ایران جنگ نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان انتہائی اہمیت کا حامل خطّہ ہے، خاص طور پر جب سے یہاں تیل دریافت ہوا، یہ صرف علاقے ہی نہیں، دنیا بھر کی معیشت میں اہمیت اختیار کر گیا۔ اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے، تو مشرقِ وسطیٰ کے اثرات ہمیشہ ہمہ گیر رہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں بھی یہ اہم وار تھیٹر رہا، لیکن اِس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ تیل کی دریافت نے اس کی معاشی اہمیت میں وہ اضافہ کیا، جس کی مثال جدید دنیا میں مشکل ہی سے ملے گی۔
جدید دنیا کی صنعتی ترقّی اور آمد و رفت کا دارومدار تیل ہی پر تھا۔ایک زمانے تک سعودی عرب، ایران، قطر، کویت، لیبیا اور عراق تیل کا مراکز تھے۔ گو، اب صُورتِ حال تبدیل ہوچُکی کہ روس، وسط ایشیا اور امریکا میں بھی بڑی مقدار میں تیل دریافت ہوا ہے۔ اِسی طرح برطانیہ اور یورپ کا انحصار بھی مِڈل ایسٹ کے تیل پر کم ہوا ہے، لیکن ایشیائی ممالک کے تیل کا زیادہ دارو مدار اب بھی عرب ممالک کے تیل ہی پر ہے اور اِس میں کسی بھی قسم کی کمی یا رکاوٹ ان کے لیے بحران کا سبب بنتی ہے۔
چین جیسے ترقّی یافتہ مُلک کا زیادہ تر تیل عرب ممالک ہی سے آتا ہے۔یہی حال جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر جاپان تک کا ہے۔ پاکستان میں تو سب ہی نے ایران جنگ کے بعد توانائی کے مسائل دیکھ لیے ہیں۔ معاملہ صرف جنگ ہی تک محدود نہیں، بلکہ اگر کبھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے باہمی تعلقات خراب ہوجائیں یا کسی مُلک میں اندرونی شورش پیدا ہو جائے، تب بھی دنیا بھر کی توجّہ اس طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف، اوپیک جیسی تنظیموں کا تیل کی پیداوار گھٹانا، بڑھانا بھی شدید مسائل کا سبب بنتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہاں اِتنی تبدیلیاں آئیں کہ شاید ہی کسی اور خطّے میں آئی ہوں۔ اسرائیل کا قیام اور فلسطینیوں کا اپنی سرزمین سے محروم ہونا، خطّے کا ایسا سانحہ ہے، جس کے نتائج آج تک نہ صرف مظلوم فلسطینی بُھگت رہے ہیں، بلکہ پورا خطّہ اور دنیا بھی اس کی لپیٹ میں آگئی۔ اِسی معاملے پر چار عرب، اسرائیل جنگیں ہوئیں، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ لبنان و شام کی خانہ جنگیاں اور عراق و یمن کی لڑائیاں بھی اِس خطّے کی تاریخ کے اہم ابواب ہیں۔
اس خطّے میں سوویت یونین اور مغربی مفادات نے شدید تقسیم پیدا کی اور یہاں کے ممالک دو حصّوں میں بٹ گئے۔ ایک وہ جو تیل کی دولت اور بادشاہتوں پر مشتمل تھے اور دوسرے وہ، جو سوویت یونین کی سوشلسٹ پالیسی کے حامی تھے۔ یہ کش مکش اُس وقت تک چلتی رہی، جب تک سرد جنگ جاری رہی۔
پھر کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا اور صُورتِ حال میں بظاہر تبدیلی آئی، لیکن یہ تبدیلی، جیسا کہ اُمید کی جارہی تھی، دیرپا ثابت نہیں ہوئی اور تناؤ جاری رہا۔ ایران، اسرائیل جنگیں اور ملیشیاز کا کردار اِس خطے میں مشکلات کا باعث رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی ایک اور وجہ سرحدی معاملات بھی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ جیو پولیٹیکل طور پر اُس علاقے کو کہتے ہیں، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین، اومان، مصر، عراق، شام، ایران، تُرکیہ، لبنان اور اسرائیل شامل ہیں۔ یہ اپنے تیل کی وجہ سے دنیا کے امیر ترین خطّوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں پیٹرو ڈالر یہاں کی دولت کے اظہار کی علامت تھی، یعنی وہ ڈالر، جو تیل کی فروخت سے حاصل کیے جائیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک کا تعلق عرب دنیا سے ہے۔
جدید ریاستوں میں تبدیل ہونے سے پہلے یہ علاقہ عثمانی تُرک خلافت کا حصّہ تھا۔ یہ کئی سمندروں سے گِھرا ہوا ہے۔ بحرِ ہند، جو اس کا اہم ترین سمندر ہے، اسے ایک طرف جنوب مشرقی ایشیا، چین اور امریکی برّ ِاعظم سے ملاتا ہے، تو دوسری طرف، بحرِ احمر، بحیرۂ عرب اور بحرِ روم اسے یورپ اور ایشیا کے لیے راہ داری فراہم کرتے ہیں۔ اِس خطّے کی اہم بندر گاہیں اِن ہی سمندروں کے کنارے واقع ہیں۔ دنیا کی اہم ترین آبی گزر گاہیں، جن کی اسٹریٹیجک اہمیت غیر معمولی ہے، آبنائے ہرمز، آبنائے عدن اور سوئز کینال اِسی خطّے میں موجود ہیں۔
آج کل آبنائے ہرمز کا بہت ذکر ہو رہا ہے، لیکن اِس سے قبل سوئز کینال عالمی اہمیت کی حامل تھی اور چار عرب، اسرائیل جنگیں اُسی کے گرد گھومتی رہیں۔ سوئز کینال قدرتی نہیں، بلکہ اسے انسانی ہاتھوں نے ڈیزائن کیا تھا، جس کی قیادت ایک فرانسیسی انجینئیر نے کی تھی۔ اِس نہر کا مقصد مِڈل ایسٹ اور یورپ کو بحرِ ہند اور بحرِ روم کے اِس آبی راستے سے جوڑ نا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہزاروں برسوں پر محیط ہے اور اسے تہذیبوں کا گھر بھی کہا جاتا ہے، اِسی لیے یہ ہر قوم اور مذاہب کے لیے اہم بھی ہے اور محترم بھی۔
یہ پیغمبروں کی سرزمین ہے۔ اسلام نے عرب سے جنم لیا اور ساری دنیا میں پھیل گیا۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے، جب کہ ایران اور کویت بھی بڑی مقدار میں تیل پیدا کرتے ہیں۔ خطّے میں جدید تبدیلیاں اِسی تیل کی وجہ سے آئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کی ریاستیں، جدید ترین مملکتوں میں بدل گئیں۔
وہ جدید شہر آباد ہوئے، جو نہ صرف جدید اور کمرشل حب ہیں، بلکہ کروڑ ہا افراد کا روزگار بھی اُن سے وابستہ ہے۔ یہاں سے بھجوایا گیا زرِمبادلہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی معیشت کا سہارا بنتا ہے۔ پھر سوال تو بنتا ہے کہ اِتنی دولت، خوش حالی اور عالمی اہمیت کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں اِس قدر عدم استحکام کیوں ہے؟
مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے ممالک کی سرحدیں جن بنیادوں پر کھینچی گئیں، اُن کا موجودہ عدم استحکام سے گہرا تعلق ہے۔ یہ سرحدیں زیادہ تر یورپی طاقتوں نے بنائیں، جن میں اُس زمانے کی دو عالمی طاقتوں برطانیہ اور فرانس نے بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت بڑی عجیب لگے گی کہ اِن طاقتوں کے درمیان آپس میں تو کشمکش رہی، علاقائی جنگوں میں ایک دوسرے کے خلاف حصّہ لیتے رہے، جیسے ہندوستان میں فرانس، برطانیہ اور پرتگال کی باہمی لڑائیاں، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں اِنہوں نے مِل جُل کر فیصلے کیے۔
اس کی وجہ بھی تیل ہے، جو اِن ممالک نے ایک دوسرے کے تعاون سے نکالا۔ مشرقِ وسطیٰ میں تیل نکالنے میں اِن ممالک کے ساتھ، امریکی کمپنیز کا بھی بڑا ہاتھ رہا۔ انہوں نے پہلے اِن ممالک سے سودے بازی اور معاہدے کیے، پھر تیل نکالنے کا انفرا اسٹرکچر کھڑا کیا اور ایک عرصے تک یہ کمپنیز اس تیل کی سب سے بڑی حصّے دار بھی تھیں۔ ان میں برطانیہ کی برٹش پیٹرولیم، جس نے ایران میں تیل نکالا اور امریکا کی آرامکو نمایاں ہے، جس نے سعودی عرب میں تیل دریافت کیا۔
اب اِس معاملے میں ایک طرف تو اِن ممالک کی چالاکی تھی کہ اُنہوں نے تیل کی بنیاد پر یہاں اپنی اجارہ داری قائم کر لی، وہیں خطّے کے ممالک کی یہ کم زوری رہی کہ اُنہوں نے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی بالکل نظر انداز کر رکھی تھی۔ یہ عثمانی خلافت کا حصّہ تھے، جو اپنے زمانے کی سُپر پاور تھی اور یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا پر اُس کی حکومت تھی، لیکن جب یورپ میں جدید علوم کا احیاء ہوا، تو تُرک حُکم رانوں نے یورپ کا حصّہ ہونے کے باوجود، اپنی سلطنت میں اِن علوم کا گزر بھی نہ ہونے دیا۔
یورپی ممالک ہر میدان میں آگے بڑھتے رہے اور اِسی علم یا ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا پر حاوی ہونے لگے۔ سوویت یونین نے، جو کمیونسٹ ریاست تھی، اِن جدید علوم سے فائدہ اُٹھایا، لیکن مسلم دنیا کو جب ہوش آیا، امریکا اور یورپ بہت آگے نکل چُکے تھے۔ مسلم دنیا اُس وقت بھی پس ماندہ تھی اور آج بھی ہے، لیکن کوئی اِس پر غور کرنے پر آمادہ نہیں۔ بس سازشوں اور مَن گھڑت نظریات کے ذریعے اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب علم ہو، نہ ٹیکنالوجی، تو پھر زیرِ زمین خواہ کتنا ہی تیل کیوں نہ ہو، کیسے نکالیں گے؟
جو نکالے گا، وہ اپنی شرائط بھی منوائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ تیل انڈسٹری کی حفاظت کے لیے جدید فوجی اڈّے بھی چاہیے تھے، جو انہی مغربی ممالک کے پاس تھے، اِسی لیے اُس زمانے میں ایران سمیت تمام مسلم ممالک مغربی فوجی معاہدوں میں بندھے ہوئے تھے۔ یہ جو فوجی اڈّے آج عرب ممالک میں نظر آتے ہیں، اِن کا آغاز اِسی تیل کی وجہ سے ہوا تھا۔ جب مغربی ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں تیل دریافت کیا، تو اُنہوں نے یہ بنیادی پالیسی بنائی کہ اس پر اُن کی اجارہ داری قائم رہے۔
عالمی جنگ سے پہلے یہ خطّہ تُرکی، عراق، شام، فلسطین، لبنان اور اُردن میں بٹا ہوا تھا اور عثمانی حکومت کا حصّہ تھا۔جب عثمانی حکومت کو جنگ میں شکست ہوئی، تو 1916ء میں برطانیہ اور فرانس نے ایک خفیہ معاہدے کے تحت خطّے کو آپس میں تقسیم کرلیا۔ یہ معاہدہ دو سفارت کاروں کے نام رہا۔ مارک اسکائی کا تعلق برطانیہ سے تھا، جب کہ جارج پکاٹ فرانس سے تعلق رکھتے تھے۔ اِسی لیے اِس معاہدے کو’’اسکائی پکاٹ معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِن دونوں نے نقشے پر لائنز کھینچ کر علاقہ تقسیم کردیا۔ یوں عراق، اردن اور فلسطین کے علاقے برطانیہ، جب کہ شام اور لبنان کا علاقہ فرانس کو مل گیا۔ برطانیہ اور فرانس اِن ممالک کے ’’نگران‘‘قرار پائے۔
گویا، اِن ممالک کی تعمیر ہی میں خرابی مضمر تھی اور یہی اصل عدم استحکام کی جڑ بنی۔ یہ ممالک کی تقسیم کے وقت اُن بنیادی باتوں کا خیال نہیں رکھا گیا، جو عثمانی خلافت میں موجود تھیں کہ اُس دور میں یہاں بہت کم شورش اور کشمکش دیکھنے میں آئی۔ ایک تو یہ کہ قبائل اور مذہبی گروہوں کے معاملات نظر انداز کردیئے گئے۔ مختلف اور متضاد گروہوں کو ایک ہی مُلک میں شامل کردیا گیا۔جیسے عراق میں شیعہ، سنّی اور کُرد۔ لبنان میں سنّی، عیسائی، دروز اور شیعہ۔ کئی سرحدیں صرف لائن کی سیدھ کی وجہ سے بنائی گئیں، جن کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پھر یہاں قوم پرستی کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا یا اُسے ہوا دی گئی۔ یہ قوم پرستی کئی تنازعات کی بنیاد بنی، جن میں فلسطین کا مسئلہ بھی شامل ہیں، جہاں زبردستی اسرائیلی ریاست قائم کر کے اصل باشندوں، یعنی فلسطینیوں کو بے گھر کردیا گیا۔ پھر مشرقِ وسطیٰ تیل کی دریافت کے بعد دو حصّوں میں تقسیم ہوگیا۔ تیل کی حامل عرب ریاستیں، جہاں بادشاہتیں ہیں، جیسے سعودی عرب، کویت، یو اے ای، بحرین، قطر اور اومان، جب کہ دوسری طرف سوشلسٹ حکومتیں تھیں، جن میں مصر، شام، عراق اور لیبیا شامل ہیں۔
عرب بادشاہتوں میں زیادہ تر عرب ہی مقیم ہیں، اِس لیے وہاں نسلی اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا نہیں ہوتے، پھر یہ کہ تیل کی دولت جو خوش حالی لائی، اُس نے وہاں جلد ہی ترقّی کی جدید صُورت اختیار کر لی اور عوام بڑی حد تک مطمئن ہوگئے۔ نیز، اِن ممالک کی آبادی بھی کم تھی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے خوش حال ممالک میں بھی شامل ہوگئے۔ دوسری طرف مصر، شام، عراق اور لبنان میں ایک طرف تو آبادی کے درمیان فرق تھا، پھر فوجی انقلابات کے ذریعے آنے والی لیڈر شپ نے(جیسے مصر میں ناصر، شام میں حافظ الاسد اور عراق میں صدام حسین) بدترین ڈکٹیٹر شپ قائم کی اور چالیس، چالیس سال عوام پر مسلّط رہے۔
لبنان میں حکومتی نظام چلانے کے لیے آئین میں مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر عہدے تقسیم کیے گئے، مگر یہ تجربہ بھی اب تک کام یاب نہیں ہوسکا۔ اِس مُلک نے بدترین خانہ جنگی دیکھی۔ ایران میں پہلے بادشاہت تھی، پھر انقلاب کے بعد ایک مذہبی نظریاتی حکومت قائم ہوئی، جس کی اپنی پالیسیز ہیں۔ شام کی خانہ جنگی میں اس کا کردار اور اس کی ملیشیاز کا حصّہ لینا، عرب/ایران تنازعے کا سبب بنا۔
بہرکیف، اِن تمام عوامل نے مشرقِ وسطیٰ کو بہت سی سمتوں میں تقسیم کر دیا۔ یہاں اندرونِ مُلک انقلابات آتے رہے اور طرزِ حکومت کے سبب بیرونی دنیا سے بھی مسلسل کشمکش جاری رہی۔ ظاہر ہے، ایسے حالات میں بیرونی طاقتوں کو موقع ملتا رہا کہ وہ اپنے مفادات کے تحت یہاں کوئی ہم آہنگی پیدا نہ ہونے دیں اور اُنھوں نے اِس سے بھرپور فائدہ بھی اُٹھایا۔
سرد جنگ کے زمانے میں عرب سوشلسٹ ممالک، سوویت یونین کے ساتھ تھے، جب کہ بادشاہتیں امریکا اور یورپ کی حلیف تھیں۔ اگر اِن ممالک میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کے فوجی اڈّے قائم تھے، تو دوسری طرف سوویت یونین کے بھی اپنے حلیف ممالک میں فوجی مراکز موجود تھے۔ یہ سیاسی پیٹرن اُس وقت تک زوروں پر رہا، جب تک چوتھی، عرب اسرائیل جنگ کے بعد کیمپ ڈیوڈ مذاکرات نہیں ہوئے اور پھر مصر نے پہل کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل سے دوستی کرلی۔
یاد رہے، اُس زمانے میں مصر، مشرقِ وسطیٰ کا اہم ترین مُلک مانا جاتا تھا۔ انقلابات اور بار بار حُکم رانوں کی تبدیلی نے عرب سوشلسٹ ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیے رکھا۔ ایسے میں خطّے کی قیادت اور اثر و رسوخ اِن سوشلسٹ ممالک کے ہاتھوں سے نکل کر اُن ممالک کی طرف چلا گیا، جنہیں آج خلیجی ممالک کہا جاتا ہے اور جن کی قیادت سعودی عرب کے پاس ہے۔ یہ تمام تیل پیدا کرنے والے خوش حال ممالک ہیں۔
سرد جنگ تک تو سوویت یونین کے خطّے پر اثرات نمایاں تھے، لیکن یونین کے بکھرنے کے بعد یہ معاملہ نہ رہا۔ اس نے آخری بار شام میں بم باری کے ذریعے فوجی مداخلت کی، بشارالاسد کا ساتھ دیا، لیکن آخر کار شام میں نئی حکومت قائم ہوئی اور روس کا آخری اڈّا، جو شام میں تھا، ختم ہوگیا۔ ایران، انقلاب سے پہلے’’مشرقِ وسطیٰ کا پولیس مین‘‘ کہلاتا تھا۔ یہ امریکا اور یورپی ممالک کا اہم حلیف تھا، لیکن انقلاب کے بعد صُورتِ حال یک سر بدل گئی۔
اِس کی اسرائیل اور امریکا سے براہِ راست دشمنی ہوگئی، جو اِس قدر بڑھی کہ ہر وقت کشمکش رہنے لگی۔ عالمی طاقتوں نے الزام لگایا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے اور پھر ایران پر اقتصادی پابندیاں لگنی شروع ہوگئیں، جن کی وجہ سے اس کی معیشت روز بہ روز کم زور ہوتی چلی گئی۔ صدر روحانی کے دَور میں مفاہمت کی ایک کوشش نیوکلیئر ڈیل کی شکل میں سامنے آئی، لیکن ٹرمپ کے پہلے دَور میں یہ معاہدہ ختم ہوگیا، جس کے بعد صُورتِ حال بہت پیچیدہ ہوگئی اور یہی پیچیدگیاں اب باقاعدہ جنگ کی صُورت اختیار کر چُکی ہیں۔