شاعر: عبیداللہ ساگر
صفحات: 360، ہدیہ: 1000 روپے
ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز، نوشین سینٹر، اُردوبازار، کراچی۔
فون نمبر: 2849049 - 0314
بزرگ شاعر عبیداللہ ساگر کی زیرِ نظر کتاب حمدوں، نعتوں اور مناقب پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب قمر وارثی، رونق حیات، معتبر شاہ جہان پوری، مقبول زیدی، ڈاکٹر نور سہارن پوری، شارق رشید، نعیم انصاری اور محمد اکرام اکرم کے مضامین سے آراستہ ہے۔ عبیداللہ ساگر نے اپنے ادبی سفر کا آغاز غزل سے کیا اور اب بھی غزل اُن کے لیے شجرِ ممنوعہ نہیں، لیکن اب اُن کا رجحان تقدیسی شاعری کی طرف زیادہ ہے۔
عموماً ’’عروض‘‘ میں’’مبتلا‘‘ شعراء کی شاعری، فکری آہنگ سے بے نیاز ہوجاتی ہے، لیکن عبیداللہ ساگر فن اور شاعری کو ساتھ ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ مشکل زمینوں کا انتخاب اور مضامینِ نو بہ نو کا انضمام کوئی معمولی بات نہیں۔ اُنہوں نے زمینوں کی نفاست اور مضامین کی نزاکتیں پیشِ نظر رکھتے ہوئے فکری بلاغت اور الفاظ کی طہارت سے کام لیا ہے۔
عبیداللہ ساگر بلاشبہ استاد شاعر ہیں، اُنہوں نے قرآنِ پاک کی کئی سورتوں کو بھی شعری قالب میں ڈھالا ہے، اِس سے بھی اُن کی علمی بصیرت اور فکری تنوّع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ اِس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی ذات و صفات کا تذکرہ جہاں پُرخلوص عقیدت و محبّت، پاکیزہ لفظی اور طہارتِ فکروفن کا متقاضی ہے، وہیں اس پر کاربند رہنا بھی جزوِ لازم ہے۔
وہ اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اِس مقدّس صنفِ سخن کا تقدّس پیشِ نظر رکھے بغیر وہ مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا، جو قبولیت کی منزل تک لے جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نعت کا تقدّس کسی بھی نعت گو کے لیے قدرِ اوّل کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ نعت گوئی، تزکیۂ حیاتِ فکر و فن کا اہم حصّہ ہے۔