مصنّف: رفیع مصطفیٰ
صفحات: 432، قیمت: 3000روپے
ناشر: عکس
زیرِ نظر کتاب کے مصنّف، ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ کا بنیادی تعلق شعبۂ تعلیم سے ہے۔ اُنہوں نے پاکستان، سوڈان، برطانیہ اور کینیڈا کی مختلف جامعات میں تدریس اور تحقیقی خدمات انجام دیں۔ یونی ورسٹی آف برٹش کولمبیا سے 1969ء میں کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کیا۔ اُن کے زیرِ نظر ناول کی کہانی پاکستان کے سنہری دَور کا روشن منظر نامہ ہے۔ اگرچہ اِس کہانی کے بیش تر کردار مسیحی ہیں، مگر اُن کی انفرادی حیثیت بھی ہے۔
یہ ناول ایک منفرد فکری و جذباتی سفر ہے، جو قاری کو محض کرداروں کی کہانی نہیں سُناتا، بلکہ اُس کی اپنی ذات کے اندر جھانکنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ یہ ایک طرف ذاتی محبّت، مذہبی شناخت اور معاشرتی کش مکش کی کہانی ہے، تو دوسری طرف بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک سچّی جستجو بھی ہے۔
اِس ناول کے کچھ حصّے آن لائن میگزین’’ہم سب‘‘ میں اپریل2024ء اور جنوری2026ء کے درمیان شائع ہوئے۔ کچھ کہانیاں خاموشی سے، آہستہ آہستہ دل کے اندر اُتر جاتی ہیں اور پھر نکلنے کا نام نہیں لیتیں، زیرِ نظر کتاب بھی ایک ایسی ہی داستان پر مشتمل ہے۔ انسان کے اندر چُھپی کش مکش کی داستان، جہاں ہر چہرہ اپنے اندر ایک راز رکھتا ہے اور ہر خاموشی کے پیچھے ایک فیصلہ سانس لیتا ہے۔
یہ ناول قدم قدم پر احساس دِلاتا ہے کہ اصل کہانی وہ نہیں، جو دِکھائی دیتی ہے۔ اصل کہانی وہ ہے، جو چُھپائی جاتی ہے اور جب پردہ اُٹھتا ہے، تو ہر کردار اپنی اپنی صلیب کے ساتھ سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ کوئی اسے نبھاتا ہے، کوئی اِسے چُھپاتا ہے اور کوئی اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ناول آخر تک ساتھ رہتا ہے، کیوں کہ اس میں جواب کم اور سوال زیادہ ہیں۔ تجسّس یہی ہے کہ وہ کون سا راز ہے، جو ایک رشتے کو تقدیر سے ٹکرا دیتا ہے۔