• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذرا، سیاسی قیادت سے دلچسپی یا عدم دلچسپی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاست پر غور کرنے اور محبت جتانے کی بات کرتے ہیں جس کی گود ہمارے لئے شجر سایہ دار اور ممتا ہے۔استحکام پاکستان کیلئے ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر اے کیو خان نے جو کردار ادا کیا اس کا ثمر ہے کہ بڑی عالمی طاقتوں کو جہاں ہم پر غصہ رہتا ہے وہاں پیار جتلائے اور ہمیں اہم سمجھے بغیر ان کا گزارا بھی نہیں! امتِ مسلمہ کا اتفاق اور کمزوریاں جیسی بھی ہوں اور جو بھی مرضی انہیں پاکستان سا رہنما نظر نہیں آتا ہے، پاکستان اپنے قیام سے تاحال اعصابی جنگوں، بقا کی امنگوں اور کامران ترنگوں میں گھرا ہوا متوازن راستوں کا مسافر ہے۔ جب کبھی حالات و واقعات یا پڑوسیوں نے محبت یا جنگ کیلئے دستک دی پاکستان نے ان کی منشا کو مدنظر رکھتے ہوئے دو دو ہاتھ کئے یا دلبری کو تقویت بخشی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد آمر صدر ضیاء الحق نے بھٹو دشمنی میں جتنی بھی حدود پار کیں لیکن وطن دوستی کا وہ پہلو جو سرحدوں کی حفاظت سے جُڑا تھا یا وہ تسلسل جو بھٹو کے ایٹمی بم کی بنیاد رکھنے سے متعلقہ تھا ، اس سے لمحہ بھر بھی غفلت نہیں کی۔

دو چار باتیں اہم اور قابل ذکر ہیں، جب کبھی امریکہ کو اپنے تئیں یا اسرائیل کے باور کرانے پر پاک ایٹم بم کے مروڑ اٹھتے تو ضیاء الحق’ افعانستان کارڈ‘ کو پوری چابکدستی سے کھیل جاتے گویا دنیا کی توجہ ہٹاکر بھٹو کا مشن جاری رکھا۔ کبھی سفارتی سودے بازی کا موقع آیا تو امریکی صدر جمی کارٹر کی چار سو ملین ڈالر کی امداد کو مونگ پھلی قرار دے کر مسترد کر دیا مگر صدر ریگن کی اربوں ڈالر کی کثیر معاشی اور دفاعی امداد کو بسم اللہ کہا۔ ایف 16 طیارے بھی حاصل کئے۔ بیک وقت یو ایس ایس آر اور امریکہ سے افغان جنگ اور سرد جنگ میں گرم جنگ سے ڈپلومیسی محاذ تک پر پوری مہارت کو بروئے کار لایا گیا۔ 1987ءمیں راجیو گاندھی کی فوج بارڈرز پر منڈلائی تو ’کرکٹ ڈپلومیسی سے کان اور کام کی سرگوشی‘ کو استعمال میں لاکر خاموشی سے ایٹم بم کی تیاری کو آگے بڑھاتے رہے! ... اور سفارت کاری کیا ہوتی ہے؟ بینظیر بھٹو نے باپ کی لیگیسی میں ایٹم کے معیار اور افتخار پر کوئی کمپرومائز نہ کیا، 16 نومبر 1988ءمیں جیت کے باوجود 2 دسمبر کو 20دن کی تاخیر سے حلف ہوا۔ بی بی نےوزارتِ عظمیٰ کی منتقلی میں دیر کو تحمل سے دیکھا اور تدبر سے جانچتے ہوئے استحکام پاکستان کیلئے اس وقت کے آٹھویں ترمیم کے امین صدر غلام اسحاق خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل ہی کو نہیں پہلے سو دن میں جلال آباد آپریشن کی ناکامی کو بھی برداشت کیا، آئی جے آئی اور مقتدر کی تحریک عدم اعتماد کو بھی ناکام بنایا، اس ایٹمی پراجیکٹ سے دوری پر رکھنے کو بھی صبر سے برداشت کیاجسکےبانی اسکے باپ تھے لیکن مسلسل پاکستان کی استقامت اور بارآور سفارتکاری پر سوچنا نہیں چھوڑا، لیکن، مخالفین بھی بہرحال حب الوطنی کی بنیادوں پر تھے۔ بےنظیر بھٹو کس قدر جاندار اور شاندار تھیں اسکا ثبوت اس تناظر میں اقوام عالم اور ناقدین کو دوسرے دور اقتدار میں ملا۔

اب مقتدرہ اور وزیراعظم ایک صفحہ پر تھے، یوں کہ 2دسمبر 1993ء کا شمالی کوریا کا بےنظیر دورہ بھارتی پرتھوی میزائل کے مقابلے میں غوری میزائل کی تیاری کا ایک تاریخی، سفارتی ، جنگی حکمت عملی کی کامرانی کا ایک سنہری باب گردانا جاتا ہے۔ بی بی نے اپنا گلوبل امیج استعمال کیا۔ واضح رہے پاکستان کے پاس ایٹم بم تو آگیا مگر اسے گرانے کیلئے ایف 16 طیاروں کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ پس میزائل سازی لازمی تھی۔ پرتھوی پاکستان کے بڑے شہروں کو نشانہ بنا سکتا تھا، اور ہمارے پاس صرف فضا سے ایٹمی مواد گرانے کی آپشن تھی... اور میزائل رسائی فوج کیلئے مشکل تھی، یوں میزائل کی عدم دستیابی سے بھارتی ریس میں ہم پیچھے تھے۔بی بی کے حوالے سے یہ تاثر تھا کہ وہ مغرب کی دلدادہ ہیں اور مغرب ان کا لیکن بےنظیر سفارتکاری و سیاست کاری و حفاظتی کلاکاری نے ثابت کیا تھا کہ ملکی استقامت میں بی بی مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتی ہیں اور مقتدرہ سے مل کر کمال کر سکتی ہیں...پھر ، جب نواز شریف کا دوسرا دور اقتدار تھا تب انہوں نے معیشت کو نظر انداز کر کے حفاظت کو ترجیح دی، امریکی صدر کلنٹن کے معاشی پیکیج اور سفارتی دباؤ کے برعکس پاک حفاظت سفارت کاری اور جرات مندانہ فیصلے کو تقویت بخشی اور دھماکوں کے یوم تکبیر کیلئے چاغی کا انتخاب کر کے جوہری پاکستان کا اعلان کردیا۔ میاں صاحب نے کہہ دیا تھا میرا ملک اس وقت معاشی وفا کا نہیں بقا کا متلاشی ہے۔ بھارتی 11مئی1998 کے دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کے دھماکوں سے قبل رپورٹس تھیں کی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کےآرایل (کہوٹہ) پر حملہ کرنےکے درپےہے۔ پس پاک فوج ہائی الرٹ ہوگئی، اور اس میزائل ٹیکنالوجی کو الرٹ کر دیا جو بےنظیربھٹو کا تدبر، مشقت،اور عزم تھا۔ بہرحال ہائی الرٹ کا پیغام بذریعہ امریکہ بھارت و اسرائیل کو پہنچا دیا گیا کہ اگر حملہ ہوا تو میزائل آپ کا منہ توڑنے کیلئے نصب کئے جا چکے ہیں!واضح رہے1967 میں اردن اسرائیل معرکہ میں پاکستانی ہوا باز سیف الاعظم اور 1974 میں شام اسرائیل تنازع میں ستار علوی اور عارف منظور جیسے پاکستانی بہادروں کو اسرائیل دیکھ چکا تھا کہ وہ کیسے جہاز اڑاتے اور گراتے ہیں۔ دنیا میں اسرائیل کو کسی کا خوف ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اور یہ کوئی محض جذباتی یا نفسیاتی خوف نہیں پاکستان کا مہارتی، سفارتی، تکنیکی اور جنگی خوف ہے جس کا ایک تسلسل اور تدبر پورے عالم کو ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی فراست کا فراہم کردہ ہے۔ اس سے امریکہ و برطانیہ ، فرانس اور روس آشنا ہیں، اور چین جانتا ہے۔ قسمت اور عالمی طاقتیں زیرک بہادروں کا ساتھ دیتی ہیں جنہیں سفارتی راستوں اور جنگی مہارتوں کا ادراک ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ بلاوجہ پاکستان کی تعریفیں نہیں کرتا، وہ جانتا ہےکہ پاکستان لبنان کی طرح تقسیم ہے نہ ایرانی طرز سفارتکار، اور عالم کو معلوم کہ 1948 ہو یا 1965 پاکستان ایک ذہین جنگجو اور غیرجذباتی سفارتکاری کا حامل ہے۔1971میں پاکستان کی جنگ صرف بھارت سے نہیں سوویت یونین سے بھی تھی جس میں عین نازک موڑ پر امریکہ نے منہ موڑا۔ سو ملائشیا و ترکی ، ایران و مصر تک کو ’پاک تسلسل‘ اور عزم سے سیکھنا ہوگا جیسے طاقتوں نے سمجھا اور پاکستانیوں کو ریاست سے مزید جُڑنا ہوگا!

تازہ ترین