• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ کے بعد لرزشِ بعدی (آفٹر شاکس) کا سامنااور امن کی راہوں پر چلتے ہوئے منزل تک پہنچنے کیلئے صرف سرکاری بیانیوں یا رسمی انکشافات پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔ پس لرزہ ہا اثرات اور امکانات کی پرتیں اتارنی پڑتی ہیں۔ جنگ بندیوں کے خاموش اور گونجتے اعلانات کی سرجری بہت کچھ بتایا کرتی ہے کہ بعد از جنگ کہیں نئے خدشات اور کبھی نئے جغرافیے جنم لیتے ہیں۔ ثالثین اور جنگجوؤں کے سفارتی امتحانات کا نتیجہ عالمی نوٹس بورڈ پر چسپاں ہوتا ہے۔ جہاں کئی نئے جوڑ جُڑتے ہیں وہاں کئی ناتے ٹوٹتے بھی ہیں۔ کوئی ایکسپوز اور کوئی کمپوز ہوتا ہے۔

واشنگٹن کے سرکاری بیانیے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جان میر شائمر (امریکی تجزیہ کار/ پروفیسر) اور اسٹیفن والٹ ( ماہر بین الاقوامی امور/ ہارورڈ پروفیسر) جیسے غیرجانبدارتجزیہ کاروں کےتجزیوں پر غور کریں تو تصویرمختلف دکھائی دیتی ہے۔میرشائمر کے مطابق ایران امریکہ و اسرائیل جنگ میں اسرائیل کو تزویراتی شکست ہوئی ہے، اسی طرح کرنل ڈگلس میک گریگر (امریکی وزیر دفاع کے سابق مشیر)کا تجزیہ ہے کہ امریکی ایئر فورس کے غبارے سے ہوا نکلتی دکھائی دی ہے۔اسی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس کا تجزیہ دیکھیں یا رابرٹ پیپ (مشیر پینٹاگون/ پروفیسر) کے عسکری تبصرے پر غور کریں تو سبھی اس پر متفق ہیں کہ یہ عارضی جنگ بندی ایک مصلحت ہے، کیونکہ عاقبت نااندیش مشیران نے جس آگ کو ہوا دی تھی، وہ اب انکے اپنے گھروں تک جا پہنچی ہے۔جہاں تک نیتن یاہو کا معاملہ ہے یہ عارضی جنگ بندی اس کے کسی رحمدلانہ طرز سے متعلق نہیں بلکہ اس کے دلدل میں پھنسنے کا شاخسانہ ہے۔ حماس کو کمزور کرنے اور بڑھکوں کے شرمندہ تعبیر نہ ہونے کی پاداش میں اس نے ایک Pauseلیا ہے کہ نئی صف بندی کر سکے کیونکہ ایران کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری طرف نابالغ مشیران کی مان کر امریکہ کا جو نقصان ہوا ہے وہ یہ کہ وہ اپنی عالمی اعتباریت کھوتا دکھائی دیتا ہے۔ ویتنام کی دلدل سے مشرق ِوسطیٰ کے راستوں تک امریکی تکبر کا سیلف کروڈنگ سسٹم بننا امریکہ کو دعوت دیتا ہے کہ وہ نابالغ مشیران کو چھوڑ کر اپنے گریبان میں جھانکے۔ امریکہ کو ایک فائر فائٹر پکارنے والا رچرڈ ہاس (معروف امریکی سفارتکار) کہتا ہے کہ گِرتی ہوئی کارکردگی اور مٹتی ہوئی اخلاقیات کا جائزہ لینا امریکہ پر فرض ہو چکا۔ ایرانی نژاد امریکی ماہر ولی رضا نصر کا کہنا ہے کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل سے جنگ لڑے بغیر بھی امریکہ و اسرائیل کی برتری کو چیلنج کر سکتا ہے۔ گویا جنگ بندی نے ایرانی اسٹرٹیجک صبر کو درست حکمت عملی ثابت کر دیا۔ ایم ایس این بی سی کے میڈیا ماہرین نے نابالغ پیٹ ہیگستھ ( سابق فوجی و امریکی وزیر دفاع) کی عسکری سوچ کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ اس سے اب سبق سیکھے کہ فضائیں اب محض اسرائیل اور امریکہ ہی کی ملکیت نہیں رہیں۔

چلیں مان لیا کہ امریکی و اسرائیلی تکبر وہ برہنہ لباس ہوئے جو انہیں ڈھانپنے سے قاصر ہیں لیکن ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جنگ بندی والا امن، انسانیات کے امن کا محض خواب ہی نہ بنے، یعنی یہ خواب محض ایک جنگی حکمت عملی بن کر نہ رہ جائے؟پورے عالم کا اس پر اتفاق ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے دانستہ معیشت کو نشانہ بنایا کہ پوری دنیا معاشی طور پر ہراساں ہو اور ان کی دھاک جمے! بہرحال، بروکنگز انسٹی ٹیوشن سے لیکر سی ایف آر ( کونسل آن فارن ریلیشنز) تک سب اس جنگ بندی نما جنگی وقفے کو’نازک وقفہ‘ باریک واردات قرار دیتے ہوئے کسی زلزلے سے قبل کی خاموشی گردان رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ مشیران کی منشا ہے جنگوں کے نقشے بنائیں اور کوڑھ کی کاشت والے براؤن کیپٹلسٹ بارود کی تجارت سے اپنی تجوریاں بھریں ۔ بات شاید اِدھر اُدھر ہو جائے لیکن چشم فلک گواہ ہے کہ سِول بیوروکریسی ان جنگوں سے بھی واقعتاً استفادہ کرنے، حکومتوں کو بےوقوف بنانے اور الگ سے معاشی نقصان بڑھانےسے باز نہیں آتی۔

اسٹرٹیجک اور اخلاقی فاتح چین نے اس جنگ میں توانائی کی ترسیل میں تعطل سے نقصان ضرور اٹھایا مگر عالمی امن کا پیامبر بنا۔ یہ بھی ثابت کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اب واشنگٹن کی جاگیر نہیں۔ ایران و سعودیہ کو ایک میز پر بٹھانے میں چائنہ کاخاموش کردار اور پاکستان کا جاندار و شاندار سفارتی کردار تاریخ کا سنہری باب بنا۔ چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کیلئے ایک محفوظ راستہ دوبارہ بحال کرایا۔ پھر بھارت میں سابق امریکی سفیر اور ماہر جنوبی ایشیا رابرٹ بلیک ویل کے مطابق چین نے بغیر ایک گولی چلائے مشرقِ وسطیٰ میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو امریکہ دہائیوں کی جنگوں اور اسلحوں کے بیوپار کے بعد بھی حاصل نہ کر سکا ۔ پاکستان کو دہشت گرد کہنے والا بھارت اس جنگ میں سفارتی تنہائی والا ملک رہا، بڑی طاقت ہونے کے باوجود دیوار سے لگا رہا مگر پاکستان عالمی امن کا سفیر بن گیا۔ پس چین اور پاکستان سافٹ پاور کی معراج تک جا پہنچے۔ بقول امینوئل لیونٹ ( فرانسیسی پروفیسر) چین تو گلوبل آرکیٹیکٹ بن چکا۔ بمطابق بروکنگز انسٹی ٹیوشن ماہرین، جو بھارت یوکرین جنگ میں انسانی حقوق کی بات کرتا وہ غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں ظالم اسرائیل کی جانب ہو کر انسانی حقوق کے تناظر میں مشکوک اور مضطرب کہلایا۔ بھارتی دانشوروں نے مودی حکومت کی پالیسی کو خطرے کی گھنٹی کہا۔پرتاپ بھانو مہتا نے صاف کہا کہ بھارت اسرائیل نواز ہے۔ ایران پالیسی فقدان سے اب بھارت کو معاشی دھچکا لگے گا۔چا بہار پورٹ پراجیکٹ سرمایہ کاری کے فوائد کا رخ بھٹکنے کا اندیشہ پیدا ہو چکا۔ خلیج میں 80 لاکھ بھارتیوں کی قدر و قیمت میں کمی ایک بڑا بھارتی معاشی دھچکا ہو گا ، ایران کے ساتھ بگاڑ سے پٹرولیم قیمتوں میں اضافی بحران ہوگا۔ بھارتی مُہرے پِٹ گئے ، بساط بکھر گئی، اندیشے بڑھ گئے اسٹرٹیجک خود مختاری الگ پاش پاش ہوئی۔

اس عارضی جنگ بندی کو اب مستقل جنگ بندی میں بدلنے کی ذمہ داری پاک ـ چائنہ منصوبہ بندی کا امتحان تو ہے لیکن قیام امن میں سرخرو ہونے کیلئے اقوام عالم پاک چائنہ کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے بےتاب بھی ہیں۔ دونوں ممالک لرزشِ بعدی سے نمٹنے کی صلاحیت بہرصورت رکھتے۔ بھلے ہی، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!

تازہ ترین