• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوشیاں، مسرتیں بانٹیں، سدا دل کش و جوان رہیں

محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ

مَن موہنی صُورتیں ضروری نہیں کہ گوری چٹّی ہی ہوں، وہ سانولی سلونی، گندمی رنگت کی حامل بھی ہو سکتی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دل جیتنے کے لیے صرف رنگت اور اعضاء کا تناسب ہی فیصلہ کُن نہیں ہوتا، کچھ اور صفات و خصوصیات بھی، جنہیں شاعری کی زبان میں ’’ادائیں‘‘ کہا جاتا ہے، نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔

لُطف کی بات یہ ہے کہ یہ خصوصیات یا دِل کشی کے اصول اور یا پھر مَن موہ لینے کے راز دراصل وہ نکات ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر خانگی و سماجی زندگی میں محبّت و مسرّت کی پائے دار بنیادیں رکھی جاسکتی ہیں۔ آپ نے محاوہ ’’ایک پِنتھ، دوکاج‘‘ تو سُنا ہی ہوگا، چلیں اگر آپ کو یہ پسند نہیں، تو ’’ایک تیر سے دو شکار‘‘ کے مصداق ہم اس مضمون میں سدا جوان ودِل کش رہنے کے کچھ راز آشکارا کیے دیتے ہیں۔

کچھ ایسے لوگ ہم سب کے مشاہدے میں ضرور ہوں گے کہ جو عُمر رسیدگی کی جانب مائل ہوتےدکھائی ہی نہیں دیتے۔ ہمیشہ حسبِ سابق، حسبِ معمول ہی پائے جاتے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے اُنہوں نے کسی طور گردشِ ایّام کو شکست دے رکھی ہے اور بالکل محفوظ و مامون ہو کر ایک ہی ڈگر پر چلے جارہے ہیں۔ وقت کے بہتے دھارے نے اُن کے شخصیت پر کوئی نقوش نہیں چھوڑے۔ ہنستے چہرے سدا باطنی تازگی کا اظہار کرتے ہیں۔

اگر کوئی حیرت وتجسّس کے مارے اُن سے اِس سدابہار جوانی کا راز پوچھے، تو کئی قسم کے جوابات سامنے آتے ہیں۔ مثلاً ’’اچّھی اور گہری نیند‘‘، ’’کھانے پینے میں احتیاط‘‘، ’’تمباکو نوشی سمیت دیگر لغویات سے پرہیز‘‘، ’’ورزش‘‘ یا ’’کُھلی فضا میں وقت گزارنا‘‘ وغیرہ۔ بعض اوقات ان میں سے کوئی ایک سبب بتایا جاتا ہے اور بعض صُورتوں میں تمام ہی۔

لُطف کی بات یہ ہے کہ بعض افراد مذکورہ اسباب کی بجائے سدا دِل کش رہنے کا راز بےنیازی و بے فکری کی زندگی کو بھی قرار دیتے ہیں، جب کہ سچ تو یہ ہے کہ سدا جوان رہنے کے راز سے شاید جواب دینے والے خُود بھی آگاہ نہیں ہوتے، بس نادانستگی یا خوش قسمتی سے پا کر حرزِجاں بنالیتے ہیں۔

درحقیقت، چہروں کی بشاشت، تازگی وہ عکس ہے، جو انسان کی رُوح سے نمودار ہو کر رُخساروں سے جھلکتا ہے۔ گرچہ ایسے افراد کا تعلق مختلف طبقات اور پیشوں سے ہوتا ہے، مگر ان کی مشترکہ خاصیت یہ ہےکہ وہ خوش وخُرّم رہتے ہیں اور یہ محض اُن کی مزاج کی نرمی و ملائمت، شفقت و محبّت ہی ہے، جو سُرخی و سپیدی کی صُورت اُن کے چہروں سے امنڈتی محسوس ہوتی ہےجب وہ کُھل کر مُسکراتے ہیں، تو چہروں کے سب داغ دھبے، جھریاں، جھائیاں یک سر غائب ہوجاتی ہیں۔

اچّھی طرح جان لیجیے کہ مسرّت و خوشی ایسی بہار ہے، جو ایک شفیق دِل سے اُبھرتی اور پھر پورے وجود کو تازگی بخشتی ہے اور یہی سدا برقرار رہنے والی دل کشی وجوانی کا راز ہے۔ اگر ہم دوسروں کے ساتھ شفقت و نرمی سے پیش آتے اور خوش و خرّم رہتے ہیں، تو ہمارے باطن سے زندگی کی ایک نئی،توانا لہر اُبھرتی ہے، جو پھر ہر سُو اپنے جلوے بکھیرے جاتی ہے۔ اس سے ہم نہ صرف کم عُمر دکھائی دیتے ہیں بلکہ خُود کو جوان وتوانا بھی محسوس کرتے ہیں۔

کم سنی و نوخیزی کےاعتبار سے اِس نوعیت کا رویّہ انسان کے پورے کردار کا دھارا بدل کر، دامن گوہرِ مُراد سے بھر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اُسے ہرجا سے یہی جُملے سُنائی دیتے ہیں کہ’’آپ کتنی جوان نظر آتی یا آتے ہیں۔‘‘ خُود کو اس قسم کی شخصیت میں ڈھالنے کا تمام تر انحصار یقیناً اپنے آپ ہی پر ہے اور یہی مسرّت و جوانی کا راز بھی ہے۔ بعض مَردو خواتین نے اس راز کو لاشعوری طور پر پالیا ہے، لیکن اگر آپ چاہیں، تو شعوری طور پر بھی اِن خصوصیات کواپنی ذات کاحصّہ بنا سکتے ہیں اور پھر یہ آپ کی کایا پلٹ دیں گی۔

یاد رہے، ایک خُوب صُورت، پُرکشش شخصیت کا مالک ہونے کے سبب آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ایسی صلاحیتیں پیدا ہوجاتی ہیں کہ جن کو بروئے کارلا کر اپنی تمام تر جائز خواہشات پوری کی جاسکتی ہیں۔ پُرکشش شخصیت کا مالک ہونے کی وجہ سے معمولاتِ زندگی نہایت آسان ہوجاتے ہیں۔

آپ ڈرنا،خوف زدہ ہونا، جھجکنا چھوڑ دیتے ہیں اور ان نمایاں خصوصیات ہی کے سبب لوگ آپ سے متاثر ہونے لگتے ہیں، مشاورت ورہنمائی حاصل کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔ آپ امتیازی حیثیت یا مقام کے حامل فردبن جاتے ہیں اور یہ امتیاز کتنا اچھا ہے کہ آپ دوسروں کے کام آتے، ان کی مدد کرتے ہیں۔ 

دوسروں کی مدد کےاس جذبے کو جب پورے خلوص، نیک نیّتی کے ساتھ رُوبہ عمل لایا جائے، تو بلاشبہ شخصیت میں نمایاں تبدیلیاں رُونما ہونے لگتی ہیں۔ دماغ کے بند کواڑ کُھلتے ہیں۔ تازگی کے جھونکے اندر آتے محسوس ہوتے، زندہ رہنے اور زندگی سے لُطف اٹھانے کےحقیقی معنی سمجھ آنے لگتے ہیں۔

تاہم، انسانی زندگی میں صرف خواہش ہی کافی نہیں،عمل بھی ضروری ہے۔ اگر خواہش اور کوشش ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھیں، تو بڑھتی عُمرکا پہاڑ سرک ہی جاتا ہے۔ یاد رہے، انسان ہمیشہ نشوونما پانے والی مخلوق ہے اور زندگی کے ہر مرحلے پر نئی چیزیں اور نئی دل چسپیاں وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ آج زندگی اس قدر پیچیدہ و مصروف ہوگئی ہے کہ ہمارے پاس محبتیں، شفقتیں اور مسکراہٹیں بانٹنے کاوقت ہی نہیں بچا۔

اب زمانے کے معیارات بدل گئےہیں اور ہمارے اپنے مفادات ہی ہمارے لیے اہمیت اختیار کرگئے ہیں، لیکن یہ حقیقت نہیں، بلکہ صرف ایک عذرِلنگ ہے۔ ہمارےپاس لوگوں میں پیارومحبّت اور مسرّتیں بانٹنے کا وقت اب بھی موجود ہے، لیکن ہم خود ہی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اگر خیرسگالی کا کوئی موقع ہو اور اس کے اظہار میں ٹرین مِس ہونے کا خدشہ ہے، تو ٹرین کو جانے دیں، لیکن موقع ضائع نہ کریں، کیوں کہ ٹرین پھر آجائے گی، مگر موقع شاید پھر نہ ملے اور لوگ آپ کے اس جذبے سے ضرور متاثر ہوں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید