا۔

ظاہر ہے، جب اتنا ڈھیر سارا رگڑا کھانے کے بعد بچّہ بڑا ہوتا، تو سُر اُس کے انگ انگ سے پھوٹتا۔ اُستاد حامد کے بھائی استاد امانت علی و فتح علی خان، والد اُستاد اخترحسین خان، تایا اُستاد عاشق علی خان، دادا جرنیل علی بخش، اُن کے بھائی کرنل فتح علی خان، پر دادا میاں کالو جی اور اُن سے بھی قبل گائیکوں کا یہ سلسلہ برِعظیم کی موسیقی کا اوجِ کمال ہے۔ اُستاد بتاتے ہیں کہ بچپن ہی سے اُن کی میوزیکل تربیت بے حد سخت اور کٹھن تھی۔

ایک بارگیریژن آفیسرز میس میں ایک شامِ موسیقی کے بعد ہنس کر کہنے لگے۔ بچپن میں اندر سے خون کھول رہاہوتا تھا کہ یہ کیا مصیبت ہے، ہر وقت ریاض کرتے رہو۔ باہر ہمارے ہم عُمر بچّے بےفکری سے کھیل کود رہے ہوتے، ان کی آوازیں آتی تھیں اور اندر ہم سا رے گا ما پا کی چکّی میں پس رہے ہوتے۔ خدا کی پناہ کئی بار تو رات کو دو بجے جگا دیتے کہ اُٹھو ریاض کرو، سو کیوں رہے ہو؟ پھر ہوتے ہوتے پتاچلا کہ یہ تو بڑا تخلیقی کام ہے۔ اُسی لمحے دل میں میوزک کا اصل شوق پیدا ہوا۔

یہاں ایک اورقصّہ یاد آیا۔ کچھ ہی برس قبل اُردو زبان کی سب سے بڑی ویب سائٹ ’’ریختہ‘‘ نے برِعظیم پاک وہند کےصاحبانِ علم وفن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے انٹرویوز کا ایک سلسلہ ’’رُوبرُو‘‘ کے نام سے شروع کیا۔ پاکستان میں یہ انٹرویوز کرنے کے لیے یارِ دل پذیر سنجیو صراف بھائی اور شاعرِ دل نواز سالم سلیم بھائی نے قُرعہ ناچیز کے نام نکال دیا۔ سو، اسی حوالے سے مَیں نے اُستاد حامد کا انٹرویو کیا۔ وہ بھی وطین چوک میں اُنہی کے سجے سنورے گھر جا کر۔ گھر کیا ہے، پورا تان پُورہ ہے کہ جس کے درودیوار سے سُریلی تانیں پھوٹتی ہیں۔ اس گھر کی فضا میں کتنے اَن دیکھے ستار، کتنی غیرمرئی سارنگیاں اور رُباب بجتے ہیں۔

یہ بات کوئی اہلِ سماعت ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہ گھر پٹیالہ گھرانے کی عظیم تاریخ کی ایک دستاویز ہے۔ اس انٹریو کے دوران ایک بھرپور نشست رہی۔ خان صاحب نے بتایا کہ والد نے جو بھی سکھایا، مَیں اور اسد (یعنی اسد امانت علی خان) بہت جلدی جلدی سیکھ جاتے تھے۔ والد کو سر نہیں کھپانا پڑتا تھا۔ اپنے عہد کی موسیقی ریکارڈنگ کی بہترین کمپنی EMI میں نصرت صاحب نے اُنہیں بلوایا اور وہیں نُصرت کے بھائی فرخی صاحب (مدُھر گلوکارہ مہناز کے والد) بولے کہ دُھنیں مَیں بناؤں گا، گائیں گے آپ۔ ایسے میں انہوں نے چار دُھنیں بنائیں، جو مَیں نے فوری یاد کرلیں۔ دونوں بھائی اِس بات پر حیران بھی ہوئے اور خوش بھی کہ خان صاحب نے اس قدر چلت پھرت ہی میں دُھنیں یاد کرلیں، کوئی اور ہوتا تو بار بار اٹکتا۔

استاد حامد علی خان کہتے ہیں۔ جب بھی کسی کمپوزر کی دُھن سُنتا ہوں، تو سب سے پہلے یہ نوٹ کرتا ہوں کہ کہاں کہاں خاص جگہیں، ٹھکانے اور مقامات ہیں۔ کہاں سے سانس لیے بنا گزر جانا ہے، کہاں پل دو پل سستانا ہے۔ امریکا کے ٹور کے دوران ایک بار ہم نے اُستاد حامد سے پوچھا کہ یہ جو گھرانوں کے حوالے سے عمومی تاثر ہے کہ علم کے خزانے کو گھرانے سے باہر نہیں جانا چاہیے، یہ کہاں تک درست ہے؟ کہنے لگے۔ کسی حد تک درست ہے، کیوں کہ ہمارے گھرانے میں بعض ایسے واقعات ہوئے کہ شاگرد ہی اُستاد کے سامنے آن کھڑا ہوا۔

سو، گھرانے کو کہیں نہ کہیں تو اپنی ڈھال رکھنی ہی رکھنی تھی۔ بلی، شیر کی خالہ ہوتی ہے، اُسے حملے کے تمام پینترے ضرور سِکھا دیتی ہے، لیکن آخری گُر نہیں سکھاتی۔ البتہ عام سیکھنے والوں کے لیے ایسی کوئی بندش نہیں۔ ویسے شاگرد کے اُٹھنے بیٹھنے، بدن بولی اور رویے سے اس کی نیّت کا پتا چل جاتا ہے۔ ڈیلاس ہی میں مَیں نے اُن سے بھی یہ پوچھا کہ سُنا ہے پٹیالہ گھرانے کے بزرگ سونے، چاندی کے برتنوں میں کھانا کھایا کرتے تھے۔

خان صاحب نے اپنی سُریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ یہ افواہ نہیں، حقیقت ہے۔ دادا علی بخش کو اُس وقت کے راجوں مہاراجوں نےجنرل کا اعزازی ٹائٹل دے رکھا تھا کہ آپ موسیقی کے جنرل ہیں۔ وہیں سے سونے، چاندی کے برتن تحائف میں پیش کیے گئے، جن کے اندر کھانا کھانا یا پانی پینا گلے کے مُلائم، سُریلا رہنے کے لیے اہم تھا۔ مطلب، یہ دکھاوے کے لیے ہرگز نہیں تھا۔

مُحسن جعفر ہمارے عزیز دوست ہیں۔ وہ پی ٹی وی میں سینئر پروڈیوسر تھے اور اُن کا دفتر صاحبانِ کمال کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا۔ آپ جب بھی چکر لگا لیجے، ایک دو بڑے اداکار، ایک دو مدُھرگائیک، کوئی مصوّر، کوئی موسیقار لازمی موجود ہوگا اور کچھ نہ کچھ سُریلا یاکچھ شاعرانہ چل رہا ہوگا۔ چائے کی چُسکیاں، فن پرگپ شپ، تھوڑی بہت اندر کی بات وغیرہ۔ ہمارا وہاں آنا جانا تھا۔ ایک بار ہم پی ٹی وی کے مشہور ادبی پروگرام ’’رات گئے‘‘ کی ریکارڈنگ کے بعد مُحسن بھائی کے دفتر گئے، تو کیا دیکھا کہ اُستاد حامد وہاں براجمان ہیں اور چائے کے ساتھ قصّے کہانیاں اور لطیفے چل رہے ہیں۔ ہم بھی بیٹھ گئے۔ 

حامد اپنے بڑوں یعنی اُستاد سلامت علی خان اور اُستاد امانت علی خان کا ذکر کر رہے تھے۔ کہنے لگے۔ ’’یار! قصّہ تو مزے کا ہے۔ اُستاد سلامت کا ایک بازو ہلکا سا ٹیڑھا تھا۔ امانت علی خان اکثر اوقات رات بہت دیر سے گھر آتے اور وہ بھی حالتِ حال میں۔ اندرون لاہورمیں گھر تھا،شاہی قلعےکے عقب میں۔ جہاں آج کل فوڈ اسٹریٹ بنا رکھی ہے۔ تنگ گلیاں، رات کے ڈھائی تین بجے کا عالم۔ سُنسان ویران ماحول۔ اوپر سے امانت علی خان خمار میں۔ 

اس پر سلامت علی اُنہیں ڈانٹتے۔ ایک بار ڈانٹ زیادہ ہوگئی۔ ’’امانت علی! تُو کیا روز رات گئے ہوش گنواکے گھر آتا ہے، یہ آدھے بازوؤں والی بُوشرٹ پہن کے؟“ اس پرامانت علی خان نے اپنی پُر سرور آنکھیں اُٹھائیں اور کہنے لگے۔ ’’بھائی جان! مَیں تو جتنے بجے بھی آؤں، لیکن ایک بات طَے ہے۔ آپ کبھی آدھے بازوؤں والی شرٹ نہیں پہن سکتے۔‘‘ اس جُملے پر زوردار قہقہہ لگا اور ہم دیر تک سُرتال کے ان بادشاہوں کو یاد کرتے رہے کہ جن کا کھرج ہی سکون آور تھا۔ ایسے بڑے لوگ تھے کہ صرف ’’سا‘‘ کا بَھرا بَھرا الاپ کرتے تو ایک اکیلا سُر ہی سمپورن راگنی کی مانند پورے کمرے میں رچ بس جاتا۔

دو ہزار پچیس کی گرمیوں کا قصّہ بھی دل چسپ ہے۔ ہُوا یُوں کہ امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشن APPNA نے اپنے عظیم الشان سالانہ کنونشن کے مُشاعرے میں ہمیں بُلوایا۔ ڈیلاس کے بہترین سات ستارہ ہوٹل Hilton Anatole میں تین دن کا قیام تھا۔ برادرِ عزیز اور بھرپور شاعر ڈاکٹر جاوید اکبر اس مشاعرے کے ناظم اور خولہ بھابھی ناظمہ تھیں۔ اُستاد حامد شامِ موسیقی کے لیے مدعو تھے۔ اُس شام اُستاد کی پرفارمینس کچھ الگ، کچھ نرالی، کچھ پُراسرار تھی۔

بعد ازاں، ڈنرٹیبل پر ہم نے پوچھا تو کہنے لگے۔ ’’فارس بھائی! ہمیں دو طرح کے سامعین کو بیک وقت مطمئن کرنا پڑتا ہے۔ ایک وہ جو موسیقی جانتے ہیں اور کلاسیک بھی سُننا چاہتے ہیں۔ دوسرے وہ جو موسیقی نہیں جانتے اور محض تیز جھنکار اور دِھن دھنا دِھن طبلہ ہی سُننا چاہتے ہیں۔ سو، ہم دو الگ ٹریکس پر موسیقی کی گاڑی چلاتے ہیں تاکہ سامعین میں سے ہر کسی کو اُس کی دل چسپی کا کچھ نہ کچھ ضرور مل جائے۔ لاہور کا بھی ایک قصّہ دھیان میں دَر آیا۔

صباحت رفیق ہمارے شہر کی چند نہایت پڑھی لکھی اور شستہ بیان شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اُن کے سجے سجائے گھر میں علمی و ادبی محافل ہوتی ہیں، جس میں موسیقی جزوِ لازم ہے۔ وہیں ایک محفل کی ابتدا میں ہمیں بڑے ولولے کے ساتھ بطور شاعر اور بطور بیوروکریٹ متعارف کروایا گیا۔ خان صاحب اپنی تال کے جمال میں مگن اور اپنے سُر کے گُر میں جلوہ زن تھے ۔ ہم نے وہیں بیٹھے اُس ٹُھمری کے ماترے گننے کی کوشش کی۔ نہ تو وہ چلن چھے ماتروں یعنی دادرا کا تھا، نہ آٹھ ماتروں یعنی کیہروا کا۔

یہ دو تالیں، عموماً ہم جیسا مبتدی اوراتائی بھی گن لیتا ہے۔ ’’یا الہیٰ! اگر چھے بھی نہیں، آٹھ بھی نہیں تو پھر کیا ہے؟‘‘ ہم نے سوچا۔ سوچ کی اِسی اگلی ساعت میں ’’سَم‘‘ ایک دم ہمارے قابو آگیا اور ماترے گنے گئے کہ سات ہیں۔ ہم نے اُستاد حامد سے پوچھا کہ کیا سات ماترے ہیں؟ ایک دم ہارمونیم سے ہاتھ اُٹھا کرکہنے لگے۔ ’’صباحت تو کہہ رہی تھیں کہ آپ کمشنر ہیں۔‘‘ اس بات پر خُوب قہقہہ لگا اور بعد میں ڈنر پر اُستاد نے ہماری کام یاب گنتی پر مبارک باد بھی دی۔

