• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

جزئیات پر باریک بینی سے کام

جس طرح ہم بچپن میں بچّوں کے سالانہ رسالوں کابڑی ہی بےچینی سے انتظار کیا کرتے تھے، اِسی طرح میگزین کے ’’سالِ نو ایڈیشن‘‘ کا بھی بہت شدت سے انتظار ہوتا ہے، اور آج وہ ہاتھوں میں ہے۔ شروع ’’حرفِ آغاز‘‘ سے کیا۔ کیا ہی کمال تحریر آپ نے عنایت فرمائی۔ بخدا ہم نے ’’حرفِ آغاز‘‘ دو مرتبہ پڑھا۔ ویسے ایڈیشن کی لگ بھگ تمام ہی نگارشات کا جواب نہ تھا۔ 

اِس بار بہت ہی اچھے، عُمدہ، معلوماتی مضامین پڑھنے کو ملے اور’’آپ کا صفحہ‘‘ میں تو جیسے آپ نے ایک امتحانی پیپر حل کیا، بھرپور محنت واضح نظر آرہی تھی۔ اس طرح جزئیات پر اتنی باریک بینی سے کام، آپ اور آپ کے اسٹاف ہی کا خاصّہ ہے۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ ( رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: آپ کا تہہ دل سے شکریہ۔ درحقیقت، آپ لوگوں کی یہ حوصلہ افزائی ہی ایڑ لگاتی ہے، وگرنہ اور تو کوئی خاص motivation رہ نہیں گئی ہے۔

ایک ماہ سے کوشش، مصروفِ عمل

ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی اسلامی تاریخ اور علومِ اسلامیہ پر اچھی خاصی دسترس ہے۔ ماشاء اللہ، سیرت النبیﷺ اور تعلیماتِ نبویؐ کے حوالے سے اُن کا قسط وار مضمون ہمارے گھر میں انتہائی ذوق و شوق سے پڑھا گیا اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ اہم نکات پر گفتگو بھی ہوئی۔ سیرت النبیؐ کو ہمارے قومی نصاب کا لازمی حصّہ ہونا چاہیے۔

آپؐ کی شخصیت اس قدر جامع، مکمل، ارفع، اعلیٰ، منزّہ، مقدّس، محترم و مکرم ہے کہ اُس کی مدح و ستائش سے قلم عاجز، ذہن عاری ہے، زبان حق ادا نہیں کر سکتی، لیکن اصل حق اورمقصد یہ ہے کہ اُسے اپنایا جائے۔ منور مرزا کا مقالہ ’’بے لگام سوشل میڈیا کے بچّوں، نوجوانوں پر بھیانک اثرات‘‘ وقت کی آواز ہے۔ 

اہلِ مغرب میں بھی بچّوں میں سوشل میڈیا کے بےجا، بےدریغ استعمال پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہمارے یہاں کیبل نیٹ ورک کے مضر اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ سوشل میڈیا نے آکر تباہی مچا دی اور اس کے تیز و تُند سیلاب کے آگے بند باندھنا تو بہت ہی مشکل ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر معین نواز نے افراطِ زر اور روپے کی قدر کے موضوع پر اچھا مضمون تحریر کیا۔ شہرِ لاہور کو کالجوں، باغوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے لاہور کے سحر میں گرفتارشخص کولاہورکم ہی چھوڑتا ہے۔ ڈاکٹر محمّد عاصم کے مضمون ’’مسکراہٹ کے دشمن، ٹیڑھےمیڑھے دانت‘‘ پڑھ کر احساس ہوا کہ دانت بھی اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد کا مضمون ’’ذیابطیس میں پاؤں بچائیں‘‘ بہت فکر انگیز تھا۔

