یہ عجیب اتفاق ہے کہ اِس صدی کی دو بڑی جنگیں، جن میں دو عالمی طاقتیں شامل ہیں، فروری کے آخری ہفتے میں شروع ہوئیں۔ یوکرین جنگ کا آغاز چار سال قبل26فروری کو ہوا، جب کہ ایران پر حالیہ حملے28فروری کو شروع ہوئے۔ پہلی جنگ میں روس حملہ آور ہے اور دفاع کرنے والا یوکرین۔ چارسال سے جنگ جاری ہے، جس میں80ہزار سے زاید افراد ہلاک اور لاکھوں زخمی ہوچُکے، جب کہ شہر کھنڈر بنتے جا رہے ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل حملہ آور ہوئے اور وہ اپنا دفاع کر رہا ہے۔ اِس جنگ میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی درست تعداد بتانا مشکل ہے کہ دونوں اطراف خبروں کے ذرائع پر سخت پابندی عاید ہے۔
تاہم، ایران کی ٹاپ لیڈر شپ پہلے ہی دن ٹارگٹ کرکے منظر نامے سے ہٹا دی گئی، جب کہ بعد میں بھی کئی رہنما نشانہ بنے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ایران کی ڈی سینٹرلائزڈ جنگ ہے، یعنی ہر شخص خود ہی اپنا کمانڈر ہے۔ جنگ کو چار ہفتے سے زیادہ ہوچُکے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اِن سطور کی اشاعت تک یہ جنگ رُک چُکی ہو کہ مذاکرات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جب کہ آنے والے دنوں میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کے خطرات بھی برقرار ہیں۔
بہرکیف، اِن دونوں جنگوں میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ ان سے دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہوا۔ روس اور یوکرین، دونوں ہی تیل اور گیس کے عالمی سپلائرز ہیں، خاص طور پر تیل اور گیس کے ضمن میں، یورپ کا مکمل طور پر انحصار روس پر رہا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں دنیا کے لیے معاشی تباہی کا باعث ہیں۔ یوکرین جنگ کا ایک اور منفی اثر خوراک کی سپلائی پر بھی ہوا، کیوں کہ روس، دنیا میں گندم کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔
اِسی طرح یوکرین دنیا کو کوکنگ آئل فراہم کرتا ہے۔ جنگ نے اِن دونوں اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی، جس سے قیمتیں بڑھیں اور مُلک منہگائی کی لپیٹ آتے گئے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے تیل اور ایل این جی کا بحران پیدا کیا، کیوں کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی، جو دنیا کے20 فی صد تیل کی گزرگاہ ہے۔ اِس تعطّل کے زیادہ اثرات جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور چین میں دیکھے گئے۔
اِسی پس منظر میں پاکستان میں بھی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اِن دونوں جنگوں میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عالمی طاقتوں کا کردار کیا رہا اور یہ بھی کہ بین الاقوامی تجارتی راہ داریاں کھلی رکھنا کس کی ذمّے داری ہے؟ کیوں کہ آج اگر آبنائے ہرمز بند ہے، تو کل دوسری راہ داریاں بھی بند کی جاسکتی ہیں۔ امریکا اس جنگ میں اُسی طرح ملوّث ہے، جیسے یوکرین کی جنگ میں روس۔ جب کہ اسرائیل بھی جنگ میں پوری طرح حصّہ لے رہا ہے، بلکہ ایران پر حملوں کا آغاز اُسی نے کیا۔
اِس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکا کی پُشت پناہی کے بغیر اسرائیل کے لیے جنگ جیتنا تو درکنار، اُس کی اپنی بقا بھی مشکل ہے۔ نیز، اِس معاملے میں یورپی ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ گو، جنگ میں اُنہوں نے ایران کے خلاف کارروائی سے گریز کیا، تاہم، حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کے بعد یورپی ممالک کے سربراہ اسرائیل سے یک جہتی کے لیے تل ابیب پہنچ گئے تھے۔ امریکا کے صدر جوبائیڈن بھی وہاں گئے اور اُسے ایک سو ارب ڈالرز سے زیادہ کی فوجی و معاشی امداد دی۔ اس کے ساتھ، امریکا نے ہر اُس قرار داد کو ویٹو کیا، جو اسرائیل کی مذمّت کے لیے سلامتی کاؤنسل میں پیش کی گئی۔
روس کے پاس دنیا کی دوسری بڑی فوج ہے( اِس فہرست میں پہلا نمبر چین کا ہے) اور اس کے پاس سب سے زیادہ نیوکلیئر ہتھیار بھی ہیں۔البتہ، روس نے انہیں کبھی استعمال نہیں کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب سوویت یونین بکھرنے لگی، تب بھی اس نے ٹوٹنا قبول کرلیا، لیکن ایٹمی اسلحہ استعمال نہیں کیا۔ وہ ایک سُپر پاورسے گھٹ کر ایک مُلک، یعنی روس تک محدود ہوگئی۔
روس آج پچیس سال بعد پھر ایک عالمی طاقت بن چُکا ہے اور اس میں اہم کردار اس کی معاشی طاقت کا ہے۔ تاہم، یوکرین کے علاوہ اس نے ابھی تک کسی بھی عالمی تنازعے میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا۔غالباً اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ دیکھ چُکا کہ اب فوجی طاقت نہیں، اقتصادی طاقت ہی کسی مُلک کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ خُود اِس کے پاس ایٹمی ہتھیار، فوج، ٹینک، طیارے اور میزائل سب ہی موجود تھے، لیکن پھر بھی1997 ء میں دیوالیہ ہوگیا۔
اس نے سخت گیر کمیونسٹ نظام کی جگہ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے، اپنی اقتصادی قوّت کی بحالی کے لیے یورپ اور امریکا سے تعلقات میں توازن قائم کیا اور آہستہ آہستہ ایک بار پھر بڑی اقتصادی قوّت بن گیا۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کے مشرقِ وسطیٰ میں گہرے اثرات تھے، جو سیاسی، فوجی اور اقتصادی سمتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ عراق، شام، لیبیا، الجزائر اور کئی دوسرے مسلم ممالک خُود کو فخر سے’’سوشلسٹ مُلک‘‘ کہا کرتے تھے اور اُن کے آئین بھی کمیونسٹ طرز پر تحریر کیے گئے۔
مصر، ان سب کا لیڈر تھا اور وہاں کے صدر، جمال عبدالناصر ایک انقلابی لیڈر مانے جاتے تھے۔ روس نے مشرقِ وسطیٰ میں آخری بار ایران کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی حمایت میں دو سال تک شام پر بم باری کی۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے، یہ اِس صدی کا سب سے خون ریز المیہ تھا۔ لیکن اسد خاندان کے زوال کے ساتھ ہی روس کا اقتدار بھی مشرقِ وسطیٰ سے غروب ہوگیا۔
اِسی لیے اگر وہاں کا موجودہ بحران دیکھا جائے، تو روس نے خود کو بیانات ہی تک محدود رکھا ہے، البتہ ایران کی فوجی امداد سے متعلق کچھ افواہیں ہیں، جن کی ماسکو تردید کرتا ہے۔ ایک قابلِ غور امر یہ بھی ہے کہ روس کے اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے، بلکہ اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ وہ اِس سے جدید فوجی نظام اور ٹیکنالوجی خریدتا ہے۔ اِس لیے بہت مشکل ہے کہ وہ اسرائیل کے خاتمے کی کسی کوشش کا ساتھ دے گا۔
پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ایران نے آبنائے ہرمز بند کی، تو امریکا نے روس پر تیل فروخت کرنے سے متعلق عاید پابندی ایک مہینے کے لیے اُٹھا لی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ یہ پیسا یوکرین جنگ میں استعمال کرسکتا ہے۔ اِس طرح روس، عرب تیل کی بندش سے بڑا فائدہ اُٹھانے میں کام یاب رہا، مگر ہم جیسے جذباتی لوگوں کو مفادات کا یہ کھیل مشکل ہی سے سمجھ آئے گا۔ ہم رسمی سفارتی بیانات ہی کو عملی اور ٹھوس حمایت سمجھ بیٹھتے ہیں، حالاں کہ بڑی طاقتوں کے درمیان پسِ پردہ بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے۔
اُدھر، چین اور ایران کے باہمی تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔ ایران پر تیل فروخت کرنے کے ضمن میں پابندیاں عاید ہیں، لیکن چین اُس سے امریکی اور یورپی ناراضی کے باوجود تیل خریدتا ہے۔ ایران کی تیل کی کُل برآمدات کا 80 فی صد چین خریدتا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے چین بُری طرح متاثر ہوا، کیوں کہ وہ سعودی عرب سے بھی بڑی مقدار میں تیل حاصل کرتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ پیچیدگیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، اِسی لیے عام آدمی کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سا قدم، کس مُلک کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ ہوگا۔
چین نے سیاسی طور پر ایران کی بھرپور حمایت کی، اُس کی جانب سے بار بار جنگ بندی کے لیے بیانات آتے رہے اور مذاکرات پر زور دیا جاتا رہا۔ جنگ کے دوسرے ہفتے اُس کا بیان آیا کہ ایران، عراق اور لبنان وغیرہ کی خوف ناک صُورتِ حال کے پیشِ نظر وہ انسانی ہم دردی کی بنیاد پر امداد دینے کے لیے تیار ہے، جیسے خوراک، ادویہ، خیمے، کمبل، پینے کا پانی وغیرہ۔ چین، غالباً وہ پہلا مُلک تھا، جس نے ہتھیاروں اور سیاست کے علاوہ عوام کی بدترین مشکلات کی طرف توجّہ دلائی۔ ہم غزہ میں یہ صُورتِ حال دیکھ چُکے۔
چین نے سلامتی کاؤنسل میں ایران کا ساتھ دیا، تاہم اُس نے قرارداد ویٹو نہیں کی۔ ظاہر ہے، اُس کے عرب ممالک سے بھی بہت اچھے تعلقات ہیں۔وہ نہ صرف وہاں سے تیل لیتا ہے، بلکہ بڑی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ صدر شی جن پنگ کی ذاتی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ چین کسی جنگ میں اُلجھے بغیر چاہتا ہے کہ کسی طرح یہ تنازع پُرامن طور پر حل ہوجائے۔ چین کے اسرائیل سے بھی اچھے تعلقات ہیں، دونوں فوجی اور تیکنیکی سطح پر اہم پارٹنرز ہیں۔ اِس پورے منظر نامے میں صُورتِ حال کی پیچیدگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
یورپ نے امریکا کے ساتھ مل کر جنگ میں اُس طرح حصّہ نہیں لیا، جیسے پہلے لیتا تھا۔ برطانیہ نے، جو اس کا قریبی پارٹنر تھا، شروع میں اپنے بیسز بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، البتہ بعد میں امریکی جہازوں نے برطانوی اڈّے استعمال کیے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی اور دوسرے ممالک نے، جو نیٹو میں امریکا کے ساتھ ہیں، ایران کے خلاف جنگ میں حصّہ نہیں لیا۔ جرمنی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ نیٹو کی جنگ نہیں۔
تاہم، نیٹو ممالک کی انٹیلی جینس شیئرنگ اور سمندری فوجی جہازوں کی آمدورفت نے امریکی بحری بیڑوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی۔ یورپی ممالک کی امریکا سے دُوری کی کئی وجوہ ہیں۔ جیسے ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف لگانا اور یوکرین کے معاملے میں صدر پیوٹن سے مذاکرات میں اُنہیں شامل نہ کرنا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ صدر ٹرمپ نے اُنہیں مجبور کیا کہ وہ نیٹو کے دفاعی بجٹ میں پانچ فی صد حصّہ ڈالیں۔
اِس سے قبل اُن ممالک کا دفاع امریکا مفت میں کرتا تھا۔ پھر گرین لینڈ پر بھی ٹرمپ کے بیانات نے یورپ کو ناراض کیا۔ کینیڈا ٹیرف، سرحدی پابندیوں اور ٹرمپ کے تندوتیز بیانات کی وجہ سے ناراض ہے۔ اِن حالات میں یورپ نے امریکا اور اسرائیل کا کُھل کر ساتھ نہیں دیا۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ جتنی یورپ، خاص طور پر برطانیہ اور فرانس، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست سمجھتے ہیں، شاید اِتنا علم امریکا کو نہیں ہے، کیوں کہ آج جو مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ ہمارے سامنے ہے، وہ فرانس اور برطانیہ کے ہاتھوں کھینچی گئی لکیروں سے وجود میں آیا۔
اسرائیل کا وجود بھی انہی کا مرہونِ منّت ہے۔ ایران میں تیل برطانیہ نے نکالا، تو سعودی عرب اور قطر میں امریکا نے۔ ماضی میں بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان جو نیوکلیئر ڈیل ہوئی، اُس میں یورپ نے بھرپور کردار ادا کیا تھا، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ایران، یورپ کے بھروسے ہی پر اُس ڈیل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کام یاب رہا۔
امریکا کی جانب سے ڈیل کو خیرباد کہنے کے بعد بھی یورپ کوشش کرتا رہا کہ ڈیل بحال ہوجائے، لیکن جب ایٹمی ایجینسی کی طرف سے یہ خبریں آنے لگیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ہے، تب اُنہوں نے ایران پر اسنیپ بیک پابندیاں لگائیں، جس کے نتیجے میں ایران کی گرتی معیشت بالکل ہی بیٹھ گئی اور ریال کی قدر14 لاکھ ریال فی ڈالر تک گرگئی۔
منہگائی کی وہ لہر آئی، جس کے باعث وہاں دو ماہ قبل خون ریز احتجاج ہوا، جس میں خُود رہبرِ اعلیٰ نے کہا کہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، گو، اُنہوں نے عوام کو اکسانے کا الزام امریکا اور ٹرمپ پر لگایا۔ یورپ بھی تنازعے کا پُرامن تصفیہ چاہتا ہے، تاہم اُس کے لیے اسرائیل اور امریکا کی مخالفت ممکن نہیں۔
بھارت ایک بڑا مُلک ہے اور اس کے ایران سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ وہاں کا چابہار پورٹ بھارت ہی نے تعمیر کیا اور وہ شاہ راہ بھی، جو پورٹ سے کابل تک جاتی ہے۔ یہ معاہدہ صدر حسن روحانی، حامد کرزئی اور مودی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ شاید ہی کوئی ایرانی صدر ہو، جس نے بھارت کے طویل دورے نہ کیے ہوں۔ چابہار پورٹ بھارت کو وسط ایشیا تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ایران نے یہ بندرگاہ پچیس سال کے لیے بھارت کو دی تھی، لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے مودی پیچھے ہٹ گئے۔
گزشتہ دنوں جنگ کے دوران ایران کا جو جہاز سری لنکا کے قریب ڈوبا، وہ بھی بھارت کے ساتھ مشقیں کرکے واپس جارہا تھا۔ بھارت، چین کے بعد ایران کا سب سے زیادہ تیل بھی خریدتا رہا۔ جو تین جہاز ایرانی بندش کے باوجود سب سے پہلے آبنائے ہرمز سے گزرے، اُن میں ایک بھارتی جہاز بھی تھا۔ اِسی طرح بھارت کے اسرائیل سے بھی بہت قریبی تعلقات ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے ایک روز قبل مودی، اسرائیل کے دورے پر تھے۔
بھارت، اسرائیل سے فضائی دفاعی نظام بھی خرید چُکا ہے، جس میں روس نے اُس کی مدد کی۔ دوسری طرف، امریکا سے بھی بھارت کے قریبی تعلقات ہیں اور دونوں کئی معاہدوں میں شامل ہے۔ بھارت نے ایران، اسرائیل اور امریکا سے اچھے تعلقات کے باوجود جنگ بند کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی، کم ازکم ریکارڈ پر تو ایسی کوئی کوشش موجود نہیں ہے۔ وجہ ظاہر ہے، اس کے عرب دنیا سے بھی بہت اچھے تعلقات ہیں، جو بڑے پیمانے پر بھارت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
عرب ممالک میں روزگار کے لیے جانے والوں میں سب سے زیادہ آبادی بھارتیوں کی ہے۔ وہ ایران کی اُن پر بم باری قبول نہیں کرسکتا۔ جنوب مشرقی ایشیا کے تقریباً تمام ممالک عرب دنیا سے تیل خریدتے ہیں، جو آبنائے ہرمز کی بندش سے بُری طرح متاثر ہوئے۔ جاپان جیسے معاشی طور پر مضبوط مُلک کو بھی حالات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پڑے۔ یہ ساری صُورتِ حال خطّے میں کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا کررہی ہیں اور آنے والے وقت میں اس کے معاشی و سیاسی اثرات دنیا کے لیے مزید تباہ کُن ہوسکتے ہیں۔