• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ سندھ میں فطری سیاحت کے مواقع اور درپیش چیلنجز

دنیا بَھر میں سیاحت کو سماجی و معاشی ترقّی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں سے نہ صرف کسی مُلک کی ترقّی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ غُربت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ سیرو سیاحت کی اس قدر اہمیت کے پیشِ نظر ہی اب فطرت پر مبنی سیاحت ٹورازم کا ایک اہم حصّہ بن چُکی ہے۔ 

یاد رہے، فطری سیاحت سے مُراد قدرتی مناظر سے مالا مال علاقوں کی ایسی ذمّےدارانہ سیر ہے کہ جس کے ذریعے ماحول کے تحفّظ اور مقامی باشندوں کی خوش حالی کو برقرار رکھنے کے علاوہ اُن علاقوں کے بارے میں آگہی بھی حاصل کی جاتی ہے۔

آج فطری سیاحت کئی ممالک کی معیشت کا ایک اہم جُزو ہے۔ اس ضمن میں لاطینی امریکا کے مُلک، کوسٹاریکا کی مثال پیش کرنا بے جا نہ ہوگا، جہاں ہمیں کئی سال قبل پہلی بار فطری سیاحت کا موقع ملا۔ کوسٹاریکا کے تاریخی و ثقافتی مقامات کے ساتھ قدرتی مقامات بھی سیّاحوں کے لیے خاص کشش کا باعث ہیں۔

بد قسمتی سے ترقّی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ترقّی پذیر ممالک میں اب تک فطری سیاحت کو وہ اہمیت نہیں دی گئی، جس کے وہ مستحق ہیں، حالاں کہ عصرِحاضر کی مصروف اور مشینی زندگی میں ہمیں ایسے مقامات کی سیرو سیاحت کی اشد ضرورت ہے کہ جو ہمیں فطرت کے قریب لا سکیں۔

پاکستان میں سیروسیاحت کے حوالے سے ہمیشہ شمالی علاقہ جات کا ذکر کیا جاتا ہے، جب کہ اس کے برعکس صوبۂ سندھ میں سیاحت کے فروغ پر بہت کم توجّہ دی جاتی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید سندھ میں سیاحتی مقامات کی کمی ہے، جو کسی طور دُرست نہیں۔ واضح رہے، انڈس ویلی کے شان دار وَرثے کی بدولت صوبۂ سندھ سیاحت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں بے شمار مقامات ہماری توجّہ کے منتظر ہیں۔

سندھ میں مختلف ماحولیاتی خطّے اور مقامات موجود ہیں، جن میں دریائے سندھ، جھیلیں، جنگلات، کوہستان اور صحرائی و ساحلی علاقے قابلِ ذکر ہیں، جو فطری سیاحت کو فروغ دینے کے بےشمار مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پھر حال ہی میں صوبۂ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ نے اپنےایک اجلاس میں دیگر شعبوں کے ساتھ فطری سیاحت کے حوالے سے بھی ایک تحقیق کی منظوری دی ہے۔ جنگلات اور جنگلی حیات کے محکمے کی جانب سے تجویز کردہ اس تحقیق میں مختلف جنگلاتی علاقے شامل کیے گئے ہیں۔

یہ جنگلات مختلف النّوع پودوں اور جانوروں کے تحفّظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس منصوبےکےتحت فطری سیاحت کوعالمی معیار کے اصولوں کے مطابق متعارف کروایا جائے گا۔ مذکورہ تحقیق میں تجویز کردہ مقامات میں حیدرآباد کا میانی اور رائلو جنگل، ٹھٹھہ کا خانانی جنگل، بدین کا بوہڑکی جنگل، شہید بے نظیرآباد کا پئی جنگل اور لاڑکانہ کا بہمن جنگل شامل ہیں، جب کہ ان جنگلات میں مجوّزہ ماحول دوست سہولتوں میں واکنگ اور سائیکلنگ ٹریکس، کشتی رانی، پرندوں کے مشاہدے کے لیے ٹاورز، پارکنگ، صفائی کا نظام، بچّوں کے لیے کھیل کے میدان، خوراک اور دست کاری مراکز شامل ہیں۔

محکمۂ جنگلات کےمطابق، اس منصوبے سے جنگلات اور حیاتیاتی تنوّع کو تحفّظ حاصل ہوگا اور وسائل کے غیرقانونی استعمال کو روکا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں، سیّاحوں اور نجی شُعبے کی سرمایہ کاری کے ذریعے روایتی مالی وسائل پر انحصار کم ہوگا،جب کہ مقامی باشندوں خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی سیاحت کو فروغ ملے گا۔

ہر چند کہ یہ ایک بہت اچّھی پیش رفت ہے، لیکن سندھ میں فطری سیاحت کے فروغ کے ضمن میں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں موجود جنگلات کو کئی اقسام کے خطرات لاحق ہیں۔ ماضی میں یہ جنگلات کئی اقسام کے پودوں اور جانوروں کی پناہ گاہ رہے ہیں، جو اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ 

مزید برآں، ایک طرف دریائے سندھ میں پانی کی کمی نے جنگلات کو متاثرکیا ہے، تودوسری جانب ناقص حکومتی پالیسیز نے بھی اِنہیں نقصان پہنچایا ہے۔ مثال کے طور پر جنگلات کی اراضی پر زراعت کو فروغ دے کر جنگلات کو تباہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ کئی برس سے سندھ میں جنگلات کا رقبہ بڑھنے کے بجائے کم ہو رہا ہے۔

مذکورہ بالا صُورتِ حال اس اَمر کی متقاضی ہے کہ درست حکمتِ عملی، مؤثر طرزِ حُکم رانی اور مقامی باشندوں کی شمولیت کے ذریعے جنگلات کے تحفّظ کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ میں جنگلات کے تحفّظ کے لیے ہمہ جہتی اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل فراہمی، جنگلات پر قبضوں کا خاتمہ، درختوں کی کٹائی پرپابندی اور مقامی درختوں کی شجرکاری شامل ہیں۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فطری سیاحت کی ترقّی فطرت اورقدرتی وسائل کے تحفّظ سے وابستہ ہے۔ سندھ میں فطری سیاحت کی ترقّی میں دیگر رُکاوٹیں بھی حائل ہیں، جن میں ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں، ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ اور دُوردراز علاقوں میں ماحول دوست رہائش گاہوں کی کمی نمایاں ہیں۔ 

ذرائع مواصلات کی کمی کے سبب کئی فطری سیاحتی مقامات تک رسائی مشکل ہے، جس کی وجہ سے وہاں اب تک سیّاح اور سرمایہ کار نہیں پہنچ سکے۔ فطری سیاحت کے فروغ کے لیےضروری ہے کہ قدرتی حُسن سے مالا مال مقامات کو تحفّظ فراہم کیا جائے۔ بالخصوص جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے اور آلودگی کے خاتمے کے لیے صفائی کا مؤثر نظام تشکیل دیا جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے مشہور سیاحتی مقامات اکثر گندگی اور آلودگی کا شکار ہوتے ہیں، جو فطری سیاحت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ پائے دار فطری سیاحت کے حوالے سے سیّاحوں اور ٹور آپریٹرز میں آگہی کی کمی بھی اس شُعبے کو متاثر کرتی ہے اور اس کمی کو مختلف تربیّتی پروگرامز اور ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب سخت ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد اور مربوط منصوبہ بندی کا فقدان بھی پائےدار سیاحت کے فروغ میں بڑی رُکاوٹیں ہیں۔

سندھ میں فطری سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایک متوازن حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے، جس میں پائے دارانفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری، ماحولیاتی قوانین پرسختی سےعمل درآمد، مقامی باشندوں کی شمولیت اور انہیں آگہی کی فراہمی بنیادی عناصر ہیں۔ نیز، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور مقامی تعاون کے ذریعے ایسے ماڈلز تیار کیے جا سکتے ہیں کہ جو فطرت کے تحفّظ اور معاشی ترقّی دونوں کو فروغ دیں۔ یاد رہے، مذکورہ بالا رُکاوٹیں دُور کر کے موثر منصوبہ بندی اور پائےدار سرگرمیوں کےذریعے قدرتی سیاحت سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید