• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(تجربات، مشاہدات اور تجزیات)

مصنّفہ: ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر

صفحات: 243، قیمت: 2000روپے

ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔

فون نمبر: 0515101 - 0300

زیرِ نظر کتاب کی مصنّفہ میڈیا اور ابلاغیات کی دنیا کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ اُنہوں نے الطاف حسن قریشی اور عرفان صدیقی جیسے مستند صحافیوں سے رہنمائی حاصل کی اور دنیائے صحافت میں نام پیدا کیا۔ صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت ِ پاکستان نے اُنہیں ’’صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی‘‘ سے نوازا۔ 

اُنہوں نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے علاوہ کئی اہم اخبارات میں کالم نگاری کی اور زیرِ نظر کتاب اُن کالمز ہی کا مجموعہ ہے، جو اُنہوں نے ایک قومی اخبار میں تواتر سے لکھے۔ 

ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر کو قومی سیاست سے بہت دل چسپی ہے، لیکن اُنہوں نے اپنے کالمز کا موضوع زیادہ تر سماجی و معاشرتی مسائل ہی کو بنایا۔ صحافت اور تدریس کے شعبوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے اُنہیں تعلیم اور میڈیا سے متعلق معاملات سے بھی دل چسپی ہے۔ نیز، خواتین کے مسائل پر لکھنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ سو، زیرِ نظر کتاب میں کھیلوں، انسانی حقوق، نوجوانوں کے مسائل اور دیگر سماجی موضوعات پر بھی کالم مِل جائیں گے۔

عہدِ حاضر کے نہایت مستند اور معتبر صحافی، الطاف حسن قریشی کی یہ تحریر مصنّفہ کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔’’دراصل یہ ایک ایسی کتاب ہے، جسے صِرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے اور سوچنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فرد کو اُس کی ذات، معاشرے کو اُس کی ساخت اور قوم کو اُس کے اجتماعی ضمیر کا سامنا کرواتی ہے۔

یہ ایک استاد کی، ایک ماں، ایک صحافی کی اور ایک سچ کی متلاشی عورت کی آواز ہے۔‘‘ عرفان صدیقی اور آمنہ مفتی کے مضامین بھی کتاب میں شامل ہیں، جب کہ کتاب کا انتساب عرفان صدیقی کے نام کیا گیا ہے، جن کی ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کو مشفقانہ سرپرستی حاصل رہی۔

سنڈے میگزین سے مزید