• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موبائل فون کی پُرفریب دنیا اور بے روح خوشیاں

عہدِ حاضر میں زندگی کی رفتار انتہائی تیز ہو چُکی ہے۔ لوگ ہمہ وقت مسابقت اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ وقت ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے اور ہم سب اس ریس میں کہیں نہ کہیں اپنے وجود، احساسات، یہاں تک کہ اپنی سوچ کو بھی پچھاڑتے چلے جارہے ہیں اوراس تمام تر صُورتِ حال کا سبب ایک ایسا آلہ ہے، جو ہمیں دوسروں سے جوڑتا بھی ہے اور شکستگی کے عالم میں تنہا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ یہ آلہ چند انچ کا موبائل فون ہے، جو بظاہر تو ہماری ضرورت ہے، لیکن درحقیقت ہم اس کا ایندھن بن چُکے ہیں۔

ہم میں سے ہرایک کےذہن میں یہ سوالات کبھی نہ کبھی ضرور جنم لیتے ہوں گے کہ ہم اپنے موبائل فون سے ایک لمحہ بھی دُور کیوں نہیں رہ پاتے، کیوں ہمہ وقت اِسے ہاتھ میں تھامے رکھنا ہماری فطرتِ ثانیہ بنتی جا رہی ہے؟ ہم کیوں ہر چند لمحے بعد بے چین ہو کر موبائل فون کی اسکرین کی جانب دیکھتے ہیں کہ کہیں کسی اہم پیغام، نوٹی فیکیشن، ویڈیو، ٹرینڈ یا خبر سے محروم نہ رہ جائیں اور پھر جونہی موبائل فون کی اسکرین روشن ہوتی ہے، ایک اَن جانی سی راحت محسوس ہوتی ہے۔

یہ کیسا المیہ ہے کہ موبائل ہم سے کچھ دیر کے لیے بھی دُور ہو جائے، تو ہم بے چین و مضطرب ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت، ہم فوری تسکین کی لت میں مبتلا ہو چُکے ہیں اور یہ خوشی نہیں، بلکہ ایک فریب، دھوکا ہے، جب کہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اس دھوکے کو حقیقت سمجھ کر جیتے ہیں۔

سائنس بتاتی ہے کہ انسان کا دماغ کام یابی اور خوشی ملنےپرایک کیمیائی مادہ خارج کرتا ہے، جسے’’ڈوپامین‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی کھلاڑی اعصاب شکن مقابلے کے بعد آخری لمحے میں میچ جیتتا ہے، جب ایک طالبِ علم برسوں کی محنت کے بعد امتحان میں سُرخ رُو ہوتا ہے اور جب کوئی مزدور دِن بَھر کی محنت مشقّت کے بعد شام کو اپنی محنت کا معاوضہ وصول کرتا ہے، تو ڈوپامین کا اخراج ہی اُسےخوشی و تسکین بخشتا ہے، مگر آج موبائل فون کے سبب یہ کیمیکل کسی محنت کے بغیر ہی ہمارے دماغ سے خارج ہو رہا ہے۔

اسکرولنگ، لائیکس اور کمنٹس سے ہمیں اس قدر تسکین ملتی ہے، جیسے ہم نے بیٹھے بٹھائے ہی کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہو اور یہ احساس ہی غلامی کی ابتدا ہے۔ یاد رہے، جب کسی انسان کو کوئی کام کیے بغیر ہی فوری خوشی، تسکین ملنے لگتی ہے، تو وہ محنت کرنا ترک کردیتا ہے۔ اس کی توجّہ بٹ جاتی ہے، اعصاب کم زور پڑنے لگتے ہیں اور پھر وہ محنت کے بغیر حاصل ہونے والی فوری تسکین ہی کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔

ایسے میں انسان کو مطالعے میں دل چسپی محسوس ہوتی ہے اور نہ دوسروں سے بات چیت میں اور نہ ہی اسےقدرتی مناظر میں کوئی کشش دکھائی دیتی ہے۔ فوراً خوشی اور مسرّت حاصل کرنے کی دوڑ میں وہ اپنے مقصدِ تخلیق، ایمان اور شعور کی دولت سے دُور ہوتا چلا جاتا ہے۔

آپ محض ایک نظر کسی چائےکےہوٹل، پارک، گھر یا دفتر میں لوگوں کا جائزہ لے کے دیکھ لیں، اندازہ ہوگا کہ بیش تر افراد اردگرد سےیک سرغافل اپنے اپنے موبائل فونز میں گُم ہیں۔ گھروں میں والدین اور بچّے بظاہر تو ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہوتے ہیں، مگر اُن کا دل و دماغ موبائل فونز ہی میں اٹکا رہتا ہے۔ یعنی وہ جسمانی اعتبار سے تو ایک ساتھ ہیں، مگر اُن کا ایک دوسرے سے کوئی جذباتی تعلق نہیں رہ گیا۔ آج باہمی گفتگو کی جگہ وائس نوٹس اور ایموجیز نے لےلی ہے۔

 محبّت ڈبل ٹِک میں بدل گئی ہے۔ احساس اس بات میں سمٹ گیا کہ ریپلائی آیا یا نہیں۔ یاد رہے، یہ صرف سماجی تنہائی نہیں، ذہنی و رُوحانی تنہائی بھی ہے۔ قرآنِ پاک نے ہمیں تفکّر و تدبّر کا حُکم دیا ہے، مگر ہم نے اپنی تمام ترتوجّہ، ارتکاز ایک اسکرین کے سُپرد کردیا ہے۔ قدرت نےہمیں دماغ سوچنے سمجھنے کےلیےدیا،ہم نےاُسے اسکرولنگ کے حوالے کردیا۔

یہ حقیقت ہے کہ ہم جسمانی طور پر تو ایک جگہ موجود ہیں، مگر ہماری رُوحیں بھٹک رہی ہیں، ہماری نیندیں برباد ہو چُکی ہیں۔ متعدد سائنٹیفک ریسرچز میں یہ بات ثابت ہو چُکی ہے کہ اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی ہماری نیند متاثرکرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم رات بَھر جاگتے رہتے ہیں اور پھر بےدار ہوتے ہی ہماری نگاہیں موبائل فون کی متلاشی ہوتی ہیں۔ گویا آج موبائل فون ہمارے لیے آکسیجن کی حیثیت اختیار کرچُکا ہے، جس کے بغیر ہم ایک پَل بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔

یہ محض عادت نہیں، درحقیقت ہم اپنے اپنے موبائل فونز کے یرغمال بن چُکے ہیں اور یہ موبائل فونز کے زیرِاثر ہونے ہی کانتیجہ ہے کہ بیش تر افراد گھنٹوں ویڈیوز دیکھتے رہتے ہیں، مگر کتاب کا ایک صفحہ تک نہیں پڑھ پاتے۔ گھنٹوں موبائل فون پر ویڈیو گیمز کھیلتے رہیں گے، مگر کسی معاملے پر دس منٹ بھی غوروفکر نہیں کریں گے۔

ہر وقت موبائل فون میں گُم رہنا محض وقت کا زیاں نہیں، یہ ہماری ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کی موت بھی ہے اور اس کے نتیجے میں ہماری نئی نسل سوچنے کی بجائے دیکھنے، سمجھنے کی بجائے اندھی تقلید کرنے اور اخلاص کی بجائے دِکھاوے اور ریاکاری کی زندگی گزارنے کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔

یہ درست ہےکہ موبائل فون معلومات کی فراہمی اور روابط قائم کرنے سمیت دیگر کئی سہولتوں کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اگر کوئی سہولت عقل و شعور پرغلبہ پالے، تو وہ اذیت کاسبب بن جاتی ہے۔ نیز، معلومات کا سیلِ رواں بھی انسان کو حقیقت سے دُور لے جاتا ہے۔

اب ہمیں وہی حقیقت لگتا ہے، جو اسکرین پر دکھائی دیتا ہے۔ تحقیق و تجسّس کا رجحان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ نِت نئے ٹرینڈز ہی ہماری رائے سازی کر رہے ہیں۔ واضح رہے، مطالعے کی عادت انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے علاوہ اسے نِت نئے آئیڈیاز سے بھی سرفراز کرتی ہے، جب کہ اسکرولنگ ایک لَت ہےاور کوئی بھی لَت بالآخر غلامی تک لے جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ’’مَیں نےموبائل فون خرید لیا ہے‘‘ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ موبائل فون نے ہمیں خرید لیا ہے۔ 

اِسی موبائل فون کی بدولت ہی مصنوعات ساز اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں نے ہمارے وقت، توجّہ اور ہماری روحانی و ذہنی توانائی کو اپنے منافعے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم خود کو صارف سمجھتے ہیں، جب کہ درحقیقت ہم ’’پراڈکٹ‘‘ ہیں۔ جب گھر بیٹھا بچّہ والدین سے زیادہ یوٹیوب سے سیکھے، جب میاں بیوی ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے بھی الگ الگ دُنیائوں میں گُم ہوں اور جب دوست ایک ہی میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کی بجائے موبائل فون سے ’’باتیں‘‘ کر رہے ہوں، تو سمجھ جائیں کہ بگاڑ قلب وذہن تک اُترچکا ہے۔

بہرکیف، یہ تحریر خاص طور پراُن لوگوں کے لیے ہے، جو ابھی بھی سوچ، سمجھ اور احساس رکھتے ہیں، جو اسکرین کےقیدی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے مالک بننا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے، زندگی کے اصل رنگ موبائل فون اسکرینز کی چمک دمک میں نہیں، فطرت سےقربت میں پوشیدہ ہیں۔ پرندےتب بھی گاتے ہیں، جب موبائل فون خاموش ہوں۔ دھوپ تب بھی نکلتی ہے، جب وائی فائی بند ہو۔ محبت تب بھی موجود ہوتی ہے، جب نیٹ ورک نہیں ہوتا۔ تو پھر کچھ دیر کے لیے موبائل فون کو خود سےدُوررکھ کراپنے دِل کی دھڑکن سُنیں۔

اپنی سانسوں کی آہٹ محسوس کریں۔ اپنے اردگرد موجود لوگوں کے چہروں کی جانب دیکھیں۔ اُن سے باتیں کریں۔ ہنسیں، چلیں پھریں، پڑھیں، سوچیں اور زندہ رہیں۔

یاد رہے، موبائل فون زندگی کا حصّہ رہے، زندگی موبائل فون کا حصّہ نہ بنے، کیوں کہ آخرت میں سُرخ رُو وہی انسان ہوگا، جس نے دُنیا کی چمک دمک میں بھی اپنی رُوح کی روشنی بچا لی۔ تو آئیں، آج ہی یہ فیصلہ کریں کہ ہم اسکرین کے غلام نہیں، اپنی زندگی کے مالک ہیں، کیوں کہ زندگی ٹک ٹاک اور اسٹیٹس کا نہیں، دِل کی دھڑکن، لمس اور احساس کا نام ہے۔ اگر ہم نے اب بھی خُود کونہ بچایا، تو آنے والی نسلیں صرف چلتی پھرتی اسکرینز ہی ہوں گی، انسان نہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید