• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی دس بارہ برس پہلے کی کہانی ہے یہ۔ دن تھے گرمیوں کے، ٹرین کا نام تھا ’’شتابدی‘‘ اور وہ جارہی تھی دِلّی سے ممبئی۔ ہم ایک نئے نئے شاعر کے طور پر بھارت بُلوائے گئے تھے اور شہر شہر، بستی بستی مشاعرے پڑھتے اور لُوٹتے پِھر رہے تھے۔ تب حالات بھی بہتر تھے اور ہواؤں، گھٹاؤں، پرندوں، بادلوں اور خوابوں کے ساتھ ساتھ شاعروں کو بھی سرحدوں پر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سےاِدھر آنے جانے کی آزادی تھی۔ خوش قسمتی دیکھیے کہ اولین انٹرنیشنل اسفار ہی میں ہمیں بڑوں کاساتھ میسّر آگیا۔

چاہے وہ امریکا ہو یا یورپ، مڈل ایسٹ ہو یا بھارت، ربِ تخلیق نے ہمیں اپنے عہد کے بڑے بڑے ناموں کےساتھ سفر کا موقع دیا۔ موجودہ سفر میں کشور ناہید (کہ جنہیں ہم لاڈ دُلار میں کشور آپا کہتےہیں) ہمارے مشاعراتی دورے کی سربراہ تھیں۔ بھارت ہمارے لیے میروغالب کی پُراسرار سرزمین تھی، دِلّی ولکھنؤ کی دھرتی۔ شام ڈھلے چھک چھک کرتی ٹرین پوری رفتار سے دِلّی کے مضافات سے گزر رہی تھی۔ 

ہمیں باہر کا ہر منظر دیکھ کر جھٹ یہی خیال آتا کہ ممکن ہے بھیا! کئی سو سال پہلے خدائے سخن میریہاں سے گزرے ہوں یا اپنے مرزا نوشہ(چچا غالب) نے یہیں کہیں کسی سرائے میں قیام بسرام کیا ہو۔ ٹرین کی وی آئی پی کوچ میں ہماری نشستوں سے کافی پیچھےنوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک ٹولی بلند آواز میں گیت گارہی تھی۔’’یہ دنیا، یہ دنیا پِتل دی، تے بےبی ڈول مَیں سونے دی۔‘‘ 

کشور آپا نے کھڑکی سے باہر جھانکنا بند کیا اور وی آئی پی کوچ کی جلتی بجھتی روشنیوں میں مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ ’’یہ کیا گا رہے ہیں؟‘‘’’فلمی گانا ہے آپا۔‘‘ مَیں نے مُسکرا کر کہا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے، مگر سُر میں تو گائیں۔ یہ کیا گارہے ہیں۔‘‘

یہ کہہ کر کشور آپا نے ماتھے پر آنے والی باریک سی شکن کو ہم وار کیا اور دوبارہ باہر جھانکنے لگیں۔ یہ تھیں کشور ناہید۔ عصرِحاضرکےادب کی ایک بہت معتبر اور توانا نسائی آواز۔ ہم نے سفر کے آغاز ہی میں یہ تہیہ کرلیاتھا کہ اِن کے فن اور شخصیت کو کھوجنے کی کوشش کریں گے۔ سو، کچھ یادیں پیش کیے دیتے ہیں۔

کشورآپا کا رنگ ڈھنگ الگ اور برتاؤ انوکھا، نرالا ہے۔ پہلے پہل ملنے والے تو شاید اُنہیں نک چڑھی سمجھنےکی غلطی کربیٹھیں۔ہمارے ساتھ اُن کا برتاؤ ہمیشہ ایک مُشفق ومہرباں ماں جیسا رہا ہے۔ بھارتی مشاعروں کے دوران انہوں نے صبح و شام بار بار بڑی فکرمندی سے کھانے کا پوچھا۔’’فارس! تُم نے کھانا ٹھیک سے کھایا ؟‘‘ یاد پڑتا ہے، ممبئی سے دِلّی واپسی کی فلائٹ صبح نو بجے کی تھی۔ فلم فئیر کا مشاعرہ تھا جس میں امیتابھ بچن، نصیرالدین شاہ، تبّو اور زینت امان سمیت بہت سے معروف لوگ ہال میں موجود تھے۔ مشاعرہ ختم ہوا اور کشور آپا کی نصیحتیں شروع۔ 

’’فارس! کل صُبح فلائٹ بہت جلدی ہے۔ آرام کرلینا۔ رات بھر دِلّی کے گلی کُوچوں میں جھک مت مارتے پھرنا۔‘‘ اگرچہ ہم بخوبی جانتے تھے کہ میرہم جیسوں کو کیا دعوت نامہ دے گئے ہیں ؎ دِلّی کے نہ تھے کُوچے،اوراقِ مُصوّر تھے…جو شکل نظر آئی، تصویرنظرآئی۔ بہرحال، کشور آپا کی نصیحت سے ڈرکر کمرے ہی میں دُبکے رہے۔ علی الصباح کوئی ڈھائی تین بجے کا وقت ہوگا کہ کسی نے دھڑ دھڑ دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔ ساتھ میں آوازیں۔ پتا چلا، آپا نیند سے بےدار کرنے آئی ہیں کہ ’’اُٹھو… ارے اُٹھ بھی جاؤ، پیکنگ کب کروگے؟‘‘ ”ارے بھئی‘‘، ہم نے سوچا۔ ’’ابھی تو بہت وقت باقی ہے۔‘‘

مگر مجال ہے، اُس کے بعد آپا نے ہمیں جھپک بَھر پلک موندنے کی اجازت دی ہو۔ جگایا، پیکنگ کروائی، سامان ہوٹل کی لابی میں شفٹ کروایا۔ صُبح کے ساڑھے تین چار بجے ہم ہوٹل کی لابی میں ناشتے کے لیے موجود تھے۔ باوردی بیرےالگ گھور رہے تھے۔ پھر ہوٹل مینجر نے انہیں بتایا۔’’پاکستان سے شاعر آئے ہیں‘‘ تو یہ سُن کر اُنہوں نے خُوب خدمت کی۔ ہمارے میزبان کنور رنجیت سنگھ چوہان بھارت میں مشاعروں کے بہت بڑے منتظم ہیں اور اُن کی تنظیم ’’جشنِ ادب‘‘ نےخُوب رونق لگا رکھی ہے۔

معروف شاعر خوشبیر سنگھ شاد بھی اس رونق میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ کشور آپا اپنے پیار دُلار میں اُنہیں بھی ڈانٹ دیا کرتی تھیں کہ ’’چُپ رہو، صاحب زادے!‘‘ اصل میں کشور آپا کی ڈانٹ ڈپٹ بھی دلبرانہ ہی ہوتی ہے اور مشاعروں میں اُن کا رُوپ بہت ہی نرالا۔ سہج سہج پڑھی جانے والی اُن کی نظمیں، غزلیں سامعین کے دِلوں میں خُوب گھر کرتی ہیں۔

ہماری پوسٹنگ 2016ء میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز، اسلام آباد میں ہوئی تو کشور آپا کے ہاں تواتر سے حاضری ہوئی۔ اسلام آباد ہی میں واقع اُن کا دفتر بھی خُوب ہے، مگر گھر (فلیٹ) اس قدر ذوق وشوق سے سجایا گیا ہے کہ ہم جیسے آرٹ کے عاشقین کے لیے کسی طلسم کدے سے کم نہیں۔ مان لیجے، پورا گھر کشور سے بھرا ہے۔ کہیں اُن کی تصویر، کہیں اُن کی تحریر، کہیں اُن کا انداز، کہیں اُن کی آواز اور کہیں وہ خُود۔ دروازے کےباہر ہی باریک ملتانی کشیدہ کاری سے لب ریز ایک رنگارنگ پارچہ آپ کوخوش آمدید کہتا ہے۔ اِدھر دیکھیے تو فیض و فراز وافتخار کے ساتھ کشور کی گروپ فوٹو دمک رہی ہے، جس میں سب باجماعت مُسکرا رہے ہیں۔

اُدھر نگاہ کیجے، تو چُغتائی کے ہاتھ سے بنا کشور کا پورٹریٹ کہ جس کا ایک ایک اسٹروک نظر کو اُچک لیتا ہے۔ بائیں جھانکو توصادقین کا کوئی فن پارہ، دائیں دیکھو تو کشور کوملنے والا کوئی اعزاز، کوئی ستارہ۔ دیواریں مصوری کے فن پاروں، علاقائی ہُنر کےشہ کاروں اور تصاویر میں محفوظ عہدِ گزشتہ کےشاعروں، دل داروں سے ایسی سجی سنوری ہیں کہ خود دیواریں نظر ہی نہیں آتیں۔ ڈرائینگ رُوم کا فرنیچر بھی کشور ہی کی مانند،اپنی مثال آپ ہے۔

ایش ٹرے سےلے کر ٹشوپیپر کے ڈبے تک آپ کو سبھی کچھ شاعرانہ ملے گا۔ ہمیں تو لگتا ہے، کشور ناہید کا گھربھی غزلیں کہتا ہے۔ ڈائننگ ٹیبل ہے تو مُنا سا مگر اپنی مالکن کے دل کی طرح وسیع اور کشادہ۔ ہمہ وقت مہمانوں کی میزبانی پر آمادہ۔ دستر خوان ایسا ہفت خوان کہ ذائقے قطار میں لگے انتظار کرتے ہیں کہ اُنہیں چکھا جائے۔ اُن کا باورچی، اُن کا مزاج بخوبی جانتا ہے۔ وقت پرکھانا دیتا ہے، کیوں کہ جب تک ’’ڈھل چُکے شام، بکھرنے لگے تاروں کا غبار، لڑکھڑانے لگیں ایوانوں میں خوابیدہ چراغ‘‘ تب تک وہ رات کا کھانا نہیں کھاتیں۔

تبھی ہم نےدیکھا، اُن کےگھر برپا ہرایک محفل میں چند بےتکلف دوستوں کی ون ڈش ذمّے داری بھی لگا کرتی تھی۔ مثلاً آج شام پارٹی ہے تو پیغام ملا کہ کشور آپا کے ہاں نہایت لذیذ بھنڈی گوشت بنا ہے، ساتھ میں اُلٹے توے سے سیدھی اُترتی گرما گرم ہلکی ہلکی پُھلکیاں کہ پانچ سات بھی کھاجاؤ تو خبرنہ ہو۔ اور دیکھیے بھئی، کشورآپا کا فون آیا ہے۔ ’’کیا نام تمہارا، شبنم! فلاں ڈش تم بنا کر لاؤ گی، اچھا؟ شکیل! تم فلاں چیز لاؤ گے۔

دیکھو بھول مت جانا، ورنہ شام بےکیف گزرے گی۔‘‘ (یہاں شبنم سے مُراد شبنم شکیل شاعرہ نہیں بلکہ شکیل جاذب کی زوجہ محترمہ اور ہماری بڑی بہن شبنم بھابھی ہیں، جو کسی بھی شاعرہ سے زیادہ دبنگ ہیں) اُدھر فون گیا حارث خلیق کو کہ ’’پیارے! وقت پر پہنچ جائیو، دیر مت کیجو اور دُلہن سے کہیو کہ فُلاں ڈش بنا کر لائے۔‘‘ باقی بچے ہم یعنی رحمان فارس تو بھئی، ہم تواسلام آباد میں اکیلے رہتےتھے،بیگم بچّےلاہور میں تھے۔ سو، کشور آپا کمال مہربانی سے ہمیں ’’چھڑا چھانٹ‘‘سمجھ کر ون ڈش کی ذمّے داری سے بری کردیا کرتی تھیں۔

ہماری ذمّےداری فقط کھانا پینا اور شاعری سُننا سُنانا ہوا کرتی تھی۔ ان محافل میں لاہور سے عباس تابش اور راول پنڈی سے حمید شاہد، محبوب ظفر بھی ہوا کرتے تھے۔ لو جی، اسلام آباد کے دو تین چیدہ چُنیدہ دوست مزید آئے۔ مان لیجے، مشاعرے کا مشاعرہ ہوگیا، ڈنر کا ڈنر۔ شام بھیگی تو موسیقی بھی چلی، ہاؤ ہُو بھی۔ جیسا کہ ہم نےشروع میں بتایا۔ کشورآپا کو بھارت میں بہت چاہا، سراہا جاتا ہے۔ اُسی دور کی بات ہے۔

ایک بار بھارت سے کچھ شعرا مشاعرے کے لیے پاکستان آئے۔ کشور آپا کے ہاں محفل جمی تو انڈین ہائی کمشنر بھی موجود تھے۔ کسی نے رائے پیش کی کہ کشور آپا کے فن اورشخصیت کے اعزاز میں بھارت میں ایک جشن ہوناچاہیے۔ یار لوگوں نے خیال آرائی شروع کی۔ جشن کے خدوخال سنورنکھر کر سامنے آنے لگے۔ ماحول بنا ہوا تھا۔ انڈین ہائی کمشنر بولے۔ ’’آپا کاجشن بھارت میں ضرور ہوگا۔‘‘ ناچیز نے ترنگ میں آکر عرض کیا۔ ’’اور آپا کے جشن کا نام جشنِ آپا دھاپی ہوگا۔‘‘ 

پہلے لمحے میں تو بےساختہ قہقہہ لگا۔ عباس تابش ہنسے، شکیل جاذب، حارث خلیق ہنسے۔ اِسی ترتیب میں بھابھیاں ہنسیں۔ دیوار پر لگی چغتائی کی بنی پورٹریٹ ہنسی۔ لیکن ہنسی کے ان ابتدائی ایک دو لمحوں کےبعد سناٹا چھا گیا۔ فضا میں محض ایک گونج رہ گئی۔ ’’جشنِ آپا دھاپی۔‘‘ کشور آپا ڈائننگ ٹیبل پر میرے ساتھ ہی تھیں۔ اُن کے چہرے پر ایک دم غصّہ نمودار ہوا اور اُنہوں نے میرے آگے سے بھنڈی گوشت کی پلیٹ پرے کھسکا لی۔ کہنے لگیں۔’’چل بیٹا! بھنڈی چھوڑ۔ تُو تو نکل لے۔‘‘اورخاموشی ایک بار پھر قہقہوں میں بدل گئی۔

کشورناہید کی زندگی کسی کہانی کی طرح حیران کُن ہے۔ بلند شہر، اُتر پردیش میں 1940ء میں پیدا ہوئیں۔ خُود بتاتی ہیں کہ بچپن، لڑکپن ہی میں اُنہیں وہ لڑکیاں بہت بھایا کرتی تھیں، جو کالے بُرقعے تلے سفید کُرتا اور سفید ہی غرارہ پہنےعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی پڑھنے جایا کرتی تھیں۔

وہیں سے کشور کو بھی پڑھنے لکھنےکا شوق پیدا ہوا۔ اُردو میں ادیب فاضل کرلیا، فارسی بھی سیکھ بیٹھیں۔ لڑکپن ہی میں سارا قومی و بین الاقوامی ادب کھنگال ڈالا، یہاں تک کہ نول کشور پریس سے چھپنے والی انگریزی لُغت تک نہ چھوڑی۔درجن بھر شاعری کی کتابیں چھاپ چکی ہیں۔’’لبِ گویا‘‘ہو یا ’’ورق ورق آئینہ‘‘، ’’آباد خرابہ‘‘ ہو یا ’’دشتِ قیس میں لیلیٰ‘‘(کلیات)”یا اُن کی مشہور ترین سوانح عُمری ’’ایک بُری عورت کی کتھا‘‘، کشور آپا نے جو لکھا، جی جان سے لکھا۔ 

اُن کی ایک نظم ’’ہم گنہگار عورتیں‘‘ بین الاقوامی سطح پرجانی پہچانی اور مانی گئی۔ اُنیس سو اڑسٹھ میں آدم جی ادبی ایوارڈ، انیس سو ستانوے میں مینڈیلا پرائز، دو ہزار پندرہ میں کمالِ فن ایوارڈ اور دو ہزاربیس میں ستارۂ امتیاز مِل چُکا ہے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل رہیں۔ بچّوں کےلیےبھی آٹھ کتابیں لکھیں۔

سو، یونیسکو نےاُنہیں بچّوں کے ادب پر ایوارڈ دیا۔ ایک شان دارادبی مجّلے ’’ماہِ نَو‘‘ کی ادارت بھی کی اور ’’حوّا‘‘ کے نام سے ایک ادارے کی بُنیاد بھی رکھی، جس کا مقصد ہینڈی کرافٹس کےذریعے عورتوں کومعاشی لحاظ سے خُود مختار بنانا ہے۔ اڑتیس سال سرکار کی نوکری کی۔ بندہ پوچھےکہ کشورآپا! آپ نے اتنی چھوٹی سی عُمر میں اتنا سب کچھ کیسے کرلیا؟ یقیناً پہلے ہنسیں گی، پھر جھوٹ مُوٹ ڈانٹیں گی۔ ’’بک بک نہ کرو۔

ابھی بہت کچھ باقی ہے کرنے کو۔‘‘آپاآسٹریلیا میں تھیں، جب چاروں طرف پانی دیکھ کریہ من موہنا مطلع کہا کہ؎ مِری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے… یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے۔ اُن کا دل کبھی کاغذ چُننے والی عورتوں کو دیکھ کر، کبھی کوڑے کرکٹ میں سے گلے سڑے پھل تلاش کرکے کھانے والوں کو دیکھ کر اور کبھی ملالہ یوسف زئی پرحملے کے بعد نظم کہتا ہے۔ ؎ ’’وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے۔‘‘

کشورناہید پہلی دفعہ ریڈیو پاکستان گئیں تو فرسٹ ائیر میں تھیں۔ پھر تو چل سو چل تھا۔ سن چونسٹھ تک آتےآتے ریڈیو پر ڈھیروں انٹرویوز کیے، جن میں سب ہی بڑے نام شامل تھے۔ ایک بار ملاقات میں بتایا کہ’’جب مَیں علی گڑھ گئی تو آل احمد سرور نے کہا کہ تمہارے سب پروگرام ہم نے اپنے کورس میں شامل کرلیے ہیں۔‘‘

ایک صبح کشور نیند سے بےدار ہوئیں تو کسی بے نام، اَن دیکھی، اَن سُنی کیفیت میں ایک شعر کہا؎ اپنی بے چہرگی چھپانے کو…آئنے کو اِدھر اُدھر رکھا۔ مگروہ اس بے چہرگی میں بھی چہرہ تلاشنے کا ہُنرجانتی ہیں۔ ان کے سب بھائی علی گڑھ یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے۔ بتاتی ہیں کہ اُن کی امّاں نے خاندان میں کھڑے ہوکر کہاکہ ہماری بچیاں بھی پڑھیں گی۔

نانا مجسٹریٹ تھے۔ ایک موقعے پر جب امّاں اور نانا نے کہا کہ میٹرک کے بعد نہیں پڑھنا تو کشور بولیں۔ ’’یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ سو، رو دھوکرکالج میں داخلہ لینےکی اجازت لی۔ اور یہی وہ دروازہ تھا، جو اُن پرکُھلا، تو آگے شاعری کا میدان، تقریری مقابلے تھے، فیض سے ملاقاتوں کا فیض، فراز سے دوستی کے نشیب و فراز اور صوفی تبسم سے ملنے والا زیرِلب تبسم تھا۔ بتاتی ہیں کہ بہن بھائیوں میں درمیانی بہن تھی، مگر گڑیا گڑیا نہیں کھیلی۔ 

تینوں بہن بھائی مِل جُل کر گُڈیاں اُڑاتے یا گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ کشور نے اپنے بال خُود ہی کاٹ کے لڑکپن ہی سے وہ من موہنا ہئیرکٹ بنالیا تھا، جو آج تک اُن کا انداز ہے۔ اُن کے دل میں اُن دنوں کی یادیں بھی تازہ ہیں، جب گھر گھر بیت بازی ہوا کرتی تھی۔ بچے تعلیمی تاش کھیلتے تھے۔ ٹی وی ڈرامے یادگار تھے۔ وہیں کہیں ناہید صدیقی کو مہاراج کتھک رقص سکھاتے تھے، وہ تھک جاتی تو مکھن کا پیڑا کھلاتے تھے تاکہ انرجی بحال ہو۔

کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کلب میں مرحوم امجد اسلام امجد کی بیٹی روشین عاقب نے ایک شان دار مشاعرے کا اہتمام کیا۔ کشور آپا کا ہاتھ تھامے اُنہیں اسٹیج کی طرف لے جاتے ہوئے مَیں نے کہا کہ ’’آپا! مطلع تو آپ کا یُوں ہے کہ؎ کچھ یوں بھی زرد زرد سی ناہید آج تھی… کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کِھلتا ہُوا نہ تھا۔ لیکن آج تو آپ زرد زرد نہیں، ماشااللہ سُرخ سُرخ لگ رہی ہیں اور اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا سا ہے۔‘‘ بہت خوش ہوئیں۔ پھر ساقی فاروقی کی طرح اِترا کر کہنے لگیں۔’’چل ہٹ بدمعاش۔‘‘

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کہانی تو چلتی رہتی ہے۔ کہانی تو چلتی رہے گی۔ موسم آئیں گے، جائیں گے اور ’’بُری عورت کی کتھا‘‘ لکھنے والی اچھی بلکہ بہت اچھی عورت یعنی ہم سب کی کشور آپا گہری غزلیں کہتی رہے گی، عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتی رہے گی، ہم سب کو فیض و فراز اور صوفی تبسم اور یوسف کامران اور ناصر کاظمی کی کہانیاں سُناتی رہے گی۔

پاکستان کے کسی مُنے سے دیہات کی کسی تنگ سی گلی کے کسی چھوٹے سے کچے گھر میں کتابیں پڑھنے کی شوقین ایک دس بارہ سالہ لڑکی کشورکا مصرع پڑھے گی اور اپنے بابا کے پاس جاکر کہے گی۔ ’’بابا! مجھے بڑے ہوکر کشور ناہید بننا ہے۔‘‘

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید