بلقیس متین، کراچی
سحرخیزی کا مطلب ہے، صُبح سویرے جاگنا۔ سحر کے لفظی معنی کسی پوشیدہ شے کے ہیں اور صُبحِ صادق کو اِسی لیے سحر کہتے ہیں کہ وہ رات کے اندھیرے میں رُوپوش ہوتی ہے۔ عربی زبان میں طلوعِ شمس سے کچھ پہلے کا وقت ’’سحر‘‘ کہلاتا ہے اور سحر خیزی کا مطلب ہے کہ علی الصباح یا منہ اندھیرے اُٹھنا۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ صبح سویرے بےدار ہو کر تمام چرند پرند اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور پھر اپنے رزق کی تلاش میں روانہ ہو جاتے ہیں۔
اسلامی معاشرے میں سحر خیزی کو خوش بختی و سُرخ رُوئی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسلامی و مشرقی روایات کے مطابق علی الصّباح جاگنا اور جگانا ایک مبارک اور قابلِ قدر فعل ہے، لیکن افسوس، صد افسوس کہ آج ہم نےاس مبارک عمل کو یک سر فراموش کردیا ہے اور رات بھر جاگنا، دن چڑھے تک سوتے رہنا گویا ہمارا معمول بن گیا ہے۔
یعنی ہم نے خود اپنے ہاتھوں خوش بختی کو بدبختی، برکت کو نحوست میں بدل ڈالا ہے، جس کا نتیجہ ہم معاشرے میں انتشار، بدامنی، گھریلو جھگڑوں، نااتفاقی، نفاق، بے برکتی اور اولاد کی نافرمانیوں کی صُورت بُھگت بھی رہے ہیں۔ ذیل میں سحرخیزی کے فوائد اور رات دیر تک جاگنے اور صُبح دیر سے اُٹھنے کے کچھ نقصانات بیان کیے جا رہے ہیں۔
صُبح جلد اٹھنے کے فوائد (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
ہمارے لاشعور کی مرمّت کرنے والا نظام فطری طور پر صرف رات کی تاریکی ہی میں فعال ہوتا ہے۔ دن کے وقت ہم کمرا بند، لائٹس آف اور کھڑکیوں کے آگے پردے ڈال کر رات کا منظر تو پیدا کرسکتے ہیں، لیکن یہ اندھیرا اور خاموشی کسی طور بھی رات کی قدرتی تاریکی اور سُکون کا نعم البدل نہیں ہوسکتی، بلکہ اس طرح ہم محض خود کو دھوکا دینے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔
دینِ اسلام، دینِ فطرت ہے اور اِسی لیے ﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے سحر خیزی کے ساتھ تمام دُنیاوی واُخروی برکات کو منسلک کیا ہے۔ سحر خیزی نہ صرف طبّی و نفسیاتی اعتبار سے مفید ہے بلکہ یہ عمل انعاماتِ اُخروی کے حصول کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ رات کو جلدی سونے اور صبح جلد بےدار ہونے کی تاکید پندرہ سوسال قبل کی اسلامی تعلیمات میں نمایاں طور پر موجود ہے۔
1۔ برکات کا نزول: ہمارے نبیٔ کریم حضرت محمّد ﷺ نے صُبح کے وقت میں برکت کے لیے یہ دُعا فرمائی۔’’اے اللہ! میری اُمّت کے لیے اُن کی صُبح کے وقت میں برکت دے۔‘‘ (ابوداؤد، ترمذی) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صُبح جلدی اٹھنا روزمرّہ معمولات میں برکت، کام یابی اور رزق میں وسعت کا باعث بنتا ہے۔
2۔ ذہنی اور جسمانی استعداد میں اضافہ: قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’اور ہم نے دن کومعاش کے لیے بنایا۔‘‘ (سورۃ النباء11:) صبح کا وقت معاشی و جسمانی سرگرمیوں کے لیے بہترین وقت ہے، جس سے انسان کے جسم و دماغ کو فائدہ اور اُن کی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
3۔ عبادت اور ذکر کا بہترین وقت: اللہ تعالیٰ نے صُبح کے وقت ذکر کرنے کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا۔’’اور اپنے ربّ کا صُبح و شام ذکر کیا کرو۔‘‘(سورۃ الاعراف، 205)
اللہ نے رات کو سُکون، سجدے اور شفایابی کے لیے بنایا، جب کہ صُبح کا وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر کا بہترین وقت ہے، کیوں کہ اس کے بعد انسان اپنے دن بھر کے معمولات میں مشغول ہوجاتا ہے اور اس کے لیے خصوصی اذکار کے لیے وقت نکالناخاصا مشکل ہوجاتا ہے۔
رات دیر تک جاگنے کے نقصانات (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
رات دیر تک جاگنے کے بے شمار نقصانات ہیں، جن میں جلدی بوڑھا ہونا، یادداشت کم زور ہونا، جسم کے مدافعتی نظام کا تباہ ہوجانا، مشکلات میں پست ہمتی کا مظاہرہ کرنا، قوّتِ فیصلہ کا متاثر ہونا، دُرست فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی، بات بات پر غُصّہ آنا، ڈیپریشن اور اینزائٹی سمیت دیگر بہت سے نفسیاتی عوارض شامل ہیں۔
1۔ اللہ کے ذکر اور نماز میں غفلت: خاتم النبیین حضرت محمّدﷺ نے رات کو جلدی سونے اور صُبح نمازِ فجر کے لیے اُٹھنے کی ترغیب دی ہے۔ اِس ضمن میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عشاء کی نماز کے بعد جلد سونے اور فجر کے وقت اُٹھنے کو پسند فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
رات دیر تک جاگنے سے انسان کے سُکون و آرام کا وقت ضائع ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ اللہ کے ذکر اور عبادت میں بھی کمی آتی ہے۔
2۔ دُنیاوی اور اُخروی کام یابی سے محرومی: اللہ تعالیٰ نے رات کو آرام و سُکون کا وقت قرار دیا ہے۔ اِس ضمن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’اور ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا۔‘‘ رات بَھر جاگنے اور دن میں دیر تک سوئے رہنے کی صُورت انسان جہاں بہت سے دُنیاوی امور میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتا ہے، وہیں یہ عادت عبادات میں کوتاہی کے سبب اُسے اُخروی کام یابی سے بھی محروم کر دیتی ہے۔
3۔ نمازِ فجر سےغفلت و لاپروائی: رات کو دیر تک جاگنے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے نتیجے میں اکثر لوگ نمازِ فجر سے غافل ہو جاتے ہیں اور نماز کے وقت بھی سوئے رہتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔’’بے شک نماز مومنوں پر وقتِ مقرّرہ پر فرض کی گئی ہے۔‘‘(سورۃ النساء 103)۔
یاد رہے، فرد ہی قوم کی بنیاد ہوتا ہے اور فرد کی کام یابی، پوری قوم کے عروج اور ناکامی، پوری قوم کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا، ہمیں فطرت کے قوانین کی مکمل پاس داری کرنی چاہیے، کیوں کہ اِسی میں ہماری بقا ہے۔