• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاڑکانہ تا جیکب آباد ریلوے لائن کی بندش کے سنگین اثرات

لاڑکانہ تا جیکب آباد بذریعہ استا محمّد اور شہداد کوٹ جانے والی ریلوے لائن، جو قیامِ پاکستان سے قبل برطانوی دَورِ حکومت میں بچھائی گئی تھی، تقریباً سات دہائیوں تک عوام کو سَستی، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری سہولت فراہم کرتی رہی۔

تاہم، آج سے لگ بھگ پندرہ برس قبل اس اہم اور تاریخی ریلوے سیکشن پر ٹرین سروس کو بغیر کسی واضح جواز کے بند کردیا گیا اور اس اچانک اور غیرمتوقّع فیصلےکے نتیجے میں لاکھوں افراد نہ صرف سفر کے ایک سَستے اور محفوظ ذریعے سے محروم ہوگئے بلکہ اس بندش کے مقامی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔

خصوصاً چاولوں کی تجارت سے وابستہ تاجر برادری کو اس عمل سے ناقابلِ تلافی نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے، استا محمد، شہداد کوٹ اور لاڑکانہ سے سالانہ لاکھوں ٹن چاول پاکستان ریلویز کی گُڈزٹرینز کے ذریعے کراچی کی پورٹ قاسم پہنچایا جاتا تھا، جو نقل و حمل کا سستا اور نسبتاً محفوظ ذریعہ تھا۔ 

تاہم، مذکورہ ریلوے سروس کی معطّلی کے بعد تاجرمال بردار ٹرکوں پر انحصار پر مجبور ہوگئے، جس کی وجہ سے ایک جانب اُنہیں کرائے کی مد میں بے تحاشا رقم ادا کرنا پڑتی ہے، تو دوسری جانب دہشت گردی کے خدشات بھی لاحق رہتے ہیں، جب کہ یہی عوامل آج چاول کی ترسیل اور برآمدات میں بھی ایک بڑی رُکاوٹ بن چُکے ہیں۔

علاوہ ازیں، مذکورہ بالاریلوے لائن غریب اور متوسّط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بھی سفر کا ایک اہم ذریعہ تھی اور اس کی بندش سے عوام کو فرسودہ، غیرمحفوظ اور منہگی پبلک ٹرانس پورٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ دوسری جانب استا محمّد سے کوئٹہ، کراچی، سکھر اور دیگر رُوٹس پر چند بااثر ٹرانس پورٹرز کی اجارہ داری قائم ہے، جس کے باعث کسی معیاری یاجدید ٹرانس پورٹ کومتعارف کروانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

نتیجتاً، مسافر بھیڑ بکریوں کی مانند پبلک ٹرانس پورٹ میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ علاوہ ازیں، مقرر کردہ کرائے نامے سے زائد کرایہ نہ دینے کی صُورت میں نہ صرف مسافروں کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے اور یوں اس جدید دَور میں بھی استا محمّد کے شہری اذیّت ناک اور غیرمحفوظ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب ریلوے سروس کی طویل عرصے سے بندش کے باعث بااثر افراد نے کئی مقامات سے دن دیہاڑے ریلوے ٹریکس اُکھاڑ کر مارکیٹ میں فروخت کردیے ہیں اوراس روٹ کے متعدّد ریلوے اسٹیشنز، ریلوے پولیس تھانے، گودام، پمپنگ اسٹیشنز اور دیگر تنصیبات قبضہ مافیا کی نذر ہو چُکی ہیں اور اربوں روپے مالیت کی ریلوے اراضی پر غیر قانونی مکانات اور پلازے تعمیر کر لیے گئے ہیں، مگر افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ آج تک اِن عناصر کے خلاف کوئی مؤثر قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی ریلوے کی املاک واگزار کروائی جا سکی ہیں، جب کہ یہ صورتِ حال اس وقت مزید ابتر ہوگئی کہ جب بعض سرکاری و تعمیراتی محکموں نے اندرونِ شہر سے گزرنے والے ریلوے ٹریک پر پکی سڑکیں تعمیر کردیں، جو مستقبل میں ریلوےسروس کی بحالی کے راستے میں ایک بڑی رُکاوٹ ثابت ہوں گی۔

لاڑکانہ، استا محمّد، شہداد کوٹ اور جیکب آباد سمیت اس پورے ریلوے سیکشن سے وابستہ لاکھوں افرادکا دیرینہ مطالبہ ہےکہ مذکورہ تاریخی، عوامی اور معاشی طور پر انتہائی اہم ریلوے لائن پر ٹرین سروس فوری طور پر بحال کی جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ تجارت کو فروغ اور روزگار کے مواقع ملنے کے ساتھ خطّے کی مجموعی صُورتِ حال میں بھی بہتری واقع ہوگی۔

سنڈے میگزین سے مزید