بہت سے حضرات اپنی بیوی، بچّوں سے ہنسی مذاق سے گریز کرتے ہیں، کیوں کہ اُن کا خیال ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے گھر میں اُن کا رعب داب ختم ہوجائے گا، مگر حقیقتاً یہ طرزِ عمل بالکل غلط ہے۔ کیوں کہ اگر درست ہوتا، تو حضور نبی کریم ﷺ بھی ضرور یہی طریقہ اپناتے۔ جب کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ نہ صرف ہنسی مذاق کرتے بلکہ ان کی دل بستگی کا بھی سامان کرتے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر پر جا رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے اُن کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ ایک بار مَیں اُن سےآگے نکل گئی اور ایک مرتبہ آپ ﷺ آگے نکل گئے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مسلمانوں کے لیے تمام کھیل کُود باطل ہیں، سوائے تیر اندازی اور گُھڑ سواری کے۔ مگر اپنے اہل وعیال کے ساتھ کھیل کود کے لیے بے شک یہ سب ٹھیک ہیں۔ (ترمذی)
(قاضی جمشید عالم صدیقی، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور)
٭ زندگی میں چھے اصول اپنا لیں، پُرسکون رہیں گے۔ کسی بھی قسم کا ردِعمل دینے سے پہلے ہمیشہ دو تین گہری سانسیں لیں۔ کچھ بھی بولنے سے پہلے مخاطب کو بغور سُنیں۔ کسی پر بھی تنقید سے قبل ایک نظر اپنے گریبان پر ضرور ڈالیں۔
کسی کے لیے کچھ بھی لکھنے سے پہلے دس بار سوچیں۔ حملہ کرنے سے پہلے، خُود کو حتی الامکان روکنے کی سعی کریں۔ مرنے سے پہلے، زندگی کو جس قدر جی سکتے ہیں، ضرور جیئں۔
٭ ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا۔ ’’مَیں ہمیشہ خوش رہتا ہوں، کیوں کہ مَیں کسی سے اُمید نہیں رکھتا۔‘‘ اِس مقولے کو گرہ سے باندھ لیں۔
اور…
٭یاد رکھیں، مسائل کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے، ہر مسئلے کا حل موجود ہے، سوائے موت کے۔
٭ بے شک، شُکر، زندگی کی شَکر ہے۔ جس طرح شکر(چینی) کڑوی چائے کو میٹھا کردیتی ہے، اِسی طرح ’’شُکر‘‘ زندگی کی سب تلخیاں، مٹھاس میں بدل دیتا ہے۔ اللہ نے جو دیا، اُس پر ’’الحمدُللہ‘‘ کہیں۔ جو نہیں دیا، اُس پر اُس سے بڑھ کر’’الحمدُللہ‘‘کہیں۔ جولے لیا، اُس پر بھی’’الحمدُللہ‘‘ کہیں اور جو نہیں لیا، اس پرکروڑ دفعہ ’’الحمدُللہ‘‘ کہیں اور پھر دیکھیں، آپ کا رب، آپ کو کیسے کسیے اور کہاں کہاں سے نوازتا ہے۔
(بلقیس متین، کراچی)
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’متفرق‘‘
٭ منہگائی (امجد محمود چشتی، میاں چُنوں) ٭ فحش مواد کی لت (ثاقب عبداللہ نظامی، لیّہ) ٭ وقت کی دستک (دلشاد عالم) ٭ افغان طالبان کی نئی پابندی، پروین شاکر، ناصر کاظمی کے کلام کا جائزہ (منیر راہی، کبیر والا، خانیوال) ٭فاریہ چوک کے لیے نئے بس رُوٹ کی ضرورت (صغیر علی صدیقی، کراچی) ٭ امام جعفر کی پندو نصائح، ویلنٹائن ڈے، بسنت (بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور) ٭ سڑکوں کی تعمیر میں رکاوٹ، سیل کریں، ڈیل نہیں (لطیف النساء، ناظم آباد، کراچی) ٭ وائلڈ لائف، ترقی کی راہ پر (مرزا رمضان) ٭ماحولیاتی آلودگی (دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا، لودھراں) ٭ جھوٹ کے پاؤں، سیاست کے بازو (مہر پرویز احمد دولو، میاں چُنوں) ٭ یاسین ملک (آصف اشرف، راولا کوٹ) ٭ کراچی جل رہا ہے (شگفتہ جہاں، گڈاپ، کراچی) ٭ کراچی میں پارکنگ کا مسئلہ (خواجہ تجمل حسین، نارتھ کراچی، کراچی) ٭ آہ فلسطین (رومیصا زبیر) ٭ خاک زارگل پلازا، بسنت (صبا احمد) ٭ میرا شہر، سوہدرہ (حکیم راحت نسیم سوہدروی) ٭ پرچارک (شکیل سلاوٹ) ٭ بھٹی شہید کی کہانی (تحریم فاطمہ) ٭ غلام علی الانہ، سارہ شگفتہ (محمد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭ ٹیچر سوسائٹی میں پانی کا مسئلہ، وفاقی حکومت جواب دے (شہناز سلطانہ، رمشاء طاہر، سرجانی ٹائون، کراچی) ٭ بچّے کے لیے بندوبست (ڈاکٹر ایم عارف سکندری، حیدرآباد) ٭ انسانی حقوق کمیشن، سبق آموز کہانی، ماہِ رمضان، ریٹائرمنٹ، اچار (شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ میرے مہربان (جمیل ادیب سید) ٭ اہلِ غزہ منتظر ہیں (چوہدری فرحان شوکت ہنجرا) ٭ دال، شکاری کتے (محمد اکرام) ٭ پاکستان بمقابلہ بھارت، لاوارث کراچی، سُپر ہائی وے (محمّد شاہد اعجاز، احمد اوکاشہ، ایس سلطانہ(خدا کی بستی، کراچی)۔