اِسی طرح ایک بار اُستاد کے صاحب زادے نایاب علی خان سے ہم نے کہا کہ ’’ہارمونیم پر مندرا سپتک، مدھیہ سپتک اور تار سپتک تینوں کے تینوں Octaves پٹیالہ گھرانے کے گلوں کےغلام ہیں، کیوں کہ آپ ’’سی شارپ‘‘ سے ’’ای یا ایف Minor‘‘ تک ہر جگہ دندناتے پھرتے ہو اور ہر جگہ سامع کو لگتا ہے کہ بھیا! کیا سہولت سے گارہے ہیں۔‘‘ یہ بات سُن کر نایاب نے غور سے ہمارے چہرے کی طرف دیکھا اور کہنے لگے۔ ’’آپ کے استاد کون ہیں؟‘‘ ہم نے اہلِ میراث کا روایتی تعظیمی انداز اپنا کر یعنی کانوں کو ہاتھ لگا کے، زبان دانتوں تلےدباکرعرض کیا۔ ’’اُستاد بڑے یُو ٹیوب علی خان صاحب۔‘‘

ایک بہت پُراسرار افواہ پٹیالہ گھرانے کے بارے میں مشہور ہوئی تھی۔ سو، ایک شام ہم نے اُستاد سے اُس کا تذکرہ کر ہی دیا۔ سُنا تھا کہ ابنِ انشاء کی یادگار غزل ’’انشا جی اُٹھو، اب کُوچ کرو، اُس شہرمیں جی کولگاناکیا‘‘ پٹیالہ گھرانے کے لیے ایک curse بن گئی تھی۔ اس پر اُستاد حامد نے لمبی آہ بھرکرکہا۔ ایسا کچھ تھا ضرور۔ اُستاد امانت نے یہ غزل گائی تو اگلے جہان سُدھار لیے۔

اسد امانت نے گائی تو وہ بھی بچھڑ گئے، سو اب پٹیالہ گھرانے میں اس غزل کو گانے سے قبل باقاعدہ بڑوں کی اجازت اور پیشگی دُعا، دم درود لازم ٹھہرا ہے۔ صاحبو! سچ تو یہ ہے کہ اُستاد کے گھرانے میں علمِ موسیقی کی کہانی تھمی نہیں بلکہ جاری و ساری ہے۔ پٹیالہ ہر وقت سُرمنڈل پر سُروں کی نئی منڈلی جماتا رہتا ہے اور تان پُورے پر نئی تانیں پوری جان کے ساتھ اُٹھاتا رہتا ہے۔ اس کہانی کے تازہ ترین موڑکا نام ’’راگا بوائز‘‘ ہے، جو اُستاد حامد کے بیٹوں ولی، نایاب اور انعام پر مشتمل ہے۔ یہ لڑکے چاہے تیز دُھنیں گائیں یا Rock کی beats پر لوگوں کو رقص پر مجبور کر دیں، ان کے کھرج میں پٹیالہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

اُستاد کا کیرئیر اپنے اندر کئی کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔ ستارۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمینس کے ساتھ ساتھ کروڑوں دِلوں میں گھر کر لینا اُستاد کے اعزازات ہیں۔ غزل ہو، ٹُھمری ہو یا خیال کی گائیکی، جائے اُستاد خالی است۔ آج بھی اُردو موسیقی سُننے والا کوئی شخص اُداس ہو تو وہ اُستاد حامد علی خان کی آواز میں غزلیں سُن کر اپنی اُداسی اِن کے تان پورے اور سُرمنڈل سے بانٹ لیتا ہے۔ 

طبلے کی ترکٹ چاہے ایک تال میں ہو یا تین تال میں، رُوپک میں ہو یا جھپ تال میں، کیہروا میں ہو یا دادرا میں، اُستاد کا گَلا کبھی سامعین کوگِلا نہیں کرنے دیتا، ہمیشہ نہال کرکے بھیجتا ہے۔ سارنگی کے سارے رنگ بولنے لگتے ہیں کہ پٹیالہ کا جادو پلٹ پلٹ کرآتا ہے۔ اگلی بار آپ اُستاد حامد کو سُن کر سر دُھن رہے ہوں تو سوچیے گا ضرور کہ جس سُر نے آپ کے دل میں گھر کرلیا اُس کا سفر ڈیڑھ صدی سے بھی زیادہ قدیم اور اَن گنت ریاضتوں کے سمندر پار کرکے آپ کی دل پذیر سماعت تک پہنچا ہے۔ (خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید