• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلی عالمی جنگ اور سلطنتِ عثمانیہ کی شکست و ریخت

انیسویں صدی کےاواخرمیں سلطنتِ عثمانیہ اور انگریزوں کے مابین مخاصمت وعداوت پیدا ہو چُکی تھی، جب کہ اِس سے قبل انگریزوں اور تُرکوں نے متّحد ہوکررُوس کی عالمی چوہدراہٹ کو خاصا نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم، تُرکوں کی معاونت وحمایت کے باوجود انگریز حُکم رانوں نے اپنی روِش تبدیل نہ کی اور طرابلس و بلقان کی جنگوں میں تُرکوں کےدشمنوں کا کُھلم کُھلا ساتھ دیا۔

برطانیہ کےاِسی طرزِعمل سے بددِل ہو کرسلطنتِ عثمانیہ نےجرمنی سے روابط استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب پہلی عالمی جنگ شروع ہونے سے قبل ہی برطانیہ، امریکا اور رُوس کےدرمیان خلافتِ عثمانیہ کی شکست و ریخت کی صُورت میں اِس کے زیرِنگیں علاقے آپس میں بانٹنے کا ایک خفیہ معاہدہ طے پا گیا تھا اور اِس ضمن میں عالمی طاقتیں کسی مناسب موقعے کی تلاش میں تھیں، جو بالآخر اُنہیں مل ہی گیا۔

تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ جرمنی کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر برطانیہ، فرانس، رُوس اور یورپ کے چھوٹے بڑے ممالک، جیسا کہ اٹلی اور سربیا نے باہمی تعاون کیا،جب کہ دوسری طرف اُن کے مدِمقابل جرمن اور تُرک تھے۔ ابھی یہ بلاکس بن ہی رہے تھے کہ 28جون 1914ء کو ایک سربین دہشت گرد کے ہاتھوں آسڑیا کے شہزادے، فرانز فرڈی نینڈ کا قتل ہوگیا اور پھر 28جولائی کو آسٹریا نے سربیا کےخلاف طبلِ جنگ بجا دیا۔ ایسے میں، اِس کے اتحادی، جو پہلے ہی موقعے کی تلاش میں تھے، جنگ میں کُود پڑے اور یوں پہلی عالمی جنگ کا باقاعدہ کا آغاز ہوگیا۔

اس جنگ کی شروعات میں تُرکوں نے کام یابیوں کے جھنڈے گاڑے اور قسط المارہ اور گیلی پولی کے میدان میں برطانوی افواج کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا، جب کہ دوسری طرف آسٹریا اور اُس کی حلیف جرمن افواج، ہالینڈ اور بیلجیم کی فورسز روندتے ہوئے تیزی سے فرانس کی جانب پیش قدمی کررہی تھیں۔ جرمنز نے فرانس پرحملہ آور ہونےکےلیے جو منصوبہ تیار کیا تھا، اُس کے تحت فرانس کے شمالی ساحل کی جانب سے فرانسیسی دارالحکومت، پیرس پر حملہ کیا جانا تھا۔

فرانسیسی جرنیل اس منصوبے کو بھانپ نہ سکے اور انہوں نے اپنی مشرقی سرحد سے جرمن افواج پر حملہ کر دیا۔ چُوں کہ یہ حملہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر ہی کیا گیا تھا، لہٰذا جرمنز نے، جو پہلے ہی گھات لگائے بیٹھے تھے، فرانسیسی افواج پر ایک بھرپوروار کیا اور اُنہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا،جب کہ دوسری طرف انگریز اپنے روایتی مکروفریب سے تُرکوں کے خلاف دوسری اقوام خاص طور پرعربوں کو اُکسانے لگے۔

دوسری جانب انگریز افواج کی جرمن فورسز کے خلاف لڑنے کی سکت ختم ہونے لگی اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ پیرس چند ہی دِنوں میں جرمنز کے ہاتھ چلا جائے گا، مگر عین وقت پر ایک بہادر اور نڈر فرانسیسی جرنیل نمودار ہوا، جس نے جرمنز پر کاری ضربیں لگائیں اور اس کے بعد جرمن فوج کی پیش قدمی رُک گئی۔

اُدھر برطانوی سازشیں رنگ لائیں اور انگریزوں کو عثمانیوں کے خلاف کام یابیاں حاصل ہونے لگیں اور پھر مسلمانوں کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن بھی آگیا کہ جب عراق و شام کے ساتھ بیت المقدس بھی عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل کر اتحادیوں کے قبضے میں چلا گیا اور پھر جرمنی کی شکست پر پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔

تُرکوں کے لیے اس جنگ کا نتیجہ خاصا بھیانک نکلا۔ پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کے حلیف ہونے کے باعث عثمانی حُکم ران، سلطان عبد الحمید ثانی کو بہت بھاری قیمت چُکانی پڑی۔ انگریزوں کے اُکسانے پرعربوں نے قومیت کی بنیاد پرتُرکوں سے لڑائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی خلافت کا شیرازہ بکھرگیا اور کئی ریاستیں سلطنتِ عثمانیہ سے الگ ہو کر دوسری مملکتوں میں تقسیم ہوگئیں، جب کہ سلطنت کے باقی حصّے پر انگریزوں نے قبضہ جما کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور اس طرح بیسویں صدی کی شروعات ہی میں عثمانیوں کا زوال ہوگیا، لیکن اس کے باوجود بھی انگریزوں کے دِل میں بھڑکتی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی اور نوازئیدہ تُرکی پر ’’معاہدۂ سیورے‘‘ کی ذلّت آمیز شرائط مسلّط کی گئیں اور سلطان عبد الحمید ثانی کو نظربند کردیا گیا۔ 

معاہدۂ سیورے کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کو تمام عرب علاقوں سے محروم کردیا گیا اور حجازِ مقدس میں ایک خُود مختار حکومت تسلیم کر لی گئی۔ بعدازاں، اِسی ذلّت آمیز معاہدے کے ردِعمل کے طور پر مصطفیٰ کمال اتاتُرک کی قیادت اُبھر کر سامنے آئی۔

ا پہلی عالمی جنگ میں، جو 1914ء سے 1919ء تک پانچ سال جاری رہی، تقریباً ایک کروڑ فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے۔ جنگ کے دوران جولائی 1916ء میں ایک دن کے اندر سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ دورانِ جنگ برٹش ملٹری کےتقریباًپچاس ہزارفوجی مارے گئے اور فرانس کو اپنی فوج کے 16فی صد سپاہیوں سے محروم ہونا پڑا۔ 

نیز، اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باعث ’’اسپینش فلو‘‘ نامی وبا بھی پھیل گئی۔11نومبر1918ء کو مغربی محاذ پر یہ جنگ بند ہوگئی۔ رسوائی کے پے در پے واقعات کے بعد تُرکی نے پلٹا کھایا اور غیّور تُرکوں نے ’’معاہدۂ سیورے‘‘ کی ذلّت آمیز شرائط تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

بعد ازاں، مصطفیٰ کمال اتاتُرک کی قیادت میں تُرکوں نے یونانیوں کو اپنے مُلک سے نکال باہر کیا اور سلطان عبد الحمید ثانی کو اس تمام ترصُورتِ حال کا ذمّے دارقرار دیتے ہوئے سوئٹزرلینڈ جِلاوطن کردیا گیا۔ 1923ء میں یونان میں تُرکوں اور انگریزوں کے درمیان معاہدہ طے پایا اور انگریزوں نے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے قسطنطنیہ سے اپنی افواج واپس بُلا لیں۔ بالآخر 1924ء میں تُرکی سے خلافت کا خاتمہ ہوگیا، جمہوریت نافذ کردی گئی اور مصطفیٰ کمال اتاتُرک کو تُرکی کا پہلا صدر منتخب کر لیا گیا۔

سنڈے میگزین سے مزید