• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین میں کرپٹو کرنسی پر عائد پابندی کی وجوہ

2009ء میں جب دُنیا کی پہلی کرپٹوکرنسی، ’’بِٹ کوائن‘‘ وجود، جنہوں نے جلد ہی اُسے اپنے ہاں رائج کرنے کی اجازت دی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چین دُنیا بَھر میں کرپٹو کرنسی کا بڑا مرکز بن کر اُبھرا۔ 2010ء میں چین میں باقاعدہ طور پر ورچوئل کرنسی میں لین دین شروع ہوا اور پھر چین ہی میں 2011ء میں دُنیا کی سب سے پہلی کرپٹوکرنسی ایکس چینج، ’’بی ٹی سی چائنا‘‘ کے نام سے قائم ہوئی۔ 2013ء کے اوائل تک سب ٹھیک چل رہا تھا، بعدازاں چینی حکومت کو بِٹ کوائن میں چُھپے خطرات نظر آنا شروع ہوئے۔ ذیل میں چین میں کرپٹو کرنسی پر لگائی جانے والی پابندیوں کی تاریخ کا مختصر احوال پیش کیا جا رہا ہے۔

1۔ ابتدائی پابندیاں…2013ء:دسمبر 2013ءمیں چین کےمرکزی بینک، ’’پیپلز بینک آف چائنا‘‘ اور دیگرمالیاتی ریگیولیٹرز نے بینکس کو بِٹ کوائن میں لین دین سے روک دیا، چوں کہ شروع میں کرپٹو کرنسی کے لین دین سے متعلق کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں ہوئی تھی، تو اس کے نتیجے میں منی لانڈرنگ کے خطرات بڑھنے لگے تھے۔

2۔ کرپٹوکرنسی کی مائننگ…2013-2014ء:چین کے کرپٹو کرنسی کا بڑا مرکز بننے کی بنیادی وجہ چین میں دست یاب سستی بجلی تھی۔ 2013ء میں چین میں ’’بِٹ مین‘‘ نامی کرپٹو کرنسی کی مائننگ کی مشینری تیار کرنے کی کمپنی قائم ہوئی، جو تھوڑے ہی عرصے میں دُنیا کی ایک بہت بڑی کمپنی میں تبدیل ہوگئی۔

3۔ مزید پابندیاں…2017ء:جس طرح اسٹاک مارکیٹ میں ہر نئی آنے والی کمپنیInitial Public Offering کے ذریعے رقم کےحصول کے لیے اپنے شیئرز مارکیٹ میں عوام کوپیش کرتی ہے تاکہ کاروبار کے لیے فنڈ اکٹھا کیاجاسکے، بالکل اِسی طرح کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں بھی فنڈ حاصل کرنے کی خاطر Initial Coin Offering نامی طریقہ اپناتی ہیں۔ 2017ء میں چین نے کرپٹو کرنسی کی کمپنیز کو Initial Coin Offering جاری کرنےپرپابندی لگادی تاکہ غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے فنڈ اکٹھا نہ کیا جاسکے۔

4۔ مسلسل کریک ڈاؤن…2018-2021ء: 2018 ء سے 2021ء کے درمیانی عرصے میں چینی حکومت نے متعدّد پابندیاں عائد کیں، جن میں ایک جانب اندرونِ مُلک کرپٹو کرنسی کے ایکس چینج شامل تھے، تو دوسری جانب بیرونِ مُلک کرپٹوکرنسی ایکس چینج تک رسائی روکنا شامل تھا۔

5۔ مکمل پابندی…2021ء: 2021ءمیں چینی حکومت پر واضح ہوگیا کہ محض چند پابندیاں لگانے سے کرپٹوکرنسی کے خطرات ختم نہیں کیےجاسکتے، تو آخر کار ستمبر 2021ء میں چینی حکومت نے کرپٹوکرنسی پر مکمل پابندی عائد کردی اور یوں چین میں کرپٹو میں لین دین غیرقانونی ہوگیا، نیز کرپٹو کرنسی بنانا بھی جرم قرار دے دیا گیا اور اب چین میں کسی بھی قسم کی کرپٹوکرنسی کی مائننگ کی سزا تین تا سات سال قید اور پچاس ہزار سے پانچ لاکھ تک جرمانہ ہے۔

اب اُن وجوہ کا ذکرکرتے ہیں کہ جن کی وجہ سے چین کرپٹوکرنسی پرپابندی عائد کرنے پر مجبور ہوا۔

1۔ مالیاتی جرائم:جب چین کے مرکزی بینک کی انتظامیہ نے دیکھا کہ ٹیکس چوری، فراڈ، منی لانڈرنگ اور دیگرغیرقانونی سرگرمیوں میں کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے، تو اسےاس بات کا ادراک ہوا کہ اگر فوری اِس معاملے کو نہ روکا گیا، تو کرپٹو کرنسی کا غیرقانونی استعمال پورے چین کا مالیاتی نظام تباہ کردے گا۔ واضح رہے، کرپٹو کرنسی کا پورا نظام ہی عدم مرکزیت پرمبنی ہے۔ یعنی دُنیامیں ورچوئل کوکنٹرول کرنےوالا کوئی ادارہ وجود نہیں رکھتا۔

2۔ معاشی عدم استحکام:اسٹاک مارکیٹ کی طرح کرپٹو کرنسی بھی خبروں، افواہوں اور اندازوں پر چلتی ہے۔ چاہے خبرسچی ہو یاجھوٹی، کرپٹو کرنسی کی قدر اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح بےتحاشا اندازے لگانے سے بھی کرپٹو کی قدر میں اچانک تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ قدر میں بار بار اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کار زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں مُلکی معاشی نظام سے عوام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ یہی عدم اعتماد آگے چل کر مُلکی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتا ہے اور اس خدشے کےپیشِ نظرہی چینی حکومت نے کرپٹو کرنسی پرمکمل پابندی عائد کی۔

3۔ معاشی نظام پر سخت حکومتی کنٹرول:چین دُنیا کےاُن چند ممالک میں شامل ہے، جہاں مُلکی معیشت پرحکومت کا سخت کنٹرول ہے، جب کہ کرپٹو کرنسی پر کسی ادارے یا مُلک کا بس نہیں چلتا۔ ریاست کے کنٹرول سے باہر ہونے کے سبب بھی چینی حکومت کوورچوئل کرنسی پرپابندی عائدکرنی پڑی،کیوں کہ مُلکی سرمائے کابِلاروک ٹوک مُلک سے انخلا چین کی معیشت کےلیےخطرہ بن رہا تھا، جس کے چینی کرنسی، ’’یوآن‘‘ پر بھی منفی اثرات مرتّب ہو رہے تھے۔

4۔ سرمائے کا انخلا: جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چُکا، اِس وقت دُنیا میں کرپٹوکرنسی کو کنٹرول کرنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں، لہٰذا اس کا بہاؤ روکنا کسی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ چین کے قانون کے مطابق فردِ واحد اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ بیس ہزاریوآن تک بیرونِ مُلک لے جاسکتا ہے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔

اسی طرح کوئی بھی غیرمُلکی کرنسی پانچ ہزار امریکی ڈالرز یا اُس کے مساوی چین سے باہر لے جانے کی اجازت ہے، جب کہ مُلکی وغیر مُلکی کرنسی کوچین سے باہر لےجانے کو کنٹرول کرنے والا قانون کرپٹوکرنسی کے آگے غیرمؤثر تھا اور کرپٹو کرنسی کی صُورت مُلکی وغیر مُلکی کرنسی کے بیرونِ مُلک انخلا کو روکنے ہی کے لیے چینی حکومت نے کرپٹوکرنسی پر پابندی عائد کردی۔

سنڈے میگزین سے مزید