• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محبوب کی گلی

نصیب ہی میں نہ تھی اُس کے گھر کی رکھوالی

جو اس کے جان نثاروں میں نام ہو جاتا

جو اپنے کوچے میں وہ چھوڑتا نہیں کتّے

تو اُس گلی میں ہمارا قیام ہو جاتا

کڑکڑاتا جاڑا

رضائی سے سردی میں منہ جو نکالا

تو کہتا ہے منہ، ہووے منہ تیرا کالا

ستم گر یہ کہتا ہے دے کر دہائی

مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا

فاصلہ

( روحِ غالب سے معذرت کے ساتھ)

بینک، بیلنس، زر، زمیں کے سبب

میاں بیوی میں فاصلہ نہ ہوا

کتنے شیریں ہیں اُس کے لب کہ خصم

’’گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘

پرچی اور خرچی

پرچی ہو پاس یا ہو خرچی تب

لوگ عزت مآب ہوتے ہیں

ایک سے چار کر لیے بنگلے

بعض ایسے بھی جاب ہوتے ہیں

(مرزا عاصی اختر)

سنڈے میگزین سے مزید