’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں ’’میری عظیم ساس‘‘ بہت پسند آئی۔ ’’پیارا گھر‘‘میں ڈاکٹر سکندر اقبال کے جملے ’’سچ بولیں، مگر حکمت کے ساتھ‘‘ میں بڑا درس پوشیدہ تھا۔ بلاشبہ، شرافت اور کردار کی نرمی بہترین صفات ہیں۔ ’’نئی کتابوں‘‘ میں سے ’’سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک‘‘ خریدنے کا ارادہ ہے۔ اور آخر میں ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی بات، اِس مرتبہ بھی محمّد سلیم راجا، تختِ شاہی پر براجمان تھے اور بلاشبہ یہ اُن کی خُوب صُورت تحریرکا استحقاق بھی ہے۔

بندۂ ناچیز کا خط بھی بزم کا واضح حصّہ تھا۔ میری دیکھا دیکھی میری ہم شیر حافظہ مریم فاطمہ ڈار بھی گزشتہ ایک ماہ سے ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں لکھنےکی کوشش کررہی ہے، لیکن تاحال مکمل نہیں کرپائی اور میری ایک خالہ جان بھی اِسی ضمن میں مصروفِ عمل ہیں۔ (حافظ عُمرعبدالرحمٰن ڈار، ہرن مینارروڈ، شیخو پورہ)

ج: یہ خط لکھا جارہا ہے یا کوئی کتاب؟ ہم شیر اور ماسی کو بتائیں کہ یہاں عمومی طور پرخط چَھپتےچَھپتے رُتیں بدل جاتی ہیں، اِتنا وقت لگائیں گی، تو پھر اشاعت کی باری اگلے سال ہی آئے گی۔

پیش گوئی کردی تھی

اِس بار تو ’’سالِ نو ایڈیشن‘‘، بس عام ایڈیشنز ہی کی طرح تھا، جب کہ پہلے کبھی یہ ایک سو صفحات پر بھی مشتمل ہوتا تھا۔ ہم بھی آپ کی مجبوری سمجھتے ہیں کہ کاغذ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوچُکا ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ جنگ اخبار شائع ہورہا ہے، ورنہ تو کافی نیوز پیپرز بند ہی ہوگئے ہیں۔ خیر، آپ کا ’’حرفِ آغاز‘‘ ہمیشہ ہی کی طرح شان دار تھا، خصوصاً آپ نے جو شاعری منتخب کی، وہ تو سیدھی دل میں اُتر گئی۔

سب مَیں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کرکے رکھ لی ہے۔ تمام مضامین گزشتہ سال کا نچوڑ تھے، جیسا کہ اُمّتِ مسلمہ، پاک افواج، عدالتِ عظمیٰ، خارزارِسیاست، ایوانِ نمائندگان بساطِ عالم، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا، ایک چھوٹے سے شمارے میں کیا کیا کچھ نہیں پڑھنے کو مل گیا۔ اب آتے ہیں اپنے پسندیدہ ترین صفحے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی جانب۔ 

آپ نے سال بھر کے خطوط کا خُوب صورت تجزیہ کیا، ساتھ مجھ ناچیز کا بھی مستقل خطوط نگاروں میں ذکر کیا، تو میرے لیے تو یہ بھی بہت بڑا اعزاز ہے۔ جب سال کے درمیان میں محمّد سلیم راجا نے کافی عرصے بعد اینٹری دی تو مَیں نے اُسی وقت پیش گوئی کردی تھی کہ سال کے آخر تک اس ہفتے کے چٹھی نگاروں میں راجا صاحب ہی پہلے نمبر پر ہوں گے اور وہی ہوا، 14 خطوط کے ساتھ انہوں نے میدان مار لیا۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار،بہاول نگر)

ج: غالباً انہوں نے آپ کی پیش گوئی ہی کی لاج رکھ لی۔ وگرنہ وہ اچانک غائب ہونے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔

ہمارے لیے آواز

منیر احمد خلیلی نے مسلم دنیا کی ریاست، مراکش کا احوال تفصیل سے بیان کیا۔ طیبہ فاروقی نیویارک میں مسلمان میئر کے انتخاب پر خُوش تھیں۔ ثانیہ انور ماہِ جنوری کے اہم واقعات، عالمی ایام کا مختصر جائزہ پیش کررہی تھیں۔ منور مرزا نے روس، یوکرین جنگ سے متعلق شان دار تجویز پیش کی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’آسیہ‘‘ کی دوسری قسط بھی زبردست تھی۔ 

عشرت زاہد کا افسانہ پسند آیا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط شامل نہیں تھا، لیکن اندھیرا بھی نہیں تھا کہ ڈاکٹر تبسّم سلیم نے ہمارے لیے آواز اُٹھائی اور ہمارے علاوہ چند اور خطوط نگاروں کے بھی نام تحریر کر کے ہمیں مستقل خطوط نگاروں کی فہرست میں شامل کیا۔ 

’’سال نامے‘‘ کا ’’حرفِ آغاز‘‘ آپ نے خُوب لکھا، خصوصاً رحمان فارس کی نظم اور نذیر نادر کی مناجات کا جواب نہ تھا۔ دیگر صفحات اُمّتِ مسلمہ، پاک افواج، عدالتِ عظمیٰ خارزارِ سیاست، ایوانِ نمائندگان، بساطِ عالم اور صوبوں کی کارکردگی پر مبنی مضامین بھی اچھے رہے۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: ڈاکٹر تبسّم نے محض تذکرہ کیا، وگرنہ آپ پر کون سے ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں کہ جس کے خلاف باقاعدہ آواز اُٹھائی گئی۔

انسائیکلوپیڈیا سے کم نہ تھا

سنڈے میگزین کی پوری ٹیم، تمام لکھاریوں اور قارئین کو2026ء بہت مبارک ہو۔ دُعا ہے کہ یہ سال کشمیر،فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خوش آئند ثابت ہو۔ وطنِ عزیز سے لاقانونیت، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوجائے۔ 

عوام کو سُکھ، چین کا سانس نصیب ہو۔ سالِ نو کا پہلا جریرہ کسی انسائیکلوپیڈیا سے کم نہ تھا۔ تمام ہی لکھاریوں نے بڑے احسن انداز سے تجزیاتی تحریریں پیش کیں۔ اللہ اِن کے زورِقلم میں مزید اضافہ فرمائے۔ (بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)

ج: ’’اور آپ کے زورِ قلم میں بھی۔‘‘ آپ کے لیے دستِ دُعا ہم بلند کیے لیتے ہیں کہ نوّے فی صد تحاریر ناقابلِ اشاعت ہی ٹھہرتی ہیں۔

گل دستے کا حصّہ

تمام تعریفیں ربِ دوجہاں کے لیے، جو دنیا کے ذرّے ذرّے کا ملک وخالق ہے۔ راجا حبیب خان، مظفرآباد سے ’’آزاد کشمیر‘‘ کے سالِ رفتہ کا احوال بیان کررہے تھے۔ منور مرزا کا یہ کہنا سو فی صد درست کہ مُلکی معیشت کی سُست رفتار ترقی کی بڑی وجہ مالیاتی دباؤ ہے۔ اپنی طرز کی منفرد لکھاری ثانیہ انور ’’خواتین کے لیے 2025ء کیسا رہا؟‘‘ کے ضمن میں ایک بھرپور نگارش لائیں۔ شفق رفیع کو خوش آمدید کہ دوبارہ سنڈے میگزین کے گل دستے کا حصّہ بن گئیں۔ ’’نسلِ نو‘‘ کے عنوان تلے اُن کی تجزیاتی رپورٹ بہت ہی پسند آئی۔ 

’’اِن اینڈ آؤٹ‘‘ میں ڈاکٹر ناظر محمود منظرِعام پر چھانے اور غائب ہوجانے والوں کا ذکر کررہے تھے۔ سال بھر اِس خُوب صُورت صفحے کا انتظار رہتا ہے۔ واقعتاً سفید رنگ، اپنی ذات میں کسی فرشتے کی طرح معصوم و مقدّس ہے۔ ’’کلر آف دی ایئر 2026ء، دودھیا سفید رنگ‘‘ سے متعلق ایڈیٹر صاحبہ کے میٹھے مہکتے الفاظ نے مخرن کو چار چاند لگا دیے۔ ’’ادب پہلا قرینہ ہے، محبّت کے سلیقوں میں‘‘ ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے ادبی دنیا کا احوال، کوزے میں دریا کے مثل پیش کیا۔ 

ڈاکٹر سکندر اقبال کا ’’صحتِ عامہ‘‘ کے عنوان سے جائزہ بےحد معلوماتی تھا۔ راؤ محمّد شاہد کے اندازِ تحریر کے تو کیا ہی کہنے۔ انہیں مستقل لکھنا چاہیے۔ ’’ہائے کس کس کا سوگوار ہوں مَیں…‘‘ ہمایوں ظفر نے سال 2025ء میں بچھڑ جانے والوں کو نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے سارے ہی سندیسے دل کے قلم سے لکھے گئے، تو دل ہی میں اُتر گئے۔ 

ڈاکٹر عزیزہ انجم کی نثری نظم ’’استقبال‘‘ لاجواب تھی اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں سدابہار بزارگوار پروفیسر سید منصور علی خان تخت نشین تھے، دیکھ کے بےحد خوشی ہوئی۔ قرات نقوی بھی ای میل کے ذریعے وقتاً فوقتاً حاضری دیتی رہتی ہیں، تو بہت اچھا لگتا ہے۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)

ج: شفق ادارہ تو چھوڑ گئی ہیں، لیکن اپنے ساتھیوں اور جریدے سے قلبی وابستگی جوں کی توں ہے۔ اب اُن کا وعدہ ہے کہ آئندہ وقتا فوقتاً کچھ نہ کچھ لکھتے رہنے کی کوشش ضرور کریں گی۔

گزارشات کا خلاصہ

دوبارہ گزارش ہے کہ بندۂ ناچیز پرائمری سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کا قاری ہے۔ سنڈے میگزین میں میری گزارشات کا خلاصہ شائع کیا گیا، بےحدممنون ہوں۔ ماہِ دسمبر کا جریدہ زیرِ مطالعہ ہے، جس میں حافظ محمّد ثانی کی سیرتِ طیبہ سے متعلق شان دار نگارش کا، آخری پانچویں قسط کے ساتھ اختتام ہوگیا۔ اِس پر ڈاکٹر صاحب حد درجہ تحسین کے مستحق ہیں۔

اُنہوں نے نبیٔ مکرم خاتم النبیینﷺ کی حیاتِ پاک کے تقریباً تمام گوشے اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ جزاک اللہ۔ ’’ڈگری مل گئی؟ ثابت کریں اصلی ہے‘‘ پودوں کی افزائش سے متعلق معلومات، سلسلہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘، ’’پیارا گھر‘‘ افسانہ ’’دھول بن‘‘، ’’ڈائجسٹ‘‘ کا صفحہ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ سب ہی گویا ایک سے بڑھ کر ایک رہے۔ (حافظ مقبول احمد، گلی قصوریاں، بھاٹی گیٹ،لاہور)

ج: دوبارہ بھی گزارشات کا خلاصہ ہی شائع کیا جارہا ہے کہ تفصیلات میں تو آپ ذاتی زندگی سے ملازمت، بیماری، علاج ودیگر واقعات تک لکھتے چلے جاتے ہیں۔خدارا! صرف جریدے کے مندرجات تک محدود رہا کریں کہ اِس صفحے کے اجراء کا اصل مقصد یہی ہے۔

                 فی امان اللّٰہ

اس ہفتے کی چٹھی

سپید درختوں کی اوٹ سے جھانکتے سنہری آفتاب کو ہم نے سالِ نو، 2026ء کا چڑھدا سورج جانا۔ ایس واسطے، سارے دیوانیاں نُوں ویلکم ویلکم۔ دینی اُمنگوں کےترجمان’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ پہ پانچ اقساط پر مشتمل مضمون ’’سیرتِ طیبہؐ ‘‘ اختتام پذیر ہوا۔ جس کا قصّۂ مختصر (بروئے قلم ڈاکٹر ثانی) یہ ہے کہ تعلیماتِ محمدیؐ نے ہر شعبۂ زندگی کو نکھارا اور منزلِ رفعت پر پہنچا دیا۔ اگلا صفحہ بارود سے گرم پایا، تاہم نرم دل صاحبِ صفحہ نے بڑی نرماہٹ سے توجّہ دلائی کہ عوام منہگائی سے پس رہے ہیں، لیکن ممالک کے دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں۔ 

’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ ونڈو سے قارئینِ میگزین کو ہیلتھ ٹپ دی گئی ’’ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس ہرگز استعمال نہ کریں۔‘‘ اِس پر فکر دامن گیر ہوئی، گر مسیحا نے مشورے کی پانچ ہزار روپے فیس طلب کرلی تے فیر، دیواروں سے باتیں کرنا اچھا ہی لگےگا۔ ہاہاہا… اور ’’سنڈے اسپیشل‘‘ تو ڈگری ہولڈرز کا ’’کمپلینٹس فولڈر‘‘ رہا۔ برسوں پہلے رئیسانی صاحب نے تو میڈیا پر محض دل لگی کی تھی (ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو کہ نقلی) مگر اُن کا یہ مذاق گریجویٹس کے لیے راہِ تصدیقِ اسناد میں دودھاری تلوارکے مترادف ٹھہرا۔ تو پھر ہیر کا رانجھے سے گلہ بجا ہی ہے۔

’’سونےدی نتھلی اصلی کہ نقلی، شک جے کریں گا ڈھولنا…اساں تیرے نال نیئں بولنا‘‘ ہاہاہا… آبِ حکمت سے لکھی تحریر ’’بحث یا بصیرت‘‘ تو گویا ’’تھوتھا چنا، باجے گھنا‘‘ کی منہ بولتی تصویر تھی۔ عرفان جاوید کا سیلانی بابو افسانے کی پہلی قسط میں ’’جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا۔‘‘ گاتا ہوا وارد ہوا تھا۔ تاہم قسطِ آخر میں ڈراپ سین یوں ہوا کہ’’دھول بن‘‘ ہی چھوڑ گیا، دل مِرا پاگل نکلا۔ اور ہم عصر و ہم شہر، ڈاکٹر رانا نے بذلہ سنج والدہ محترمہ کی دل چسپ یادداشتیں، شان دار پیرائے میں نذرِ دوستاں کیں، دل فرطِ احترام سے لب ریز ہوگیا، ’’ماں تیری عظمت کوسلام!‘‘ اللہ جنّت بخشے۔

’’ڈائجسٹ‘‘ نے شان دار چھکّا مارا۔ افسانے میں دو استادوں کی امثال سے معاشرے کی دو رُخی آشکار کی گئی، جب کہ غزلیہ پریم کہانی کا چار لفظوں پر خلاصہ نکالا۔ ’’کارِ محبّت آسان نہیں۔‘‘محترم سعیدی ’’کتاب دربار‘‘ میں نو رتنوں (کتب) کے جلو میں جلوہ گر تھے۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی ٹیم اس بار آٹھ قلمی اورتین برقی اسٹارز پرمشتمل تھی۔ 

نواب زادہ سلامی بلےباز، برقی ون ڈاؤن اور نقش بندی مڈل آرڈر، سبھی نے خوب جوہر دکھائے، جب کہ رانا بورے والا ایکسپریس کی قائدانہ اننگز کمال رہی۔ ٹاپ سیون خوش خط رائٹرز کے انکشاف کے بعداب ذرا ’’باٹم سیون‘‘ کےنام بھی احباب سے شیئر فرما دیں کہ اُن کا خوش خط ہوناوقتِ ایڈیٹنگ مدیرہ کےلیے خوش آئند، باعث خوش بختی بن سکے۔ ہاہاہا… (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)

ج: 1 - سیّد شاہ عالم زمرد اکبر آبادی، راول پنڈی 2۔ شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور 3۔ سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی 4۔ شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، مظفرگڑھ 5۔ نازلی فیصل، ڈیفینس، لاہور 6۔ اسلم قریشی، آٹوبھان روڈ،ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد7 -ڈاکٹر محمد حمزہ خان ڈاھا، لاہور۔

گوشہ برقہ خطوط

* سب سے پہلے ستمبر کے اہم ایام سے متعلق لکھی تحریر پڑھی۔ بلقیس متین کے مضمون نے بچپن کے جشنِ آزادی کی یاد تازہ کردی، جب ہم بھی ہرے، سفید کپڑے پہنے، بیج لگائے اپنے گھر کو ہری ہری جھنڈیوں سے سجاتے تھے۔ عالیہ زاہد ’’خاندان‘‘ کی بات کر رہی تھیں۔ ’’اسٹائل بزم‘‘ بچّوں کے رنگا رنگ انداز سے سجی تھی۔ ویسے بچّوں کےنام کچھ عجیب سے تھے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ سلسلے میں’’بارش کا واقعہ‘‘ کی پہلی قسط بہت ہی شان دار تھی، بےحد پسند آئی۔

اگلے شمارے میں قائدِاعظم کے آخری ایام پر لکھی اسرار ایوبی کی دل سوز تحریر پڑھ کے آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں۔ بارش والے افسانے کی دوسری قسط تو بہت ہی سنسنی خیز تھی، پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ مَیں نےٹائم مشین ٹائپ کافی فلمز دیکھ رکھی ہیں، لیکن یہ افسانہ تو کوئی نیکسٹ لیول ہی تھا۔

ڈاکٹر اسرار آنکھوں کے مختلف امراض پہ روشنی ڈال رہے تھے۔ صنوبرخان کی اپنی والدہ سے متعلق تحریربہت ہی دل گداز تھی، پڑھ کے اپنی ماں کی بہت یاد ستائی۔ نذیرفاطمہ کا افسانچہ خاصا سبق آموزلگا۔ اور’’آپ کا صفحہ‘‘ میں سال کے آخر میں بھیجی گئی اپنی ای میل دیکھ کے بہت خوشی و حیرانی ہوئی۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

ج: ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ کا سائز نہیں دیکھا، صرف تمھاری ہی ای میلز بھی شایع کریں، تو نئی ای میل کی باری مہینوں بعد آئے۔

* میرا سوال ہےکہ مَیں جنگ، سنڈے میگزین کہاں سےحاصل کرسکتی ہوں؟ اب قریبی بُک اسٹالز پر یہ نہیں ملتا۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کی تحریر میگزین میں شائع ہوتی ہے، تو اُس سے متعلق لکھاری کو بتایا کیوں نہیں جاتا؟ (تحریم فاطمہ، کراچی)

ج: پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ابھی تک تو جنگ اخبار ہر جگہ دست یاب ہے، خصوصاً کراچی میں نہ ملنے کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوم، یہ دنیا کے کسی بھی اشاعتی ادارے کی روایت نہیں کہ وہ لکھاریوں کو اُن کی تحاریر کی اشاعت کی اطلاع بھی فراہم کرے۔ اس کے لیے آپ کو جریدے کا باقاعدگی سے مطالعہ ہی کرنا ہوگا۔اور آپ انٹرنیٹ تو استعمال کرتی ہی ہیں، اخبارخرید نہیں سکتیں، توآن لائن پڑھ لیا کریں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید