• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینسے انیرا: لاطینی امریکا کی سیکڑوں برس قدیم، منفرد و حسین رسم

کولمبیا سینٹر، رِچ لینڈ میں ہماری رہائش گاہ، بیلاوِسٹا سے محض پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا اور ہمیں فارغ اوقات میں کبھی کبھار وہاں جانے کا موقع مل جاتا تھا۔ ایک روز بیٹی کے ہم راہ سڑک سے گزرتے ہوئے ایک دُکان میں مشرقی و مغربی طرز کے سفید و سُرخ رنگ کے چھوٹے چھوٹے عروسی ملبوسات نظر آئے، تو کچھ اچنبھا سا ہوا۔

ہمارے پوچھنے پر بیٹی نے بتایا کہ امریکا میں مقیم لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے باشندے اپنی بچیوں کے سنِ بلوغت تک پہنچنے پر ’’کینسے انیرا‘‘ (Quinceanera) نامی رسم مناتے ہیں اور یہ لباس اُسی رسم کے لیے تیار کیےجاتے ہیں۔

ہمیں یہ بات خاصی دل چسپ محسوس ہوئی، تو تجسّس کے ہاتھوں اِس سے متعلق مزید تحقیق کا فیصلہ کیا اور دورانِ تحقیق پتاچلا کہ لاطینی امریکا اور ہسپانوی باشندے لڑکیوں کے 15برس کی عُمر کو پہنچنے پر جَشن مناتے ہیں۔ یہ رسم قدیم ’’ایزٹک‘‘ اور’’مایا‘‘ تہذیبوں سے جُڑی ہوئی ہے، جس میں بعدازاں ہسپانوی نو آبادیاتی اثرات کے تحت کیتھولک چرچ کی رسومات کا رنگ بھی شامل ہوگیا۔

ہسپانوی اور لاطینی امریکا کے معاشروں میں لڑکیوں کے اپنی زندگی کے پندرہویں برس میں داخل ہونے پر ’’کینسے انیرا‘‘ نامی ایک رسم یا تقریب منعقد کی جاتی ہے اور اس تقریب کی ’’ملکہ‘‘ کو ’’لا کینسے انیرا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم لڑکی کے بچپن سےجوانی کی طرف قدم بڑھانے کی علامت ہوتی ہے اوراس کے کچھ سماجی و روحانی پہلو ہیں۔

ہر چند کہ یہ رسم لاطینی امریکا کے مختلف ممالک میں منائی جاتی ہے، لیکن اس ضمن میں، سب سے مضبوط روایات کا حامل میکسیکو ہے، جہاں عام طور پر اس تقریب کے موقعے پر چرچ میں دُعائیہ عبادات اور پھر شان داراستقبالیے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لاطینی امریکا میں کئی ماہ قبل ہی ’’کینسے انیرا‘‘ کی تیاریوں کا آغاز ہوجاتا ہے اور لڑکی کے لیے نیا لباس، گاؤن اور جوتےخریدنے کے علاوہ کیک، موسیقی اور ڈانس کی محفل کے انتظامات مکمل کیے جاتے ہیں۔

کولمبیا، وینزویلا اور پیرو میں جَشن کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ لڑکی آکر تمام مہمانوں کے ساتھ کھڑے ہوجاتی ہے اور پھر رقص کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر جوتے تبدیل کرنے کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے۔ کیوبا میں یہ تقریب نسبتاً سادگی سے منائی جاتی ہے، جس میں لڑکی کے دوست بھی شامل ہوتے ہیں۔

ڈومینیکن ری پبلک میں یہ رِیت عبادت سے شروع ہوکر رقص پر ختم ہوتی ہے، جب کہ ارجنٹینیا، یوراگوئے اور پیراگوئے میں کینسے انیرا کو "fiesta de quince" بھی کہا جاتا ہے اور یہاں بھی مہمانوں کی آمد، گُل دستے اور رقص اس تقریب کے بنیادی جزو ہیں۔

وسطی امریکا کے کچھ ممالک جیسا کہ گوئٹے مالا اور ایل سلواڈور میں رسم کی ادائی کے بعد لڑکی کو بطور جَشن سفر یا اپنی کوئی پسندیدہ سرگرمی کرنےکی اجازت دی جاتی ہے۔ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں مقیم لاطینی خاندان بھی اس رسم کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں کہ یہ اُن کی ثقافتی شناخت اور خاندانی تعلقات زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے، جب کہ بعض خاندان اس رسم کے موقعے پر کھینچی گئی تصاویر اور ویڈیوز نسلوں تک محفوظ رکھتے ہیں۔

’’کینسے انیرا‘‘ کی تقریب میں چند کلیدی رسمیں شامل ہوتی ہیں۔ لڑکی عروسی لباس اور سَر پر تاج پہنے اور ہاتھوں میں گلِ داؤدی لیے والدین اور جوڑوں کے ساتھ، جن کی تعداد عام طور پر 14 ہوتی ہے، چرچ میں داخل ہوتی ہے۔ اُس روز لڑکی کے دن کا آغازچرچ کی خاموش فضا میں ہوتا ہے۔ موم بتیوں کی روشنی اور دُعاؤں کے درمیان ’’لا کینسے انیرا‘‘ اپنے والدین کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ 

لڑکی کا سفید یا ہلکے رنگ کا لباس خُوب صُورتی کے علاوہ پاکیزگی اور نئے آغاز کی علامت بھی ہوتا ہے۔ دُعائیہ عبادت میں لڑکی 15سال کی عُمر کو پہنچنے پر خدا کا شکر ادا کرتی ہے اور رہنمائی کی دُعا مانگتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا پہلا رقص ( Vals de Quinceanera) ، جو ’’والٹ‘‘ ( Waltz ) رقص ہوتا ہے، اپنے والد یا والدہ کے سنگ کرتی ہے، جو رشتوں میں مضبوط تعلق اور اعتماد کی علامت ہوتا ہے۔

اس کے بعد ’’جوتا تبدیلی‘‘ کی رسم ہوتی ہے، جس میں لڑکی کو اُس کے والد یا والدہ اُونچی ایڑی والے جوتے پہناتے ہیں۔ بعض مقامات پرایک گڑیا جسے ’’The Last Doll‘‘ یا ’’Ultima Muneca‘‘ کہا جاتا ہے، کسی چھوٹی رشتےدار بچّی کو دی جاتی ہے اور یہ عمل بچپن کےاختتام کی علامت ہوتا ہے۔ چرچ میں دُعائیہ تقریب کےبعد استقبالیہ تقریب یا جَشن کا آغاز ہوتا ہے۔ 

اس موقعے پر روشنیوں سے سجا ہال، دھیمی موسیقی اور مہمانوں کی مسکراہٹیں تقریب کو زندگی بَھر کے لیے یادگار بنا دیتی ہیں۔ جَشن میں لڑکی کے خاندان کےافراد کےعلاوہ رشتے دار اور دوست احباب بھی شریک ہوتے ہیں۔ جَشن کا باقاعدہ افتتاح باپ اور بیٹی کے رقص سے ہوتا ہے، جو اُس دن کا اہم ترین لمحہ ہوتا ہے۔

’’کینسے انیرا‘‘ کے لباس کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ روایتی طور پر سفید یا ہلکے رنگ کا گاؤن پاکیزگی اور نئے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ جدید دَور میں شوخ رنگ اور منفرد ڈیزائنز کے ملبوسات بھی مقبول ہیں، جو روایت کو نئے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یاد رہے، ’’کینسے انیرا‘‘ صرف ایک لڑکی کا ذاتی جشن نہیں، بلکہ پورے خاندان کی اجتماعی خوشی ہوتی ہے، جس کی تیاری اکثر مہینوں پہلے شروع ہو جاتی ہے۔

لباس کے انتخاب، مہمانوں کی فہرست کی تیاری اور دیگر انتظامات میں خاندان کےتمام افراد شریک ہوتے ہیں، جس سےخاندانی تعلقات مضبوط ہوتے اور خُوب صُورت یادیں وجود میں آتی ہیں۔ جدید دَور میں ’’کینسے انیرا‘‘ کے کچھ نئے اور دل چسپ رجحانات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکا کے شہر، ہیوسٹن میں 25اکتوبر 2025ء کو منعقد ہونے والی تقریب، ’’Quince to the Polls ‘‘ نے روایتی پندرہویں سال گرہ کو سماجی وسیاسی شعور کے فروغ کےلیے استعمال کیا۔

اس تقریب میں نوجوان لڑکیاں اپنے اپنے ’’کینسے انیرا‘‘ کے مخصوص لباس میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے ووٹر رجسٹریشن کی سرگرمیوں میں حصّہ لیا اور میوزک سمیت دیگر خدمات فراہم کرنے والے افراد کی مدد کی، تاکہ لاطینی لڑکیوں میں حقِ رائے دہی اور دیگر شہری فرائض کی ادائی کے جذبے کو پروان چڑھایا جا سکے۔

اسی طرح کولمبیا میں اُن عُمر رسیدہ خواتین کے لیے، جو بچپن میں کسی وجہ سے یہ جَشن نہیں منا پائیں، ’’سینئر کینسے انیرا‘‘ کی تقریب منعقد کی گئی، تاکہ وہ اپنی ماضی کی محرومی کا ازالہ کرسکیں۔

مجموعی طور پر یہ رسم نہ صرف لڑکیوں کو ثقافت اور تاریخ کا علم دیتی ہے، بلکہ انہیں اپنی ذمّے داریوں، تعلقات اورسماجی شناخت سے متعلق سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ یاد رہے، عُمر کا یہ عدد اُس وقت ہی بامعنی بنتا ہے کہ جب اسے تہذیبی شعور، اخلاقی اقدار اور اجتماعی ذمّے داری کے ساتھ جوڑا جائے۔

سنڈے میگزین سے مزید